وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے. عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا ہے .فیصلہ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے 3 صفحات پر تحریر کیا ہے. عدالت نے توہین عدالت کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے.
قبل ازیں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار سلیم اللہ خان کی درخواست پر سماعت کی جبکہ درخواست گزار وکیل سلیم اللہ خان نے اپنی درخواست کی پیروی خود کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ وزیراعظم کی تقریر سے آپ کو کیا پریشانی ہے؟ کیا آپ منتخب وزیراعظم کا ٹرائل کرانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں ایک الیکٹڈ وزیر اعظم کا ٹرائل اس عدالت میں چلے۔ انھوں نے مزید ریمارکس دئیے کہ کیا آپ اس کے نتائج سے آگاہ ہیں؟ کیا آپ وزیراعظم کو نااہل کرانا چاہتے ہیں؟ جس پر درخواست گزار نے جواب دیا کہ وزیراعظم نے عدلیہ کی تضحیک کی ہے۔ درخواست گزار کی بات پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ عدالتیں تنقید کو خوش آمدید کہتی ہیں، اس پر سلیم اللہ خان نے جواب دیا کہ تنقید اور تضحیک میں فرق ہوتا ہے۔
جس پر عدالت عالیہ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ توہین عدالت فرد اور عدالت کے درمیان ہوتی ہے، اس حوالے سے عدالت نے ایک فیصلہ جاری کیا ہے، جس پر درخواست گزار نے کہا کہ میں آفیسر آف دی کورٹ ہوں اور عدالت کو آگاہ کر رہا ہوں۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے توہین عدالت کا گرشتہ روز والا فیصلہ پڑھا ہے جس میں توہین عدالت کے حوالے سے اصول طے کر دئیے ہیں، پہلے آگاہی نہیں تھی، ابھی تو توہین عدالت کے حوالے سے آگاہی بھی ہو گئی ہے۔
بعد ازاں عدالت نے سلیم اللہ خان کی درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیاتھا، جسے بعد میں سناتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے.
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایڈووکیٹ سلیم اللہ خان نے وزیراعظم عمران خان کی اعلیٰ عدلیہ سے متعلق تقریر پر ان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ 18 نومبر کو عمران خان کی تقریر میں اعلیٰ عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے کی کوشش کی گئی۔۔وزیراعظم کی تقریر توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔ درخواست کے ساتھ تقریر کا ٹرانسکرپٹ بھی منسلک کیا گیا تھا۔ عدالت عالیہ میں دائر کی گئی درخواست میں قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button