وسیم اکرم نے بھی میچ فکسنگ کی لیکن کارروائی سے بچ گئے

پاکستانی کرکٹ میں ایک مرتبہ پھر میچ فکسنگ کے الزامات کی بازگشت اسوقت عروج پر پہنچ گئی جب کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین خالد محمود نے یہ انکشاف کرتے ہوئے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا کہ سابق کپتان وسیم اکرم بھی میچ فکسنگ میں ملوث رہے ہیں لیکن ان کے خلاف ثبوت ہونے کے باوجود انتخاب عالم نے کوئی کارروائی نہ کی۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کے سبب عمر اکمل پر تین سال کی پابندی عائد کردی گئی تھی۔ دوسری طرف ماضی میں میچ فکسنگ کے سبب تاحیات پابندی کا سامنا کرنے والے سلیم ملک کو کرکٹ بورڈ میں کوئی ذمہ داری دینے کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔ اسی دوران اب 1998 میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ملک محمد قیوم پر مشتمل جوڈیشل انکوائری کمیشن کی طرف سے کرکٹ جوا سکینڈل سکینڈل میں ملوث ہونے پر جرمانے کی سزا کا سامنا کرنے والے وسیم اکرم کے بارے اس وقت کے کرکٹ بورڈ چیئرمین خالد محمود نے انکشاف کیا ہے کہ وسیم اکرم نے فاسٹ باؤلر عطاالرحمٰن کو براہ راست میچ فکسنگ کی پیشکش کرتے ہوئے گنفی کارکردگی دکھانے کا کہا تھا۔ اس کے بدلے وسیم نے عطا کو تین لاکھ روپے رشوت کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وسیم اکرم کی یہ پیشکش قبول کرتے ہوئے عطاالرحمٰن نے خراب باؤلنگ کی جسکے بدلے انہیں وسیم نے رقم بھی دی تھی۔
خالد محمود کا دعوی ہے کہ اس واقعہ کا اعتراف عطا الرحمان نے جسٹس قیوم کمیشن میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں بھی کیا تھا۔ سابق چئیرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ بعد ازاں وسیم اکرم کے شدید دباؤ کے پیش نظر عطاالرحمٰن اپنے حلفیہ بیان سے مکر گئے تھے جس میں انہوں نے وسیم اکرم کو میچ فکسنگ ریکٹ کا حصہ بتایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عطاالرحمٰن کو کہا تھا کہ وہ اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے کے بجائے اس پر قائم رہیں اور میں بطور چیئرمین پی سی بی انہیں مکمل سپورٹ کروں گا۔ خالد محمود نے کہا کہ میری یقین دہانی کے باوجود فاسٹ باؤلر نے یہ کہہ کر اپنے بیان سے یوٹرن لے لیا کہ انہوں نے یہ بیان جلد بازی میں دیا تھا اور انہیں غلط فہمی ہو گئی تھی جس پر جسٹس قیوم کمیشن نے ان پر تاحیات پابندی عائد کردی تھی۔
خالد محمود نے مزید انکشاف کیا کہ انہیں 1999 کے ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش اور بھارت کے ساتھ کھیلے گئے میچز کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا کے ساتھ کھیلے گئے فائنل میں بھی فکسنگ کا شبہ ہے حالانکہ پاکستان اس میچ کے لیے فیورٹ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ لارڈز کی کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے تمام ماہرین کرکٹ کا ماننا تھا کہ جو کوئی بھی ٹاس جیتے گا اسے پہلے باؤلنگ کرنی چاہیے لیکن کپتان وسیم اکرم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جس پر ہم سب دنگ رہ گئے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ہماری ٹیم صرف 132 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور ہم انتہائی شرمناک انداز میں فائنل ہار گئے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے اس ہار کے بعد انکوائری کی اور کھلاڑیوں سے پوچھا کہ کیا انہوں نے میچ فکسنگ کے حوالے سے کوئی مشکوک سرگرمیاں دیکھی تھیں۔ تاہم وسیم اکرم کے دباؤ کی وجہ سے کسی بھی کھلاڑی نے کوئی واضح جواب نہیں دیا اور بعد ازاں مجھے چیئرمین پی سی بی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ خالد محمود نے کہا کہ میرے خیال میں ان تین میچوں کے بارے میں میرے بعد آنے والے کرکٹ سربراہان کو تحقیقات کرانی چاہیے تھی کیونکہ وہ اب بھی مانتے ہیں کہ اس معاملے کی انتہائی باریک بینی سے تفتیش ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر راشد لطیف نے 1995 کے دورہ زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے موقع پر پہلی مرتبہ پاکستان کرکٹ میں میچ فکسنگ کا انکشاف کرتے ہوئے ساتھی کھلاڑیوں سلیم ملک اور دیگر پر الزامات عائد کیے تھے۔ اسی سال آسٹریلین اسپنر شین وارن، ٹم مے اور مارک وا نے انکشاف کیا تھا کہ سلیم ملک نے 1994 میں آسٹریلیا کے دورہ پاکستان کے موقع پر انہیں اچھی کارکردگی نہ دکھانے کے عوض رشوت کی پیشکش کی تھی۔ ان الزامات کی بنیاد پر حکومت پاکستان نے اگست 1998 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج ملک محمد قیوم کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ اس کمیشن نے ستمبر 1998میں میچ فکسنگ کی تحقیقات کا آغاز کیا اور 18ماہ بعد رپورٹ تیار کر کے بورڈ کو دی، اس دوران انھوں نے 33افراد، 3آسٹریلوی پلیئرز، 4صحافیوں اور 13پولیس حکام و دیگر متعلقہ شخصیات کے بیانات لیے، مشکوک میچز کی فہرست میں شامل ایک ایک مقابلے پر غورکیا گیا، تحقیقات مکمل ہونے پر سلیم ملک اور عطا الرحمان تاحیات پابندی اور جرمانے کے سزاوار ٹھہرے، وقار یونس، مشتاق احمد، وسیم اکرم، انضمام الحق، اکرم رضا اور سعید انورپر جرمانے ہوئے۔ شکوک کی زد میں آنے والے بیشتر کھلاڑیوں کو آئندہ پاکستان کرکٹ میں اہم ذمے داریاں نہ دینے کی بھی سفارش ہوئی تھی لیکن سب ایک ایک کرکے عہدے حاصل کرتے گئے، وقار یونس کئی بار کوچ بن چکے، ان کے بارے میں عاقب جاوید کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ بکیز سے پجیرو جیپ لی تھی جسے بعد میں واپس کردیا،کچھ عرصے قبل ہی وہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا تیاپانچہ کرنے کے بعد کوچنگ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ مشتاق کئی بار قومی ٹیم کے بولنگ کوچ بنے اور اب نیشنل کرکٹ اکیڈمی سے وابستہ ہیں، وسیم اکرم پی ایس ایل کے سفیر اور اسلام آباد یونائٹیڈ کے ٹیم ڈائریکٹر ہیں جس کے تین کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ میں پکڑے گئے،انضمام الحق ان دنوں قومی کرکٹ کے چیف سلیکٹر ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پی سی بی حکام سابق کپتان وسیم اکرم کے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو پیش نظر رکھتے ہوئے سابق چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ خالد محمود کے انکشافات پر چشم پوشی سے کام لیتے ہیں یا عمر اکمل کی طرح انھیں بھی قانون کے کٹہرے میں لاکر پوچھ گچھ کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button