وسائل کی کمی کے باوجود وفاقی حکومت سے مالی تعاون نہیں مانگا

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث وفاقی حکومت خود مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے اس لیے ہم نے ان سے مالی تعاون کی درخواست نہیں کی۔
ڈی سی آفس لاڑکانہ میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما اور مشیر نثارکھوڑو، وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ، صوبائی وزیر سہیل انور سیال، جمیل سومرو اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتےہوئے مراد علی شاہ نے صوبے میں کورونا وائرس کی صورت حال سے آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ‘ہم نے وفاقی حکومت سے مالی تعاون کی درخواست نہیں کی کیونکہ وہ خود ایک مشکل مرحلے سے گزر رہے ہیں’۔
کورونا وائرس کیسز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں 2 ہزار 764 ٹیسٹ کیے گئے اور 289 نئے کسیز سامنے آگئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب تک 28 ہزار 249 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جن میں سے 3 ہزار 53 مثبت آئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 5 مزید ہلاکتیں ہوئی ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر بدقسمتی سے 66 ہوگئی ہے جو متاثرہ مریضوں کی 2 اعشاریہ ایک فیصد ہے۔
صوبے میں آنے والے نئے کیسز کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 289 نئے کیسز میں سے 11 لاڑکانہ، 6 بدین، ایک دادو، 12 حیدر آباد، 25 خیرپور، 2 شہید بنظیر آباد، 2 سجاول اور ایک سکھر میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں 201 نئے کیسز کی تشخیص ہوئی ہے جن میں سے 19 ضلع وسطی، 13 شرقی، کورنگی میں 2، ملیر میں 46، جنوبی اور غربی میں بالترتیب 87 اور 15 ہیں۔
لاڑکانہ میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 3 ہزار 313 مستحقین میں فی فرد 6 ہزار روپے ادا کیے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ‘یہ تین مہینے کا ایڈوانس تھا تاکہ انہیں دونوں جگہ سے مل سکے’ جبکہ بتایا گیا کہ 67 ہزار 509 میں سے 14 ہزار 644 افراد کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (احساس پروگرام) کے تحت مالی تعاون پہنچایا گیا ہے۔بریفنگ کے دوران انتظامیہ نے بتایا کہ 18 ہزار راشن بیگ تقسیم کرنے کا ہدف تھا جن میں سے 13 ہزار 653 تقسیم کیے جاچکے ہیں۔ڈپٹی کمشنر لاٖڑکانہ نے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو بریفنگ کےدوران آگاہ کیا کہ جن افراد کی مدد کی گئی سب کا ریکارڈ رکھا گیا ہے۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے لاڑکانہ شہر کا دورہ کیا اور لاک ڈاؤن کے حوالے سے جائزہ لیا اور پولیس عہدیداروں کو حکومتی اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ اپنے بیان میں کہا کہ کچھ ادارے اور صنعتیں کھل گئے ہیں لیکن ان مقامات پر سماجی فاصلوں کی ضرورت ہے جبکہ مساجد میں بھی باجماعت نماز میں احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کورونا وائرس کی وجہ سے ہوسکتا ہے آپ تو تندرستی سے نکل جائیں لیکن اگر آپ کسی کو متاثر کردیں اور خدانخواستہ اس سے اس کو تکلیف ہو یا جان چلی جائے تو اس کی ذمہ داری بھی آپ پر ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button