وفاقی کابینہ کا بجلی اور گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آئندہ 4 ماہ تک بجلی اور گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے پراصولی اتفاق کرلیا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 16 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ کابینہ نے مہنگائی کے مارے عوام کو کچھ ریلیف فراہم کرنے کےلیے متعلقہ وزارتوں کو یوٹیلیٹی بلز پر ٹیکسز کم کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر کو قبائلی علاقہ جات اور آزاد کمشیر میں قائم فیکٹریوں سے خوردنی تیل اور گھی حاصل کرنے کی ہدایت کی کیوں کہ وہاں اشیاء ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں جس سے یوٹیلیٹی اسٹورز صارفین کےلیے ان فیکٹریوں کی مصنوعات کم قیمتوں پر حاصل کی جاسکتی ہے۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ ’وزیراعظم نے وزارت پیٹرولیم اور توانائی کو گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے اور آئندہ اجلاس میں یوٹیلیٹی بلز سے ٹیکس کم کرنے کا پلان پیش کرنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم بجلی اور گیس کے بلز میں کمی کا ’غیر روایتی حل‘ چاہتے ہیں اور صارفین تک لیکیج، لائن لاسسز اور بجلی چوری کا کم سے کم بوجھ منتقل کرنا چاہتے ہیں۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے گزشتہ دور حکومت میں کیے گئے ناقص بین الاقوامی معاہدے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ہیں۔ مہنگائی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کو 15 ارب روپے کی سبسڈی دینے کے بعد بنیادی ضروریات کی اشیا کی قیمتوں میں ’کمی‘ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ معاون خصوصی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں کچھ اراکین نے تجویز دی تھی کہ احساس پروگرام کےلیے مختص کردہ ایک ارب 50 کروڑ روپے کے فنڈز کو گیس اور بجلی کے بالخصوص گھریلو صارفین کی سبسڈی میں تبدیل کردیا جائے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ تجویز مسترد کردی گئی کیوں کہ احساس فنڈز غریب طبقے کو سبسڈی دینے کےلیے مختص کیا گیا لیکن اگر اسے گیس اور بجلی کے شعبوں کی طرف منتقل کیا گیا تو اشرافیہ کو اس سے فائدہ ہوگا۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ چینی اور آٹے کے بحران کے بارے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی انکوائری رپورٹ آئندہ ہفتے منظر عام پر لائی جائے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ نے ملک میں چینی اور آٹے کی قیمتیں مقرر کرنے کےلیے تیسرے فریق سے جائزہ کروانے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز، کاشت کاروں، مل مالکان اور تقسیم کاروں سے مشاورت کی جائے گی۔
علاوہ ازیں اجلاس میں مقامی ضرورت کو پورا کرنے کےلیے 5 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا لیکن یہ اس وقت کیا جائے گا جب عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آئے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button