وزیر اعظم کی زبان پھسلی، اسامہ بن لادن کو شہید نہیں سمجھتا

وفاقی وزیربحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ میں اسامہ بن لادن کو شہید نہیں سمجھتا، میری ذاتی نظر میں اسامہ بن لادن شہید نہیں ہو سکتا ہے وزیراعظم کی زبان پھسل گئی ہو گی جو انھوں نے اسامہ کو شہید کہہ دیا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاان کا مزید کہنا تھا کہ میرے خیال میں اسامہ بن لادن کو مارا گیا تھا، لیکن اس کے ساتھ بہت سارے اور معصوم لوگ جن میں بیوی بچے وہ تو شہید تھے۔انھوں نے اپنی بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی زبان پھسل گئی ہو گی جو اسامہ کو شہید قرار دے دیا لیکن میں اسامہ بن لادن کو شہید نہیں سمجھتا، میری ذاتی نظر میں اسامہ بن لادن شہید نہیں ہے۔ علی زیدی نے کہا کہ نقطہ اصل میں یہ ہے کہ دہشتگردی کی جنگ میں ایک اتحادی ہمارے خودمختار ملک میں باہر سے گھس کر بندہ اٹھا کر لے جائیں، اور آپ کو پتا بھی نہ چلے، مطلب یہ سرگرانے کی انتہاء ہے۔
واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو شہید کہا تھا، قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پہلے اسامہ بن لادن کو ماردیا گیا، پھر کہا شہید کردیا گیا۔انہوں نے دہشتگردی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم کسی کی جنگ نہیں لڑ رہے۔ اب ہم امن میں شرکت کریں گے جنگ میں شرکت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں شرمساری کے 2 واقعات ہوئے۔ ایک واقعہ ہوا امریکن نے اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں آکر مار دیا، شہید کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا اتحادی امریکا پاکستان میں آخر اسامہ کو مارتا بھی ہے اور ہم پرتنقید بھی کرتا ہے، دوسری شرمندگی پاکستان میں ڈرون حملے تھے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء خواجہ آصف نے وزیراعظم کے بیان کے ردعمل میں کہا تھا کہ اسامہ بن لادن سرزمین پر دہشتگردی لایا، وزیراعظم نے شہید کہہ دیا ہے۔ جب تک وزیراعظم کرسی پر ہیں تو تباہی جاری رہے گی، عمران خان نے آج اسمبلی میں کسی کو سنانے کیلئے فرمائشی تقریر کی۔ وزیر اعظم کی طرف سے اسامہ بن لادن کو شہید قراردینے پر جہاں عمران خان کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا وہیں عالمی سطح پر بھی حکام کو سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button