وزیر اعظم عمران خان کا ایک بار پھرملک میں لاک ڈاؤن سے انکار

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم پورے ملک کو لاک ڈاﺅن کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے، ہمارے پا س وسائل نہیں، ہم نے محدود وسائل میں رہ کر کام کرنا ہے،. حکمت سے کرونا کا مقابلہ کرنا ہو گا. وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے خلاف اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کردیا۔
قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس فورس کے ساتھ مل کر وہ کمی پوری کریں گے جو وسائل کی کمی کی وجہ سے پورا نہیں کرسکتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘صرف وسائل سے یہ جنگ نہیں جیتی جاسکتی ہے، قوم لڑسکتی ہے، ہمارے ہمسایے میں بھارت نے لاک ڈاؤن کیا اور آج ان کے وزیراعظم نے معافی مانگی کہ ہم نے سوچے سمجھے بغیر لاک ڈاؤن کیا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اگرر لاک ڈاؤن کا ہٹاتے ہیں تو لوگ کام کے لیے سڑکوں میں آئیں گے اور حالات مزید خراب ہوں گے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں یہ جنگ حکمت سے لڑنی ہے اور اپنے ملک کے حالات کو دیکھ کر چلنا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے پاس نوجوانوں کی طاقت اور پاکستان کے پاس کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے دو طاقتیں ہیں’۔
وزیراعظم نے کہا کہ ‘کورونا کے لیے ریلیف ٹائیگر فورس کا اعلان کررہا ہوں جو اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘وزیراعظم ہاؤس میں نگرانی کی جارہی ہے اور ایک ہفتے میں ہم بتائیں گے کہ یہ کہاں جارہی ہے’۔ٹآئیگر فورس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘یہ فورس وائرس کے حوالے سے کیا کرنا ہے وہ بتائے گی’۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘آج میں ریلیف فنڈ قائم کررہا ہوں اور نیشنل بینک میں اکاؤنٹ کھولا جائے گا جس میں بیرون ملک موجود لوگ بھی عطیات جمع کراسکتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘تیسری چیز یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک نے اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی ادارہ ملازمین کو بے روزگار نہیں کرے گا جس کے لیے اسٹیٹ بینک قرضے ے گا’۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘چوتھی چیز ہے کہ احساس پروگرام کے ذریعے پاکستان بھر میں کوئی خیرات کرنا چاہتا ان کو رجسٹر کرکے انہیں بتائیں گے کہ کہاں خرچ کرنا ہے تاکہ کسی ایک جگہ خرچ نہیں ہو تاکہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ریلیف کی کوششیں رابطے سے چل سکیں’۔
اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ‘ذخیرہ اندوزوں کی وجہ افراتفری پھیلتی ہے اور اشیا کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں جس سے غریبوں کو نقصان ہوتا ہے اس لیے ان لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں جو اس وقت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ان سے ریاست سخت کارروائی کرے گی’۔وزیراعظم نے کہا کہ قوم کو میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جنگ حکمت سے لڑنی ہے اور جہاں ملیں وہاں دوسروں سے فاصلہ رکھیں جس کو سماجی فاصلہ کہتے ہیں اور صرف احتیاط نہ کرنے سے اپنی اور دوسری کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیں گے’۔انہوں نے کہا کہ ہم بحیثیت قوم جنگ جیتنی ہے تو جو لوگ نادار ہیں ان کی مدد کرنی ہے جس طرح انصار نے مہاجرین کی مدد کی تھی آج اسی جذبے کی ضرورت ہے اور ہمیں وہی جذبہ پیدا کرنا ہے جس کے باعث یہ قوم کورونا وائرس سے جنگ جیتے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button