وزیر اعظم کام نہیں کرنا چاہتے تو استعفیٰ دے کر گھر جائیں

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کوئی وزیر اعظم کو سمجھائے کہ وہ اب کنٹینر پر نہیں ہیں۔ وہ کنٹینر سے اتریں اور وزیر اعظم بنیں۔ وزیر اعظم کام کریں. کام نہیں کرنا چاہتے تو استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں.
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیر اعظم بتائیں کہ وہ کون سی ایلیٹ کلاس ہے جس نے یہ لاک ڈاؤن نافذ کیا، لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان وفاقی وزیر نے کیا.چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ وزیراعظم کام کریں، کام نہیں کرسکتے تو استعفیٰ دیں، کسی اور کو آنے دیں، ہمارے وزیر دن رات کام کرتے ہیں، وفاق ہمارے وزیراعلیٰ کونشانہ بناتا ہے۔انہوں ںے کہا کہ وزیر اعظم سے پوچھتا ہوں کہ کون سی ایلیٹ کلاس ہے جس نے یہ لاک ڈاؤن نافذ کیا، لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان وفاقی وزیر نے کیا۔ وفاقی حکومت صوبوں کی کوئی مدد نہیں کر رہی، وزیر اعظم کیا صرف اسلام آباد کے ہی وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔بلاول کا کہنا تھا کہ وزیراعظم میرے صوبے اور عوام کو نشانے پر رکھتے ہیں۔ ہم نے کبھی ان کا جواب نہیں دیا۔ پہلے دن سے وزیراعظم اور ان کے نمائندے میرے صوبے پر مسلسل حملہ کرتے ہیں۔ اس وبا سے ہم نے لڑنا ہے، میں سیاسی اختلاف کو بھول جاتا ہوں۔
پی پی چیئر مین کا کہنا تھا کہ میرے ملک کا وزیراعظم عمران خان ہے۔ وفاقی حکومت کو اپنی زمہ داری اٹھانی پڑے گی۔ دو مہینے گزر چکے ہیں ، لاک ڈاؤن ہر صوبے میں ہو رہا ہے۔ ڈاکٹرز، سٹاف کی صحت و جاں کی حفاظت کی جائے۔
بلاول نے کہا کہ اگر ہم لاک ڈاؤن ختم کرتے ہیں تو اسپتالوں پر اور دباؤ آئے گا۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ ہردن یہ حکومت نیاشوشہ چھوڑتی ہے، ، وہ چاہتے ہیں کورونا کیسز کو میڈیا میں اہمیت نہ ملے، اٹھارویں ترمیم کے خلاف پہلے بھی سازشیں ہوئی ہیں، اس وقت اٹھارویں ترمیم کوکوئی خطرہ نہیں۔
بلاول نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ وہ میئر اسلام آباد بنیں، پی پی دور میں سیلاب آیا سوات آپریشن سے لوگ متاثرہوئے، ہم نے مدد کی،کبھی نہیں کہا کہ کے پی حکومت خود کرے، اسلام سکھاتا ہے کہ کوئی مشکل میں ہو تو مدد کریں۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کورونا وائرس کے خلاف اقدامات پر وفاقی حکومت پر عدم تعاون کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومتیں 90 فیصد کام اپنے بل بوتے پر کر رہی ہیں۔اس مرض کا خطرہ سب سے زیادہ غریب عوام کو ہے، لیاری میں زیادہ متاثرین ہیں لیکن وفاق کی جانب سے کوئی تعاون نہیں دی جارہی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اب تک صوبائی حکومتیں 90 فیصد کام اپنے زور پر کر رہی ہیں، آج تک وفاقی حکومت کی طرف سے ٹیسٹ کی صلاحیت بڑھانے، صحت کا نظام بہتر کرنے اور ریلیف آپریشن، معیشت کو سنبھالنے کے لیے ہمارے صوبے کو ایک پیسہ نہیں ملا ہے’۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ‘وفاق نے تمام ذمہ داری صوبوں پر ڈال دی ہے اور خود کیا کام کرنے کو تیار ہے، کیا ذمہ داری نبھانے کو تیار ہے، وفاق کا خرچ دفاع اور ہمارا پیسہ قرضوں کی ادائیگی میں جاتا ہے لیکن اس وقت نہ تو کوئی جنگ لڑنی اور نہ ہی قرضوں پر زور دینا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم سب نے مل کر اس وبا کے خلاف لڑنا ہے، صوبائی حکومتیں اپنے وسائل خرچ کررہی ہیں لیکن وفاق کیا مدد کرنے کو تیار ہے، جب کوئی صوبہ وفاق سے ہسپتال کے بستروں میں اضافے اور ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے میں مدد کے لیے بات کرتا ہے تو اس مطلب آپ پر تنقید نہیں ہے بلکہ آپ سے درخواست کررہے ہیں کہ مدد کریں’۔وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘یہ ایک قومی اور انسانی بحران ہے، اس کا مقابلہ کوئی صوبہ، کوئی یونین کونسل اور کوئی میئر اکیلا نہیں کرسکتا ہے’۔
انہوں نے کہ ‘یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہمارا وزیراعظم اس بحران کے دوران دن میں کوئی اور بیان دیتا ہے اور رات کو کوئی اور بیان دیتا ہے’۔
بلاول بھٹو نے وزیراعظم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہ کون سی ایلیٹ ہے جس نے ہم پر لاک ڈاؤن عائد کردیا ہے’۔
ان کہنا تھا کہ ‘اس وقت 9 مئی تک جو لاک ڈاؤن ہے جس کی توسیع ای سی سی کے حالیہ اجلاس میں خیبر پختونخوا اور پنجاب حکومت کی تجویز پر کیا گیا ہے اور اس کا اعلان بھی وفاقی وزیر نے کیا’۔انہوں نے کہا کہ ‘تو کیا یہ ایلیٹ ہے جنہوں نے پر لاک ڈاؤن مسلط کیا ہے، ہمارے وزیراعظم کو کون سمجھائے گا کہ آپ کنٹینر پر نہیں ہیں اور ہم مشکل ترین قومی بحران کا سامنا کررہے ہیں اس لیے کنٹینر سے اترو اور اپنا کام کرو’۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ‘جب ہمارے عوام اس مرض کے باعث خطرے میں ہیں اور غریب عوام متاثر ہوتے ہیں تو حکومت کی طرف دیکھتے ہیں کہ ہماری مدد کریں گے’۔وزیراعظم عمران خان کے بیانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘اس طرح کے بیانات سے نہ کورونا کے خلاف ہماری تمام کوششوں اور حکمت عملی کو نظر انداز کیا جاتا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘میں نے شروع میں کہا تھا کہ ہمیں ایک محاذ پر کورونا کے خلاف لڑنا ہے اور دوسرے محاذ پر اپنی معیشت کو سنبھالنا ہے لیکن دونوں محاذوں پر وفاقی حکومت ناکام رہی ہے’۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ‘وفاقی حکومت ٹیسٹ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے نہ ہماری مدد کرنے کو تیار ہے، ہمارے لیب کی صلاحیت بڑھانے کو تیار ہے، نہ ہمارے آئسولیشن سینٹر، قرنطینہ مراکز اور ہسپتالوں میں اضافہ کرنے کو تیار ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہماری معیشت سنبھالنے اور دہاڑی دار طبقے کو ریلیف پہنچانے کو بھی وہ تیار نہیں ہیں، زرعی پیکج کا اعلان کیا تھا جو ابھی تک نہیں آیا، فوڈ سیکیورٹی اس ملک میں سب سے اہم ذمہ داری ہے’
