وزیراعلیٰ بلوچستان کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع

‏بلوچستان اسمبلی کے اراکین بشمول بی اے پی پارٹی کے ارکان نے آرٹیکل 136 کے تحت وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے۔ جام کمال کی اپنی پارٹی کے بہت سے ارکان نے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے مخالف اراکین نے دعویٰ کیا کہ جام کمال اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد کھوچکے ہیں، ان کے پاس 65 اراکین کے ایوان میں سے صرف 24 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جام کمال کے مخالفین کا کہنا ہے کہ عزت اسی میں ہے کہ وزیراعلیٰ عدم اعتماد سے پہلے مستعفی ہوجائیں۔

وزیراعلیٰ جام کمال سے ناراض بلوچستان عوامی پارٹی کے ظہور احمد بلیدی، جان محمد جمالی، عبدالرحمان کھیتران، اکبر آسکانی، محمد خان لہڑی، سکندر عمرانی، لالہ رشید، جبین شیران، بشریٰ رند، بلوچستان عوامی پارٹی کے اسد بلوچ اور ان کی اہلیہ بی بی مستورہ اور پی ٹی آئی کے نصیب اللہ مری سمیت 14 ارکان اسمبلی نے سیکریٹری اسمبلی کے پاس تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی۔

تحریک عدم اعتماد میں ناراض اراکین نے موقف اپنایا کہ تین سالوں کے دوران وزیراعلیٰ کی خراب حکمرانی کے باعث بلوچستان میں شدید مایوسی، بدامنی، بے روزگاری ہے ، اداروں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے ، وزیراعلیٰ اقتدار پر براجمان ہو کر خود کو عقل کل سمجھ کر صوبے کے تمام اہم معاملات کو مشاورت کے بغیر ذاتی طور پر چلا رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن اسمبلی ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ پچھلے ایک مہینے سے بلوچستان کا صوبہ سیاسی بحران سے دوچار ہے ، ممبران اسمبلی کی اکثریت نے جام کمال خان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کر چکی ہے ۔وزیراعلیٰ کی وجہ سے بلوچستان میں سیاسی اور انتظامی جمود آ چکا ہے ، وزیراعلیٰ کو عزت کا راستہ دیا مگر انہوں نے ہماری بات کو ہوا میں اُڑا دی۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے متحدہ حزب اختلاف کے 16 ممبران نے بھی وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف 14 ستمبر کو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی مگر تحریک پیش کرنے کے لئے اسمبلی اجلاس طلب کرنے سے متعلق سمری گورنر بلوچستان نے تکنیکی خرابیوں کی بنیاد پر مستر د کردی تھی۔

Back to top button