وسیم اکرم نے کوکین کے نشے سے کیسے جان چھڑوائی؟

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے انکشاف ہے کہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کوکین کے نشے کے عادی ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے اس کا عادی ہونا اچھا لگا مجھے پارٹی کرنا اچھا لگا کیونکہ شہرت آپ کو اسطرف لگا دیتی ہے۔ ایسے میں آپ ایک رات میں دس پارٹیز میں بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا کوکین مجھ پر حاوی ہو گئی اور میں اس پر انحصار کرنے لگا۔وسیم اکرم نے اپنی آنے والی سوانح عمری ’سلطان: اے میموائر‘ میں کرکٹ کیریئر کے بعد کوکین کی لت اور اسے ختم کرنے کی اپنی جدوجہد کے بارے میں بات کی ہے۔
ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ فارمیٹس میں پاکستان کے لیے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے فاسٹ بولر اپنے شاندار 18 سالہ بین الاقوامی کیریئر کے بعد 2003 میں ریٹائر ہو گئے تھے۔ اسکے بعد وہ کمنٹری اور کوچنگ کے مقصد کے لیے دنیا بھر کا سفر کرتے رہے۔ کرک انفو کی ایک رپورٹ کے مطابق اپنی کتاب میں وسیم کا کہنا ہے کہ انہیں کوکین کی لت ریٹائر ہونے کے بعد تب لگی جب انہیں خون گرما دینے والے مقابلوں کی کمی محسوس ہونا شروع ہوئی۔ اس دوران انگلینڈ میں ایک پارٹی کے دوران مجھے پہلی بار کوکین آفر کی گئی اور یوں میں اس پر لگ گیا۔ میں اسے بہت زیادہ استعمال کرنے لگا۔ اس نشے نے مجھے کمزور اور دھوکے باز بنا دیا۔ میں نے ہما کو دھوکہ دینا شروع کر دیا لہٰذا وہ بیچاری اکثر اکیلی رہتی تھی۔ وہ بھی کراچی شفٹ ہو کر اپنے والدین اور رشتہ داروں کے قریب رہنا چاہتی تھی لیکن میں اس سے ہچکچاتا تھا کیونکہ میں نے اکیلے پارٹی کرنے کراچی جانا ہوتا تھا۔ میں ظاہر کرتا تھا کہ مجھے کوئی کام ہے لیکن حقیقت میں تو میں پارٹی کرنے جاتا تھا۔ آخر کار ایک دن ہما نے میرے بٹوے سے کوکین برآمد کر کے مجھے پکڑ لیا۔ اس نے کہا تمہیں مدد کی ضرورت ہے۔ میں نے اتفاق کیا۔ چیزیں ہاتھ سے نکل رہی تھیں۔ میں پھر بھی نشے کی عادت پر قابو نہ پا سکا۔ بات ایک لائن سے دو لائنز، دو سے چار اور پھر چار سے ایک گرام پر چلی گئی۔ اور پھر ایک گرام سے دو گرام استعمال کی نوبت آ گئی۔ مجھے کوکین کے بغیر نیند نہیں آتی تھی۔ میں کھانا نہیں کھا سکتا تھا۔ میں نے شوگر کو بھی نظر انداز کر دیا جس سے میرے سر میں درد رہنے لگا اور موڈ خراب ہونے لگا۔
وسیم اکرم نے بتایا ہے کہ ہما کے اصرار پر انہوں نے علاج شروع کروایا، لیکن ڈاکٹر بڑا دھوکہ باز نکلا، وہ مریضوں کا علاج کرنے کے بجائے انہیں لُوٹتا تھا۔ لیکن علاج کرواتا رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں اپنے کیے پر شرمندہ تھا کیونکہ میرے فخر کو دھچکا لگا تھا۔ جب میں سنبھل نہ پایا تو ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں نے ہما سے طلاق لینے پر غور کیا۔ لیکن اس دوران ہما اچانک خود بیمار ہو گئی اور پھر فنگل انفیکشن سے انکا انتقال ہوگیا۔ وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوکین کا استعمال ہما کے 2009 میں انتقال کے بعد اپنے بچوں کی خاطر ترک کیا کیونکہ ان کی ماں گزر گئی تھی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ: ’ہما کی بے لوث محنت نے ہی مجھے منشیات سے چھٹکارا دلوایا جسکے بعد میں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔‘ وسیم اکرم نے اس کے بعد دوسری شادی کی اور اب ان کے تین بچے ہیں۔ وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کتاب اپنے بچوں کے لیے لکھی ہے۔
