وفاق کا احساس ایمرجنسی کیش پروگرام بری طرح ناکام

وفاقی حکومت لاک ڈاﺅن کے دوران احساس پروگرام کے تحت متاثرہ افراد کی بذریعہ کیش مدد کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اب تک وفاقی حکومت کی جانب سے تقسیم کی جانے والی 12ہزار 5 سو روپے فی کس کی مالی امداد سال2008 میں کئے جانے والے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سروے کی بنیاد پر بانٹی گئی ہے۔ یہ امداد پہلے موبائل فون اکاﺅنٹس کے ذریعے دینے کا اعلان کیا گیا مگر پھر حکومت نے فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ایک انتہائی غیرمحفوظ طریقہ اختیار کیا اور احساس پروگرام کے تحت رقوم کی تقسیم کے لیے مراکز وصولی مراکز بنا دیے جہاں ایک تو سماجی فاصلے کے بغیر عوام کی لائنیں لگ گئیں اور دوسرا سٹاف کو یہ شکایت رہی کہ انہیں سیفٹی کے لیے بنیادی سامان یعنی دستانے اور ہاتھوں کو صاف کرنے والا جراثیم کش لوشن اور ماسک تک مہیا نہیں کئے گئے۔ ایک طرف حکومت اربوں روپے لگا کر سماجی فاصلے برقرار رکھنے کی مہم چلارہی ہے تو دوسری جانب ان مراکز میں سماجی فاصلوں کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔
اس کے علاوہ امدادی رقوم کی تقسیم میں غیرشفافیت بھی سامنے آ رہی ہے خصوصا دیہی علاقوں میں یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ حکمران جماعت کے اراکین پارلمیان کی سفارش پر ایسے لوگوں کو فہرستوں میں شامل کیا جارہا ہے جو کہ مستحق ہے ہی نہیں۔ پچھلے دنوں جنوبی پنجاب سے ایک خبر تصاویر کے ساتھ گردش کرتی رہی کہ پی ٹی آئی کے سنیئر رہنماجہانگیرخان ترین کے علاقے لودھراں سے ان کے سپورٹر سردار مظہر جوکہ علاقے کے بڑے زمیندار اور گاﺅں کے نمبردار بھی ہیں، احساس پروگرا م کی رقم خود وصول کررہے ہیں تاکہ وہ اسے اپنی مرضی سے اپنے من پسند افراد میں بانٹ سکیں۔
بتایا گیا ہے کہ ایک حکومتی اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے ایک رکن پارلیمان نے وزیراعظم کی توجہ اس جانب دلائی تو انہیں خاموش کروادیا گیا۔ دوسری طرف لاکھوں متاثرین ابھی تک انتظار میں ہیں کہ کب انہیں حکومت کی جانب سے کوئی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ بڑی شکایت یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ نمبرز پر فون کرنے پر انہیں ایک ماہ سے بار بار ایک ہی جواب مل رہا ہے کہ ان کے مستحق ہونے کا یا نہ ہونے کا تعین کیا جارہا ہے.
اسی طرح رمضان میں کھانے پینے کی اشیاءمیں پانچ سے دس گنا اضافہ ہوگیا ہے مگر حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آتی۔ وفاقی حکومت نے لاک ڈاﺅن کے دوران یوٹیلٹی بلوں میں ریلیف دینے کا اعلان کیا مگر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ اب لاک ڈاﺅن کوتقریبا 2ماہ ہونے کو ہیں مگر حکومت ابھی تک مستحقین کے تعین کے لیے کمیٹیاں اور فورسزتشکیل دینے میں مصروف ہے۔ وفاقی حکومت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی کابینہ میں وزیراعظم کے معاونین عوام تک ریلیف پہنچانے میں رکاوٹ ہیں جن میں وزیراعظم کی مشیرثانیہ نشتر‘ معید یوسف‘وفاقی وزیراسد عمر اور مشیرصحت ڈاکٹرظفر مرزا شامل ہیں جن کی وجہ سے حکومت اب تک مستحقین کی مدد میں ناکام نظر آتی ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ عالمی اداروں سے موصول ہونے والی رقوم کو خرچ کرنے کے عمل میں بھی شفافیت نہیں ہے جس پر کئی عالمی ادارے اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ اب رہی سہی کسر رائے عامہ کا جائزہ لینے والے بین الاقوامی ادارے ”گیلپ انٹرنیشنل“ سے منسلک ”گیلپ پاکستان“ کی رپورٹ نے پوری کردی ہے۔ گیلپ نے کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاﺅن سے پیدا ہونے والے معاشی بحران پر پاکستان میں سروے کیا ہے جس کے مطابق ایک بڑی تعداد میں عام شہریوں کے لیے نہ صرف غذائی اور مالی عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ انہیں روز مرہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بعض اثاثے فروخت کرنے پڑے ہیں. گیلپ پاکستان ملک گیر سروے کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شہریوں نے بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے لیے روز مرہ کی خوراک میں کمی کی ہے۔ سروے کے مطابق لگ بھگ 23 فی صد پاکستانی ایسے ہیں جن کا روز مرہ کی بنیادی ضروریات کے لیے انحصار کم ترجیح کی حامل اور سستی اشیا خور و نوش پر ہے. اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ 40 افراد ایسے ہیں جنہوں اپنی خوراک کے حصول کے لیے قرض یا اپنے کسی دوست کا عزیز کی مدد پر انحصار کرنا پڑا۔ گیلپ کے مطابق کرونا کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے عوام میں مالی عدم تحفظ کا احساس بڑھنے لگا ہے۔
یاد رہے کہ کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے پہلے پاکستان میں بے روزگار افراد کی تعداد تقریبا 50 لاکھ تھی لیکن وائرس کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں رکنے سے اب بے روزگار افراد کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
