وکلا اورعدلیہ کے درمیان سول عدالتوں کی تقسیم کا تنازعہ حل نہ ہو سکا

6ماہ بعد بھی وکلا اور عدلیہ کے درمیان سول عدالتوں کی تقسیم کا تنازعہ حل نہ ہو سکا ۔

عدالتوں کی تقسیم کے تنازعہ پروکلا کیخلاف دہشت گردی کے مقدمات بھی درج ہوچکے ہیں۔ عدلیہ نوٹیفیکیشن واپس لینے کو تیار نہیں اور وکلاء بھی موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔وکلاء مطالبات کی منظوری تک ہڑتال  کیلئے  ڈٹ گئے۔

 سابق چیف جسٹس لاہور کی جانب سے سول کورٹس کی تقسیم کا نوٹیفیکشن جاری کیا گیا تھا۔وکلاء کی جانب سے مختلف انداز میں احتجاج ریکارڈ کروایا جاتا رہا۔مگر کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔8مئی کو  وکلاء کی جانب سے ایوان عدل سے جی پی او چوک لاہور ہائیکورٹ تک ریلی نکالی گئی تھی ۔اسی دوران وکلاء کی جانب سے ہائیکورٹ کے بیرئیر ہٹا کر اندر جانے کی کوشش پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج ، شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔۔ جوابی کارروائی میں وکلاء کی جانب سے پتھرا ؤکیا گیا ۔

لاہور ہائیکورٹ کے صدر اسد منظور بٹ نے کہا کہ پولیس کی جانب سے زیادتی کی گئی ہے۔ وکلاء کے مطالبات جائز ہیں جب تک مطالبات پورے نہیں ہو جاتے ہم اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

سنئیر رہنما حامد خان نے کہا کہ پولیس نے وکلاء پر تشدد کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ہم۔اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم وکلاء کو تقسیم کرنے کی سازش کو ناکام کرینگے۔

Back to top button