فوجی تنصیبات پر حملے کرنیوالوں کے ٹرائل کا فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں،اعظم نذیر تارڑ

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جن افراد نے آرمی تنصیبات پر حملہ کیا، ان کے ٹرائل کا فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ ہم نے قانونی نظام کو پہلے سے بہتر بنایا ہے اور اختلافات کا مطلب لڑائی نہیں بلکہ مہذب معاشرے کا حسن ہے۔ انہوں نے آئینی ترمیم پر تنقید کے حوالے سے کہا کہ 22 کروڑ عوام کی پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے اور یہ طے شدہ معاملہ ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے ججز کے ٹرانسفر کے حوالے سے کہا کہ صدر اور چیف جسٹس کے پاس اختیار تھا، اور اب طریقہ کار مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر جوڈیشل کمیشن ججز کو تعینات کر سکتا ہے تو وہ ان کی ٹرانسفر کیوں نہیں کر سکتا، اور پنجاب کے اچھے ججز سندھ اور کے پی کے میں خدمات دے سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آئین میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے اور 1973 سے سپریم کورٹ نے کسی آئینی ترمیم کو چیلنج نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ سویلین ملٹری ٹرائل کے حامی نہیں، لیکن جب نظام قانون اور آئین کے تحت بات آتی ہے تو سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قانون کے تحت سویلین کا ملٹری ٹرائل ممکن ہے، اور جو بھی ریڈ لائن کراس کرے، اس کے لیے قوانین موجود ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آرمی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہی ہونا چاہیے۔

Back to top button