وزیر اعظم کے انتخاب میں ناکامی پر اسمبلی ٹوٹنے کا خدشہ

انتخابی نتائج نے ملکی سیاسی بساط الٹ کر رکھ دی ہے۔ آٹھ فروی سے قبل بظاہر آسان نظر آنے والا حکومت سازی کا عمل اب کانٹوں کی سیج بن چکا ہے۔وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق عام انتخابات کے انعقاد سے قبل ہر سیاسی جماعت اپنا وزیراعظم بنانے کے دعوے کر رہی تھی، ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ 8 فروری کی شام کو یہ واضح ہو جائے گا کہ وزیراعظم نواز شریف ہوں گے، بلاول بھٹو،  یا پی ٹی آئی کا حمایت یافتہ کوئی آزاد رکن وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھےگا، تاہم اب 10 روز گزرنے کے باوجود یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ملک کا آئندہ وزیرِاعظم کون بنے گا۔ حالانکہ آئین کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری سے پہلے طلب کیا جانا ضروری ہے جس کے پہلے مرحلے میں اسپیکر، پھر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور بعد ازاں قائد ایوان یعنی وزیراعظم کا انتخاب ہوگا۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مقررہ وقت میں وزیراعظم کے انتخاب کا فیصلہ نہ ہو سکا تو پھر مستقبل میں کیا ہوگا۔

اس حوالے سے سینیئر تجزیہ کار نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق اگر قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد کوئی بھی رکن جو کہ وزیراعظم کا امیدوار ہو وہ ایوان کی اکثریت حاصل نہ کر سکا تو صدر مملکت اسمبلی تحلیل کر کے ایک مرتبہ پھر سے عام انتخابات کا اعلان کریں گے اور ملک میں عام انتخابات کا انعقاد ہوگا تاہم لگتا یہی ہے کہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے کہاکہ یہ سیاسی جماعتیں جو ملاقاتیں کر رہی ہیں یہ دراصل ایک طرز کی سودے بازی ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ 29 فروری تک جاری رہے گا۔

نصرت جاوید نے مزید کہا یہ طے کرنے میں اتنا وقت تو نہیں لگنا چاہیے تھا کہ آئندہ کا وزیراعظم کون ہوگا لیکن چونکہ کوئی بھی جماعت 100 سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی اس لیے اتنا وقت لگ رہا ہے۔نصرت جاوید کے مطابق نگراں وزیراعظم اور نگراں کابینہ کی توسیع کی جو بات کی جا رہی ہے ایسا نہیں ہو سکتا، آئین میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ کہنا کہ وزیراعظم کا انتخاب اس قومی اسمبلی سے نہیں ہو سکے گا یہ قبل از وقت ہوگا۔ آئے روز ہونے والی سیاسی جماعتوں کی ملاقاتوں میں ضرور کسی نہ کسی نام پر اتفاق کر لیا جائے گا۔ اور 29 فروری سے قبل ہی آئندہ کے وزیراعظم کا فیصلہ ہو جائے گا لیکن اگر یہ فیصلہ نہ ہو سکا تو آئینی طور پر نئے الیکشن کی طرف ہی جانا ہوگا جس کا انعقاد اس وقت ممکن نہیں۔انہوں نے کہاکہ میرے خیال میں پنجاب، سندھ ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حکومت کی تشکیل کوئی مشکل نہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ وفاقی حکومت کی تشکیل میں مشکل ہو، ’کوئی بھی سیاسی جماعت اس وقت ایوان میں اکثریت کے اظہار کی پوزیشن میں نہیں ہے‘۔نجم سیٹھی کے مطابق اگر 29 فروری تک وزیراعظم کا نام سیاسی جماعتوں نے فائنل نہ کیا تو ہو سکتا ہے موجودہ نگراں وزیراعظم اور نگراں کابینہ کو ہی توسیع مل جائے کیونکہ اس وقت نئے انتخابات کا اعلان تو نہیں ہو سکتا اور نگراں سیٹ اپ کی توسیع کی اجازت سپریم کورٹ ایمرجنسی کی صورت میں دے سکتی ہے۔

دوسری طرف سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق وزیراعظم کا انتخاب قومی اسمبلی کرتی ہے، جب قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا اور اسپیکر کا انتخاب ہو جائے گا اس کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کے عمل کا آغاز ہوگا اور مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے والا ممبر وزیراعظم منتخب ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اگر کوئی بھی ممبر ایوان کی اکثریت حاصل نہیں کر سکا تو پھر قومی اسمبلی میں ہی دوبارہ وزیراعظم کا انتخاب ہو گا اور ایوان میں موجود ارکان کی اکثریت حاصل کرنے والا وزیراعظم بن جائے گا، اگر پھر بھی انتخاب نہ ہو سکا تو صدر مملکت اسمبلی تحلیل کریں گے اور دوبارہ عام انتخابات ہوں گے۔

مجیب الرحمان شامی کے مطابق اس وقت یہی بات چل رہی ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے اور ممکنہ طور پر اتفاق ہو جائے گا، لیکن اگر ان کے درمیان اتحاد نہیں ہوتا تب بھی قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا چاہیے۔ اس اجلاس میں اگر کسی امیدوار کو اکثریت حاصل نہیں ہوگی تو دوسرے مرحلے میں حاضر ارکان کی اکثریت حاصل کرنے والا وزیراعظم بننے میں کامیاب ہو جائے گا، ابھی انتظار کرنا چاہیے، ان سارے مراحل سے گزرنے کے بعد ہی کسی تیسرے آپشن پر بات کی جا سکتی ہے۔

Back to top button