بزدارمستعفیٰ،وزیراعلیٰ پرویز الٰہی ہونگے،گورنرسندھ ایم کیو ایم کا ہوگا

حکومت نے اپنی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم پاکستان کووزیر اعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ساتھ دینے کیلئے رضامند کر لیا ہے۔ حکومت نے مسلم لیگ ق کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی کو وزیر اعلیٰ نامز د کر دیا ہے ، جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزادر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں، دوسری جانب حکومت نےایم کیو ایم پاکستان کے مطالبے پر اسے سندھ میں گورنر شپ اور وزارت پورٹ اینڈ شیپنگ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وزیر مملکت فرخ حبیب نےٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے چوہدری پرویز الٰہی آج ہونیوالی ملاقات میں تمام معاملات طے پا گئے ہیں، اور وزیر اعظم نے پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ق لیگ نے وزیر اعظم پر اعتماد کااظہار اور حمایت کااعلان کیا ہے ۔
انہوں نے کہا پہلے ہی کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی ،اپوزیشن کو پہلا سرپرائز مل گیا ہے، اب اپوزیشن فارغ ہو گئی ہے،مقصود چپڑاسی اور فالودے والوں کا جیل میں جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ اپوزیشن کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔
ق لیگ کے رہنما مونس الٰہی نے کہا ہے کہ پرویز الٰہی نے وزارت اعلیٰ کی پیشکش قبول کر لی، وزیر اعظم سے پرویز الٰہی کی ملاقات میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے استعفیٰ لیا گیا، حکومت نے پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ نامزد کیا ہے
ترجمان پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی نے وزیر اعظم عمران خان کی وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کی آفر قبل کر لی ہے،عثمان بزدار کے استعفیٰ کی منظوری کے بعد تمام عہدے تحلیل ہو جائیں گے۔
دوسری جانب حکومت نے اپنی اتحادی جماعتایم کیو ایم کو گورنر سندھ اور پورٹ اینڈ شپنگ کی وزارت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے، جب کہ بی اے پی کو وفاقی کابینہ میں حصہ دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی بڑی پیشکش کے بعد حکومتی اتحادی اپوزیشن کے ساتھ نہیں جائیں گے۔
