وزیراعظم ہاؤس آڈیو لیکس میں چور اور سپاہی دونوں ملوث

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے آڈیو لیکس سکینڈل میں چور اور سپاہی دونوں ملوث ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ جیسے پاکستان چلایا جا رہا ہے اس سے واضح ہے کہ ریاست چلانے والے ذہنی دیوالیہ پن میں مبتلا ہیں لہذا انہیں ملک کے دیوالیہ ہونے یا نہ ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سینئر صحافی کہتے ہیں کہ پاکستان میں ملک ٹوٹنے سے لیکر، کارگل جنگ، انتخابی نتائج کے الیکٹرونک نظام کے اچانک بیٹھنے، بیک ڈور ریجیم چینج، چیف آف سٹاف، ججوں اور وزرائے اعظم کی اپنے اور بیرونی مہمانوں سے گفتگو، اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور جبری غائب کیے جانے والے ہزاروں افراد سمیت ہر المیے اور سکینڈل کا ایک ہی علاج ہے کہ ’دفع کرو، مٹی پاؤ، تے اگے ودھ جاؤ’۔ انکا کہنا ہے کہ ہم ہر بار درخت سے گر کر کپڑے جھاڑتے ہوئے یہ کہتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوا چیونٹی مر گئی، چیونٹی مر گئی۔ لیکن سچ تو یہی ہے کہ جس طرح کارِ ریاست چلایا جا رہا ہے ایسے تو کسی سرکاری سکول کا نظام چلانے پر ہیڈ ماسٹر بھی معطل ہو جاتا ہے۔ اس طرح تو بچے اپنے کھلونے بھی صحن میں نہیں چھوڑتے۔ ایسے تو فقیر بھی اپنی کٹیا کا دروازہ کھلا نہیں چھوڑتا کہ کہیں کوئی کتا بلی اندر آ کر برتن میں منہ نہ ڈال دے۔
اس طرح تو اپنے کپڑے بھینگھر کی بالکنی پر نہیں سکھائے جاتے۔ اس طرح تو کوئی تھکا ہارا نوجوان گلی میں موٹرسائیکل کو بھی لاک کے کھڑا نہیں کرتا۔ ایسے تو کوئی کریانہ فروش بھی دکان کھلی چھوڑ کر اذان کی آواز پر نہیں دوڑتا۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اگر ریاست چلانے والے ذہنی دیوالیہ پن میں مبتلا ہوں تو پھر ملک دیوالیہ ہو نہ ہو کیا فرق پڑتا ہے۔ جس ملک میں منظور شدہ پارلیمانی بل، خفیہ سفارتی کیبلز اور تحقیقاتی رپورٹوں کی اصل کاپی فائلوں سمیت اغوا ہونے کو بھی ایک عام خبر کی طرح بھلا دیا جائے وہاں ہاتھی کا سوئی کے ناکے سے گذر جانا بھی معمول کی اطلاع ہے۔ ایک محاورہ ہے کہ ’مردے کے بال مونڈھنے سے وزن کم نہیں ہوتا۔‘ یہی حال وزیرِ اعظم ہاؤس کی وڈیو لیکس کا ہے۔ جانے کتنے مہینے کی ریکارڈڈ گفتگو انٹرنیٹ کی منڈی میں چار آنے پاؤ پر دستیاب ہے۔ اس واردات کے اسباب اور کھلاڑیوں کے شجرے تک پہنچنے کی بجائے یہ مجرب حل نکالا گیا ہے کہ ایک کمیٹی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں چھان بین کرے گی کہ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ حالانکہ سب سے پہلے تو خود رانا ثنااللہ کو اپنے عہدے سے ’علامتی‘ استعفی دینا چاہئے کیونکہ بطور وزیر داخلہ سب سے زیادہ ذمہ داری ان ہی کی بنتی ہے۔ اب حکومت کی جانب سے عبوری انتظام یہ کیا گیا ہے کہ کابینہ اجلاسوں اور وزیرِ اعظم ہاؤس میں کسی بھی اعلی ترین افسر کو لیپ ٹاپ اور موبائل فون لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ نیز حفاظتی عملے کی سہہ ماہی سکریننگ ہو گی۔ اللہ اللہ خیر صلا۔
وسعت اللہ خان بتاتے ہیں کہ جب 1972 میں واٹر گیٹ سکینڈل کا بھانڈا پھوٹا تو اس کی قیمت صدر رچرڈ نکسن کو بدنامی اور برطرفی کی شکل میں ادا کرنا پڑی تھی۔ جب یہ راز منکشف ہوا کہ ٹرمپ کی مدِ مقابل صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن حساس معلومات کے تبادلے کے لیے بطور وزیرِ خارجہ محفوظ سرکاری ای میل اکاؤنٹ کے بجائے نجی ای میل اکاؤنٹ استعمال کرتی رہی ہیں تو پیشہ وارانہ غیر زمہ داری کا یہ انکشاف ان کی انتخابی شکست کا ایک اور سبب بن گیا۔ جب یہ پتہ چلا کہ سابق صدر ٹرمپ حساس ریاستی دستاویزات گھر لے گئے تو ایف بی آئی نے ان کے گھر پر چھاپے مارنے شروع کر دئیے۔ جب چند برس پہلے یہ بات سامنے آئی کہ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی، جرمن چانسلر اینجلا مرکل سمیت کئی قریبی امریکی اتحادیوں کی گفتگو ٹیپ کرتی ہے تو یورپ اور امریکہ تعلقات میں سنگین تناؤ پیدا ہو گیا جسے دور کرنے کے لئے امریکہ کو ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑ گیا۔
لیکن پاکستان میں سنگین ترین واقعات پھر بھی مٹی پاؤں کی پالیسی اختیار کی جاتی ہے۔ وزیراعظم ہاؤس کی حساس آڈیوز لیک ہونے کے بعد سب ایک دوسرے کے پیچھے گول گول بھاگ رہے ہیں کہ وزیرِ اعظم ہاؤس کی گفتگو کس نے کیسے لیک کی اور یہ غیر ذمہ دار ہاتھوں میں کس نے پہنچائی۔ گول دائرے میں بھاگنے والے ان معروف اداکاروں میں وہ بھی شامل ہیں جن کے بارے میں یہ کارستانی دکھانے کا شبہہ ہے اور وہ بھی شامل ہیں جو اس ملک میں آنے اور جانے والی تمام انٹرنیٹ ٹریفک کے ڈیٹا کیبلز پر کان لگا کر بیٹھے ہیں اور انھیں فرداً فرداً ہر عمارت، کمرے، لیپ ٹاپ اور موبائیل پر ’چور چپ‘ نصب کرنے کی اب حاجت ہی نہیں۔
پورے سکینڈل میں رسمی خانہ پری کے طور پر اتنا احتسابی ڈرامہ رچنے کا بھی امکان نہیں جو اس سے 99 فیصد کم اہمیت کی حامل ڈان لیکس کے موقع پر رچایا گیا تھا۔وسعت اللہ خان کا کہنا ہے کیا جس واردات میں چور، سپاہی اور تماشائی شامل ہوں وہ واردات نہیں رہتی بلکہ سستے آرٹ کا نمونہ بن جاتی ہے۔ البتہ ایک فوری فائدہ ضرور ہوا۔ چور سپاہی کے تازہ تھیٹر کے سبب ریٹنگ زدہ کیمروں کا رخ ایک بار پھر ساڑھے تین کروڑ سیلاب زدگان کے حقیقی مصائب سے ہٹ کر اسلام آباد کی علی بابائی غلام گردشوں کی جانب مڑ گیا ہے۔