ووٹوں کی ’خرید و فروخت‘:خیبرپختونخوا کے وزیر قانون مستعفی

کچھ سابق اور موجودہ اراکینِ خیبرپختونخوا اسمبلی کی مبینہ طور پر پیسے وصول کرنے کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد خیبرپختونخوا کے موجودہ وزیرِ قانون سلطان محمد خان نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس سے قبل ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد وزیرِاعظم عمران خان نے سلطان محمد خان سے استعفیٰ لینے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔
دریں اثنا اس وڈیو میں نظر آنے والے ایک رکن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پیسے پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ اور اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کے حکم پر اور اسپیکر کے کمرے دیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم انہوں نے مانگی نہیں تھی بلکہ انہیں خود دی گئی تھی۔ جن اراکین اسمبلی کو اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ دو الگ الگ ویڈیوز ہیں جنہیں جوڑا گیا ہے اور ایسا تاثر دکھایا گیا ہے جیسے یہ ایک ہی ویڈیو ہو۔ سلطان محمد خان نے استعفی دیتے ہوئے اپنے آپ کو کسی بھی قسم کی انکوائری کےلیے پیش کیا اور کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ان پر لگے تمام الزامات جھوٹے ثابت ہوں گے۔ منظرِ عام پر آنے والی اس ویڈیو میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے متعدد سابق اور موجودہ اراکین کے سامنے نوٹوں کے انبار لگے دیکھے جا سکتے ہیں تاہم تاحال اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ یہ ویڈیوز کس وقت بنائی گئی تھیں۔ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل نے خیبرپختونخوا کے وزیرِ قانون سے استعفیٰ لینے سے متعلق اعلان اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے اس حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو احکامات دے دیے ہیں اور جلد معاملے کی انکوائری کرکے رپورٹ پیش کی جائے گی۔ ادھر وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے اس حوالے سے تین ٹویٹس سامنے آئی ہیں جس میں انہوں نے سینیٹ انتخابات میں مبینہ خرید وفروخت سے متعلق پاکستان کے سیاسی نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان ویڈیوز سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سیاست دان سینیٹ میں کس طرح سے ووٹوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے سینیٹ انتخابات 2021 اوپن بیلٹ سے کرانے کی تجویز دی گئی ہے تاہم اپوزیشن کی جانب سے اس کی مخالفت کی جا رہی ہے۔
حکومت کا سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کا صدارتی ریفرنس بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جب کہ سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی آرڈیننس بھی جاری ہو چکا ہے۔ تاہم یہ صدارتی آرڈیننس سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط کیا گیا ہے۔
عمران خان نے اپنی ٹویٹس میں سیاست دانوں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سیاسی اشرافیہ پیسے کی مدد سے اقتدار میں آتی ہے اور پھر طاقت کے ذریعے بیوروکریٹس، میڈیا اور دوسرے اعلیٰ عہدیداروں کو خرید کر اپنی اجارہ داری قائم کرتی ہے اور پھر قوم کا پیسہ لوٹ کر اسے منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرونِ ملک اکاؤنٹس، غیرملکی اثاثے بنانے میں استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن اتحاد (پی ڈی ایم) کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ پی ڈی ایم اس کرپشن دوست نظام کی حمایت کرکے اسے بچانا چاہ رہی ہے۔ ہم کرپشن اور منی لانڈرنگ کے اس نظام کو ختم کرنے کےلیے پرعظم ہیں جو ہماری قوم کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو بظاہر 2018 میں سینیٹ انتخابات سے پہلے بنائی گئی تھی جب خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف مطلوبہ تعداد میں ووٹرز ہونے کے باوجود اپنے دو افراد کو سینیٹر منتخب نہیں کرا پائی تھی اور پاکستان پیپلز پارٹی جس کے پاس مطلوبہ تعداد میں اراکین اسمبلی نہیں تھے لیکن ان کے امیدوار کامیاب ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد صوبائی سطح پر تحقیقات کی گئیں جس میں 14 ایسے اراکین تھے جن پر رقم لینے کا الزام عائد کیا گیا تھا اور ان کی پارٹی رکنیت ختم کر دی گئی تھی۔ اب یہ ویڈیو تین سال بعد ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب حکومت سینیٹ انتحابات کے بارے میں ایک ایسی قانون سازی کےلیے کوششیں کر رہی ہے جس میں وہ سینیٹ کے انتخاب خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانا چاہتی ہے۔ اس بارے میں چند روز پہلے صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے دستخط شدہ آرڈیننس جاری کر دیا گیا ہے۔ اس آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس پر پاکستان کی اعلیٰ عدالت کی رائے سے مشروط کیا گیا ہے۔ الیکشن ترمیمی آرڈیننس 2021 میں پاکستان کے الیکشن ایکٹ 2017 کی سینیٹ الیکشن کے حوالے سے تین شقوں 81، 122 اور 185 میں ترمیم کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کی رائے اس کے حق میں ہو گی تو قوانین میں تبدیلی کے ساتھ اوپن ووٹنگ کرائی جائے گی۔ بظاہر اس ویڈیو میں سابق دور حکومت کے اراکین اسمبلی نظر آ رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں عبید مایار کو دکھایا گیا ہے کہ ان کو نوٹوں کی گڈیاں دی جاتی ہیں اور وہ خود اپنے ہاتھوں سے بیگ میں رکھتے ہیں۔ یہ ویڈیو آج جیسے ہی جاری ہوئی تو سوشل میڈیا پر ایسی وائرل ہوئی کہ تمام میڈیا پر نشر کی گئی۔ اس ویڈیو میں رقم لیتے دکھائی دینے والے متعدد اراکین اسمبلی میں سے عبید مایار ہیں جنہوں نے کہا کہ ہاں میں نے یہ رقم لی تھی اور یہ پی ٹی آئی حکومت کی دور میں وزیر اعلیٰ اور اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کے حکم پر دیے گئے تھے اور جس کمرے میں یہ رقم دی جا رہی تھی وہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں سپیکر کا کمرہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقم سب اراکین اسمبلی کو اپنی پارٹی اور پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے دی گئی تھی اور یہ رقم انہوں نے مانگی نہیں تھی بلکہ انہوں خود دی گئی تھی تاکہ اس وقت سینیٹ کے امیدوار کو ووٹ دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دو الگ الگ ویڈیو ہیں اور وہ حکومت کے امیدوار کی حمایت کر رہے تھے اور یہ رقم انہیں دی گئی تھی اور یہ رقم کوئی ترقیاتی کاموں کےلیے نہیں دی گئی تھی بلکہ ان سے کہا گیا تھا کہ اس سے پھر آپ اپنی آئندہ انتخابی مہم چلا سکیں گے۔ عبید مایار نے دعویٰ کیا کہ یہ کل ایک کروڑ روپے تھے اور تمام اراکین الگ الگ کمروں میں بیٹھے تھے اور ان سے الگ الگ کہا گیا تھا کہ انہوں نے سینیٹ کے انتخاب میں کس کس کو ووٹ دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت وزیر اعلیٰ پرویز خٹک تھے اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر تھے۔ عبید مایار نے کہا کہ انہیں نے یہ رقم 2018 کے سینیٹ کے انتخاب سے پہلے دی گئی تھی اور وہ اس وقت بھی یہی کہہ رہے تھے اور اب بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ وزیر قانون سلطان محمد خان نے کہا ہے کہ اس ویڈیو میں وہ موجود نہیں ہیں اور انہوں نے اس ویڈیو سے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔ سلطان محمد خان سابق دور میں قومی وطن پارٹی شیرپاؤ گروپ کا حصہ تھے۔ دوسری جانب ایک میز کے سامنے پیپلز پارٹی کے سابق پارلیمانی لیڈر محمد علی شاہ بیٹھے ہیں جو سگریٹ پی رہے ہیں اور ان کے سامنے میز پر بظاہر نوٹوں کی گڈیاں نظر آ رہی ہیں۔ محمد علی شاہ باچا نے کہا ہے کہ یہ دو الگ الگ ویڈیوز ہیں اور ان کو جوڑا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب جہاں اراکین اسمبلی رقم لے رہے ہیں وہ ویڈیو الگ ہے جب کہ جہاں وہ بیٹھے ہوئے دکھائی گئے ہیں وہ الگ ویڈیو ہے۔ ان سے جب پوچھا جاتا ہے کہ ان کے سامنے میز پر نوٹوں کی گڈیاں تو نظر آ رہی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ کچھ اور ہو سکتا ہے یہ کتابیں بھی ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح مبینہ طور پر سردار ادریس بھی اس ویڈیو میں نظر آ رہے ہیں لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس ویڈیو میں نہیں ہیں۔ اسی طرح اس ویڈیو میں معراج ہمایوں خان بھی موجود ہیں جو سابق دور میں آفتاب شیرپاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی میں شامل تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button