ُُپاکستان کاآئندہ چند ہفتوں میں کرونا کی ویکسین کی تیاری کا اعلان

وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے علاج میں مددگار دوا ’ریمڈیسویر‘ کی پاکستان میں تیاری آئندہ چند ہفتوں میں شروع ہو جائے گی۔
جمعہ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ اس دوا کی پاکستان میں تیاری کے بعد اسے 127 ممالک میں برآمد کیا جائے گا۔معاونِ خصوصی کے مطابق ریمیڈیسویر انجیکشن کی صورت میں دستیاب ہو گی اور پاکستان کی کوشش ہو گی کہ یہ دوا کم قیمت میں دستیاب ہو۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک دوا بنی ہے جو امریکا کی ملٹی نیشنل کمپنی گیلیڈ نے بنائی ہے اور اس کو تجرباتی طور پر استعمال کیا گیا جس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ خاصی مؤثر دوا ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق اس دوا سے امریکا میں ہسپتالوں میں موجود مریضوں کے قیام میں تقریباً 30 فیصد تک کمی آئی۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ چونکہ اس دوا سے بیماری کے علاج پر بہت گہرے اثرات پڑیں گے لہٰذا پاکستان کی حکومت کی کوشش تھی کہ ایسے انتظامات کریں کہ یہ دوا جلد از جلد پاکستان میں کورونا مریضوں کے لیے دستیاب ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان کی ایک مقامی دواساز کمپنی نے لیڈرشپ کا مظاہرہ کیا اور گیلیڈ کے ساتھ انتظامات کیے۔
اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے 7 مارچ کو امریکی کمپنی کی قیادت سے بات چیت کی تھی اور انہیں بتایا کہ پاکستان میں اس کی معیاری پیداور ہوسکتی ہے لہٰذا پاکستان کو اس کا موقع دینا چاہیے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ گیلیڈ نے پوری دنیا میں صرف 5 کمپنیوں کو یہ لائسنس دیا ہے جسے والنٹری لائسنس یا نان ایسکلیوسو والنٹری لائسنس کہا جاتا ہے، جس کے تحت اس دوا کی مینوفیکچرنگ پاکستان کی ایک اور جنوبی ایشیا کی 4 کمپنیوں میں ہوگی۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ اس دوا کی پاکستان میں چند ہفتوں میں تیاری شروع ہوجائے گی اور یہ دوا ایک ٹیکے کی صورت میں ہوگی اور اس کا نام ‘ریمڈیسویر’ ہے جو ایک اینٹی وائرل دوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں 6 سے 8 ہفتوں میں اس دوا کی تیاری شروع ہونے کے بارے میں بتایا گیا ہے، یہ دوا نہ صرف پاکستان میں لوگوں کو دستیاب ہوگی بلکہ اسے 127 ممالک میں برآمدات بھی کیا جاسکے گا، جس کے ساتھ ہی پاکستان ان 3 ممالک میں شامل ہوگا جہاں سے اس دوا کی برآمدات بھی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہے اور اسے پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج ہوسکے گا۔
واضح رہے کہ ریمڈیسیور ایک تجرباتی اینٹی وائرل دوا ہے جسے کورونا وائرس کے مریضوں پر استعمال کیا جارہا جبکہ حال ہی میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے اس کی منظوری دی تھی۔بعد ازاں 6 مئی کو امریکی دوا ساز کمپنی گیلیڈ سائنسز نے کہا تھا کہ وہ کورونا وائرس کے مریضوں پر بہتر نتائج فراہم کرنے والی دوا ‘ریمڈیسیور’ کی پیداوار شروع کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت میں ادویات ساز کمپنیوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔جس کے بعد 7 مئی کو جاپان نے کووڈ 19 کے علاج کے لیے گیلیڈ سائنسز کی اس دوا ‘ریمڈیسیور’ کے استعمال کی باقاعدہ اجازت دی تھی۔
13 مئی کو پاکستانی کمپنی فیروز سننز لیبارٹریز نے اعلان کیا تھا کہ ان کی ذیلی کمپنی بی ایف بائیو سائنسز لمیٹڈ (بی ایف بی ایل) کا کورونا کے خلاف بہتر نتائج دینے والی دوا ریمڈیسیور کی تیاری اور اسے پاکستان سمیت 127 ممالک کو فروخت کے لیے امریکی کمپنی گیلیڈ سائنسز انکارپوریشن کے ساتھ لائسنس معاہدہ ہوگیا۔
یاد رہے کہ ادویات تیار کرنے والی امریکہ کی ایک کمپنی نے کووڈ 19 کا علاج کرنے والی دوا ‘ریمڈیسویر’ کو وسیع پیمانے پر تیار کرنے کے لیے جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والی پانچ دوا ساز کمپنیوں سے معاہدے کیے تھے۔یہ معاہدے ‘گیلیڈ’ اور انڈیا اور پاکستان کی پانچ دوا ساز کمپنیوں کے درمیان طے پائے ہیں اور یہاں تیار کی جانے والی دوا دنیا کے 127 ملکوں کو فراہم کی جائے گی۔’ریمڈیسیور’ کے دنیا کے کئی ہسپتالوں میں کیے جانے والے تجرباتی استعمال میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی علامات کو پندرہ دن کے بجائے دس دن میں ختم کر دیا تھا۔
وائرس کو ختم کرنے والی یہ دوا اصل میں ایبولا کے علاج کے طور پر تیار کی گئی تھی۔یہ دوا انسانی جسم میں موجود ان اینزائم یا خامرہ کو ختم کرتی ہی جن کی خلیوں میں توالید کے لیے اس وائرس کو ضرورت ہوتی ہے۔گیلیڈ کمپنی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان پانچوں کمپنیوں کو لائسنس کے تحت ریمڈیسویر بنانے کی ٹیکنالوجی فراہم کی جائے گی تاکہ اس دوا کی وسیع پیمانے پر تیاری کو ممکن بنایا جا سکے۔اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ان لائسنس پر کوئی رائلٹی یا معاوضہ اس وقت تک نہیں لیا جائے گا جب تک عالمی ادارۂ صحت کووڈ 19 سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورت حال ختم ہونے کا اعلان نہیں کر دیتا یا دوسری کوئی دوا یا ویکسین تیار اور علاج کے لیے منظور نہیں کر لی جاتی۔یہ معاہدے سپلا لیمیٹڈ ، فیروزسنز لیباٹری، ہیٹرو لیبز لیمیٹڈ، جوبیلینٹ لائف سائنسز اور میلن کے ساتھ طے ہوئے ہیں۔ حیدرآباد انڈیا میں قائم نجی کمپنی ہیٹرو کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ ابھی اس دوا کی قیمت کا تعین کرنا قبل از وقت ہو گا۔
وامسی کرشنا بندی نے کہا کہ ‘صورت حال جون تک واضح ہو گی۔جب انھیں امید ہے کہ اس دوا کا حکومتی اداروں میں ڈاکٹروں کی نگرانی میں استعمال شروع ہو گا۔ ‘انھوں نے کہا کہ مقصد اس دوا میں خود کفالت حاصل کرنا ہے تاکہ اگر انڈیا میں اس دوا کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو یہ وافر مقدار میں ملک میں موجود ہو۔‘ہیٹرو لیب کی قدر ایک ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہے اور دنیا میں وائرس کش ادویات تیار کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور یہ پچاس لاکھ ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو دوا فراہم کرتی ہے۔ ہیٹرو لیب دنیا بھر میں پھیلی ہوئی اپنی 36 لیبارٹریوں میں تین سو سے زیادہ مختلف ادویات تیار کرتی ہے۔
انڈیا کے میڈیکل سائنس اور ادویات کے کنٹرول کے حکام کو پہلے یہ اعلان کرنا ہو گا کہ وہ اس دوا کے استعمال کی کسی طرح اجازت دیتے ہیں۔انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے سینیئر سائنسدان نے کہا ہے کہ اگر انڈین کمپنیوں نے اس دوا کی تیاری شروع کر دی تو وہ اس کے استعمال کی اجازت دینے کے بارے میں غور کریں گے۔رمن گنگاکدیکر نے کہا کہ ‘ابتدائی مشاہدوں کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دوا موثر ہے۔ ہم عالمی ادارۂ صحت کے تجربات کے نتائج کا انتظار کریں گے اور دیکھیں گے کہ اگر کوئی اور کمپنی اس پر مزید پیش رفت کرتی ہے۔’
ریمڈیسویر کا تجربہ امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اور انفیکش ڈیزیزز نے کیا تھا جس میں 1063 افراد نے حصہ لیا تھا۔ کچھ مریضوں کو یہ دوا دی گئی اورکچھ کو پلیسبو۔اس امریکی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سے صاف صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دوا بیماری سے نکلنے کی مدت کو کم کرنے میں کافی مؤثر ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ نتائج ثابت کرتے ہیں کہ یہ دوا وائرس کو بلاک کر رہی ہے اور اب یہ راستے کھول رہی ہے کہ ہمارے پاس اب اس مرض کے علاج کی صلاحیت موجود ہے۔لیکن ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ اس کا اموات پر کیا اثر پڑتا ہے۔جن مریضوں کو ریمڈیسویر دی گئی ان میں اموات کی شرح آٹھ فیصد تھی جب کہ جن کو پلیسبو دی گئی ان میں اموات کی شرح گیارہ فیصد تھی۔ یہ فرق کوئی اتنا بڑا نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر سائنسدان یہ کہہ سکیں کہ یہ فرق دوا سے پڑا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اس دوا سے کس کو فائدہ ہو رہا ہے اور اس سے نئے سوالات نے جنم لیا ہے۔کیا اس دوا سے ان مریضوں نے جنھوں نے ہر صورت صحت یاب ہو ہی جانا تھا کیا جلدی صحت یاب ہو گئے ہیں؟ کیا اس دوا کے استعمال سے مریضوں کو علاج کے لیے انتہائی نگہداشت کی ضرورت نہیں پڑی؟کیا یہ دوا کم عم مریضوں کے لیے زیادہ مؤثر ہے؟ یا جن کو کوئی دوسری بیماری لاحق نہیں ہے؟ کیا مریضوں کو مرض کے ابتدائی دنوں ہی میں علاج کی ضرورت ہوتی ہے جب وائرس جسم میں اپنی پوری شدت پر ہوتا ہے؟ یہ تمام پہلو بہت اہم ہیں تاہم ان کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button