وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا منصوبہ بھی ہوا ہو گیا


عمران خان نے وزیراعظم بننے سے قبل جو بلند و بانگ دعوے کیے تھے ان میں ایک وزیرِاعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کا قیام بھی تھا، لیکن کئی برس گزرنے کے باوجود یہ کپتانی وعدہ بھی دیگر کئی وعدوں کی طرح پورا نہیں ہوسکا۔ اب حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا یے کہ وزیراعظم ہاوس کو یونیورسٹی بنانے کے عمل میں مزید چھ سال لگ سکتے ہیں۔ یعنی کپتان کا یہ وعدہ ان کے دور حکومت میں پورا نہیں ہو پائے گا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشتاق خان نے انکشاف کیا ہے کہ وزیرِاعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کےلیے اب تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا اور اسکے قیام میں 6 سال مذید لگیں گے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ یونیورسٹی کے قیام کے لیے ابھی فیزیبلٹیی رپورٹ بن رہی ہے حالانکہ اس منصوبے کے لیے پچھلے برس بجٹ میں 3 ارب 90 کروڑ روپے مختص بھی کیے جا چکے ہین۔ یاد رہے کہ اپنے انتخابی وعدوں میں عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس میں رہائش نہ رکھنے اور اسے یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے اعلانات کیے تھے۔ لیکن انکے اقتدار میں آنے کے بعد کبھی ’سکیورٹی خدشات‘ اس منصوبے کے آڑے آ گئے تو کبھی ’قانونی پیچیدگیوں‘ کے باعث یہ منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔ وفاقی کابینہ اس منصوبے کی منظوری تو دے چکی ہے، تاہم ابھی تک پارلیمنٹ سے اس کی منظوری نہیں لی جا سکی۔

اس مجوزہ یونیورسٹی کے قیام کا جائزہ لینے کے لیے گذشتہ برس وزیراعظم ہاؤس میں ایک کانفرنس کے انعقاد پر کروڑوں روپے خرچ کر دیے گئے۔ اس کانفرنس میں ملکی اورغیر ملکی ماہرین کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ پہلے لپتان نے اسلام آباد نیشنل یونیورسٹی کے منصوبے پر عمل درآمد کی ذمہ داری وفاقی وزارت تعلیم کو سونپی، پھر یونیورسٹی کی جگہ سٹیٹ آف دی آرٹ ریسرچ سنٹر بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور اب یہ منصوبہ وفاقی وزارت تعلیم سے لے کر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو سونپ دیا گیا ہے۔ اس معاملے پر وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بتایا کہ ’ہم وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی نہیں بلکہ فیوچر ٹیکنالوجیز کو مدنظر رکھ کر سٹیٹ آف دی آرٹ ریسرچ سنٹر بنا رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں ایک ہزار کنال اراضی مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رواں سال اس منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔

تاہم دوسری طرف سی ڈی اے نے اسلام آباد کے ریڈ زون میں یونیورسٹی بنانے کے منصوبے پر اعتراض کیا ہے اور کہا کہ اس کے لیے وفاقی دارالحکومت کے ماسٹر پلان کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وزیراعظم ہاوس میں سرکاری تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کا استقبال بھی یہیں کیا گیا تھا جسے اپوزیشن نے حکومت کا یُو ٹرن قرار دیا تھا۔ اس معاملے پر اپوزیشن کا موقف یہ ہے کہ وزیراعظم ہاؤس ایک قومی عمارت ہے اور اسے صرف سرکاری استعمال میں ہی لایا جانا چاہیے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے برسر اقتدار آنے سے قبل اپنی تقاریر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع وسیع و عریض وزیراعظم ہاؤس اور صوبائی دارالحکومتوں میں موجود عالیشان گورنر ہاؤسز کو قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا تھا۔
انہوں نے عوام سے جہاں کئی اور وعدے کیے تھے وہیں یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ ان کی حکومت بڑے بڑے گورنر ہاؤس ہاؤسز کی دیواریں گرا دے گی اور انہیں عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔

لیکن اگر دیکھا جائے تو 2013 سے 2018 تک خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت تھی اور اب بھی یے لیکن وہاں گورنر ہاؤس کی دیواریں نہیں گرائی گئیں۔

تحریک انصاف کی حکومت میں البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار عام لوگوں کے دیکھنے کے لیے گورنر ہاؤس لاہور کے دروازے کھولے گئے۔ تاہم اس عمل سے نہ تو کفایت شعاری ہوئی اور نہ ہی قومی خزانے پر بوجھ کم ہوا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button