ووٹ رکن اسمبلی کا انفرادی حق ہے، نااہلی ممکن نہیں

کپتان حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے حوالے سے دائر کردہ صدارتی ریفرنس پر اپنا جواب داخل کرواتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے موقف اختیار کیا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک میں ہر رکن قومی اسمبلی کے ووٹ کا حق انفرادی ہوتا ہے، اجتماعی نہیں، اور پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینے والا نا اہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔
سپریم کورٹ بار کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کسی سیاسی جماعت کا حق نہیں، کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جا سکتا، آرٹیکل 63 اے میں پارٹی ڈائریکشن کیخلاف ووٹ ڈالنے پرکوئی نااہلی نہیں۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے اپنے ریفرینس میں سپریم کورٹ سے رائے مانگی تھی کہ کیا اُن ارکانِ قومی اسمبلی کے ووٹ کی کوئی حیثیت ہے یا نہیں جو وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ میں اپنی پارٹی کے مؤقف کے برخلاف جا کر ووٹ دیں۔
یہ صدارتی ریفرنس وزیرِ اعظم عمران خان کے مشورے پر بھیجا گیا، جس کی بنیاد تحریک انصاف کے سربراہ کی طرف سے ایسے 14 اراکین کو شوکاز نوٹس ہے، جس میں ان سے پارٹی سے انحراف سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سیاسی جماعتوں بشمول تحریکِ انصاف کی جانب سے مجوزہ سیاسی جلسوں کے پیشِ نظر اپنی درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ سیاسی تصادم اور متوقع ناخوشگوار حالات کو روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ کا حصہ ہیں۔ تمام سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس بینچ کی تشکیل پر اعتراض کرتے ہوئے ایک خط میں عمر عطا بندیال کو یاد دلایا ہے کہ آئینی معاملات پر بنائے گئے بنچوں میں ہمیشہ سینئر ترین ججوں کو شامل کیا جاتا ہے جبکہ انہوں نے اپنی مرضی کہ جونیئر ججوں کو اس بنچ کا حصہ بنایا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خط میں رجسٹرار سپریم کورٹ پر بھی اعتراض اٹھایا اور لکھا کہ ان کی تعیناتی کا بنیادی مقصد حکومتی ایجنڈا آگے بڑھانا ہے۔
خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر کر رکھی ہے جس پر قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلوایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جمعیت علما اسلام نے بھی صدارتی ریفرنس پر جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیے ہیں۔ خیال رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے آرٹیکل 63 اے اور تحریک عدم اعتماد کے روز تصادم روکنے سے متعلق سماعت کو یکجا کر کے 24 مارچ کو سننے کے احکامات جاری کیے تھے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت مجلس شوریٰ یعنی پارلیمان میں ووٹ ڈالنا رکن قومی اسمبلی کا انفرادی حق ہے اور کسی رکن اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جاسکتا۔ ہر رکن قومی اسمبلی اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے میں خودمختار ہے۔ بار ایسوسی ایشن نے موقف اپنایا کہ آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کسی سیاسی جماعت کا حق نہیں ہے۔ بار کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 95 کے تحت ڈالا گیا ہر ووٹ گنتی میں شمار ہوتا ہے اور عوام اپنے منتحب نمائندوں کے ذریعے نظام حکومت چلاتے ہیں.
جے یو آئی کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سلیکٹیڈ عہدیدار آرٹیکل 63 اے کے تحت ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے کی ہدایت نہیں دے سکتے۔ جے یو آئی کے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپیکر کو اراکین کے ووٹ مسترد کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا، اور لازمی نہیں کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے ہی ریفرنس پر رائے دی جائے اور اگر سپریم کورٹ نے ووٹنگ سے پہلے رائے دی تو الیکشن کمیشن کا فورم غیر موثر ہو جائے گا۔ جے یو آئی کے عدالت عظمیٰ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 63 اے پہلے ہی غیر جمہوری ہے، پارٹی کے خلاف ووٹ پر تاحیات نااہلی کمزور جمہوریت کو مزید کمزور کرے گی۔ عدالت پارلیمنٹ کی بالادستی ختم کرنے سے اجتناب کرے۔ جے یو آئی نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ عدالت ‘پارلیمنٹ کی بالادستی ختم کرنے سے اجتناب کرے’ جبکہ اس کا کہنا حکومتی جماعت تحریک انصاف میں پارٹی انتخابات نہیں ہوئے ہیں لہذا پارٹی کو سلیکٹیڈ عہدیدار چلا رہے ہیں۔
جے یوآئی کی جانب سے جواب میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ کسی رکن کے خلاف نااہلی کا کیس بنا تو معاملہ ویسے بھی سپریم کورٹ تک آنا ہی ہے۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریفرنس سے لگتا ہے صدر وزیراعظم اور سپیکر ہمیشہ صادق اور امین ہیں اور رہیں گے.
