وزیر اعظم معیشت میں ایٹم بم ڈال کر جا رہے ہیں

ن لیگ کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان معیشت میں ایٹم بم ڈال کر جارہے ہیں. میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں شرح سود پونے بارہ فیصد ہے، حکومت کو بینک 12 فیصد پر قرض دے رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک روپے کے نوٹ کو 75 پیسے کا کر دیا گیا ہے، جس نے بانڈ خریدا تھا وہ نقصان اٹھا کر اپنا بانڈ بیچ رہا ہے. اپنی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو اس سال 30 ارب ڈالر کی ضرورت ہے. پچھلے سال کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ امپورٹس ہورہی ہیں. انہوں نے بتایا کہ اس وقت کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 12 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جو کہ تاریخ کا سب سے زیادہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ ہے. پریس ٹاک میں انہوں نے کہا کہ جنوری کے مہینے میں حکومت نے 50 کروڑ ڈالر کا خسارہ کیا جبکہ ملک میں ہر مہینے 600 کروڑ روپے کی امپورٹس ہورہی ہیں،. انہوں نے کہا کہ اس سال حکومت 4600 ارب روپے کا بجٹ خسارہ کرنے جا رہی ہے. مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ خان صاحب 14 ارب ڈالرز کا قرض لے چکے ہیں، حکومت بتاتی نہیں کہ ہر ہفتے 30 کروڑ ڈالرضائع ہو رہے ہیں. قرض کے حوالے سے مزید گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب خان صاحب آئے تو اس وقت قرضہ 18 ہزار ارب روپے تھا، جبکہ اس حکومت نے قرض میں 22 ہزار ارب روپے کا اضافہ کر دیا ہے.انہوں حکومتی کارکردگی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ 3 سالوں میں حکومت کوئی منصوبہ لے کر نہیں آئی، وزیر اعظم نے نواز شریف کے منصوبوں پر تختیاں لگائی ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے شہباز شریف کے منصوبوں پر اپنے نام لکھے ہیں.
