وزیراعلیٰ گنڈا پورغائب، خیبرپختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی مبینہ گمشدگی کے پیش نظر خیبرپختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس آج دوپہر تین بجے طلب کرلیا گیا۔اسپیکر اسمبلی نے قانون کے برخلاف خیبرپختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس دوپہر تین بجے طلب کیا ہے، جس میں علی امین گنڈا پور کی مبینہ گمشدگی اور کے پی ہاؤس میں پیش آئے واقعے اور اسکے بعد کی صورت حال سے متعلق قرارداد پیش کی جائے گی۔خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس رولز سے ہٹ کر طلب کیا گیا ہے۔کیونکہ اسمبلی رولز 20 کے مطابق چھٹی کے روز اجلاس طلب نہیں کیا جاسکتا۔

اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے اجلاس کی طلبی کا مراسلہ جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اغوا ہونے کے معاملے پر بحث کی جائے گی۔اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا ہاؤس میں خواتین اور بچوں کے ساتھ بدتمیزی کے معاملے کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔

اُدھر وزیراعلیٰ کی گمشدگی پر تحریک انصاف نے سیاسی جماعتوں کا جرگہ بلانے کا اعلان کیا ہے۔ سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ گنڈا پور کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کررہے ہیں گرینڈ جرگہ بلا رہے ہیں، وزیراعلٰی کو حراست میں لینا پورے خیبرپختونخوا کی توہین ہے،۔انہوں نے کہا کہ کل صوبائی اسمبلی اجلاس میں مشترکہ قرارداد لارہے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے وزیراعلٰی خیبرپختونخوا کو فوری رہا کیا جائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں خیبرپختونخوا ہاؤس پہنچنے والے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا تاحال کچھ نہیں پتا چل سکا اور پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی قیادت نے حکومت پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے اغوا کا الزام لگایا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز سے پارٹی رہنماؤں اور اہلخانہ کا علی امین گنڈاپور سے رابطہ نہیں ہورہا۔پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو اغوا اور گرفتار کر لیا گیا ہے۔دوسری جانب سرکاری ذرائع نےوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی گرفتاری کی خبروں کی تردید کردی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے راستوں اور موبائل فون سروسز کی بندش کی وجہ سے جڑواں شہروں میں معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔گزشتہ روز ہفتہ کے روز پی ٹی آئی کے مارچ کرنے والے ہزاروں کارکن وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پولیس کی رکاوٹیں توڑ کر اسلام آباد میں داخل ہوئے تھے اور اس دوران دارالحکومت میں شدید بارش کے دوران پی ٹی آئی اور اسلام آباد انتظامیہ کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں پولیس نے سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا تھا۔

وفاقی حکومت نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کو دارالحکومت پر چڑھائی کرنے پر خبردار کیا تھا کہ انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے علی امین گنڈا پور کو پرتشدد واقعات کا ذمے دار ٹھہراتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی کارکنوں سے جھڑپوں میں 80 کے قریب پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

 

Back to top button