کیا راہول گاندھی مودی کو الیکشن میں بڑا اپ سیٹ دینے والے ہیں؟

بھارتی میڈیا میں اب یہ قیاس آرائیاں عروج پر ہیں کہ ملک میں جاری عام انتخابات کے حتمی نتائج میں کانگرس کے امیدوار راہول گاندھی نریندر مودی کو بڑا اپ سیٹ دے سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کا پارلیمنٹ میں 400 سیٹیں حاصل کر کے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کا خواب چکنا چور ہو سکتا ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ھارت میں لوک سبھا کی 543 سیٹوں کیلئے عام انتخابات کا مرحلہ وارانعقاد جاری ہے۔ 19 اپریل سے یکم جون تک سات مراحل میں ہونیوالے ان انتخابات میں 97 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں۔ انتخابات کے نتائج کا اعلان 4 جون کو کیا جائے گا اور 543 کے ایوان میں 272 یا اس سے زائد سیٹیں حاصل کرنیوالی جماعت یا اتحاد نئی حکومت بنائے گا۔ گزشتہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو 303 جبکہ کانگریس کو صرف 52 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ حالیہ انتخابات بھارتی وزیر اعظم نرنیدر مودی کے سیاسی مستقبل کا بھی فیصلہ کریں گے جو دس برس سے بھارت کے حکمران ہیں۔ 2014ء میں ہونیوالے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد بھارتیہ جتنا پارٹی کے نریندرمودی پہلی بار بھارت کے وزیر اعظم بنے تھے۔ اس مرتبہ وہ تیسری بار وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی ان کا یہ خواب چکنا چور کر سکتے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم اور بی جے پی نے اس الیکشن مہم میں مسلم مخالف جذبات کو ہوا دے کر ووٹڑز کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ بی جے پی رہنماؤں کی تقریروں میں جس شدت اور برجستگی کے ساتھ مسلمانوں کو ہدف بنایا گیا ہے ماضی کے کسی انتخاب میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بار کے الیکشن کے لیے ’اس بار 400 پار‘ کا نعرہ دیا تھا۔ یعنی 543 رکنی لوک سبھا میں 400 سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا۔ انھوں نے انتخابی مہم کا آغاز بہت پراعتماد طریقے سے کیا۔ ان کی ابتدائی تقریروں میں رام مندر کی تعمیر کے وعدے کو پورا کرنا، کشمیر کی دفعہ 370 کو ہٹانا اور ان کی دس برس کی حکومت کی کارکردگی کا ذکر ہوتا تھا لیکن الیکشن کے سات میں سے ابتدائی دو مراحل کے فوراً بعد ان کا لب و لہجہ اچانک بدل گیا اور ان کی زیادہ تر توجہ مسلم مخالف مسائل پر مرکوز ہو گئی۔ انھوں نے اپنی تقریروں میں کہنا شروع کیا کہ اگر اپوزیشن کانگریس اقتدار میں آ گئی تو وہ ہندوؤں کی زمین، جائیداد یہاں تک کہ مویشی اور زیورات تک ضبط کر لے گی اور انھیں مسلمانوں میں تقسیم کر دے گی۔ ایک تقریر میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر کانگریس اقتدار میں آ گئی تو وہ حال ہی میں تعمیر ہونے والے رام مندر پر بلڈوزر چلوا دے گی اور ملک کے بجٹ کا 15 فیصد مسلمانوں کے لیے مختص کر دے گی۔

تحریک انصاف کا سی ڈی اے کے خلاف عدالت جانےکا اعلان

اس طرح کے بیانوں کا ایک سلسلہ ہے۔ ان تقریروں سے وہ دو مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے ایک تو وہ ووٹروں کے ذہن میں کانگریس اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کو ہندو مخالف ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری جانب وہ ملک میں مسلمانوں کو ہندوؤں کے ایک مستقل دشمن کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ اس کا ووٹروں پر کتنا اثر ہو گا یہ تو حتمی نتیجے سے پتہ چلے گا لیکن یہ سوچ بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کا محور بنی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی دس برس سے اقتدار میں ہے۔ مودی عوام سے تیسری بار وزیراعظم کا مینڈیٹ مانگ رہے ہیں اور حکمران جماعت مودی کے نام پر ہی ووٹ مانگ رہی ہے۔

پارلیمانی انتخابات کے اب تک جو پانچ مرحلے کی پولنگ ہوئی ہے اس میں گذشتہ الیکشن کے مقابلے ووٹ کم پڑے ہیں۔ بعض انتخابی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مودی سے متعلق عوام میں جوش کی کمی کا اشارہ ہے۔ رکن پارلیمان اور سابق کانگریس رہنما کپل سبل نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی تقریروں سے پتہ چلتا ہے کہ ’ان کے دل میں کتنا زہر بھرا ہوا ہے۔ وہ برداشت نہیں کر پا رہے ہیں۔ انھیں یہ بھی معلوم ہے کہ مسلمان انھیں ووٹ نہیں دیں گے۔

’اس لیے بھی وہ اپنی نفرتوں کا کُھل کر اظہار کر رہے ہیں لیکن لوگ ان کی اصلیت کو پہچان گئے ہیں۔ لوگوں کا اب ان سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ ان کے خلاف اب پورے ملک میں ایک ماحول بن گیا ہے۔‘

انتخابات اب آخری مراحل میں ہیں۔ 25 مئی اور یکم جون کو ووٹنگ کے آخری دو مرحلے پورے کیے جائیں گے۔ اس وقت انتخابی مہم پورے عروج پر ہے۔ کانگریس اور اپوزیشن کی دوسری جماعتوں کے اتحاد کے رہنما بھی پوری شدت کے ساتھ انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ سیاسی تجزیہ گاروں کے مطابق ابتدا میں مودی حامی انڈین میڈیا نے جو فضا بنائی تھی اس میں لگتا تھا کہ یہ مقابلہ بالکل یکطرفہ ہو گا لیکن پولنگ کے پہلے مرحلے سے ہی یہ تاثر ٹوٹنے لگا۔ کانگرس کی زیر قیادت اپوزیشن نے وسائل کی کمی، مخالف میڈیا اور دوسری تمام مشکلوں کے باوجود بی جے پی کا پوری طاقت سے مقابلہ کیا ہے۔ ایک طویل عرصے کے بعد کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں نے ایک گرینڈ الائنس بنایا ہے۔ بیشتر ریاستوں میں وہ متحد ہو کر الیکشن لڑ رہی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اپوزیشن کا انڈیا الائنس واقعی ایک مضبوط اتحاد بن گیا ہے۔ ایسے میں اگر بی جے پی کے اتحاد اور انڈیا الائنس کے ووٹ کا تناسب دیکھیں تو دونوں کو 45 -45 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ یہ بڑی اہم بات ہے کیو کہ اکیلے اترپردیش میں ایسے 34 حلقے ہیں جہاں اپوزیشن الائنس کے پاس 40 فیصد سے زیادہ ووٹ ہے۔ وہ کرناٹک، پنجاب، کیرالہ اور تمل ناڈو جیسی ریاستوں میں بہت مضبوط ہے۔ بہار اور اترپردیش میں سخت ٹکر دے رہی ہیں۔‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بی جے پی جن موضوعات کو لے کر چل رہی تھی وہ چل نہیں پا رہے ہیں اس لیے وہ اب ہندو مسلم اور جذباتی ایشوز کا سہارہ لے رہی۔ اس کے برعکس اپوزیشن نے مہنگائی بے روزگاری، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی سوالات کو موضوع بنا رکھا ہے۔‘ بی جے پی نے گذشتہ انتخاب میں گجرات، کرناٹک، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، ہریانہ، بہار اور جھارکھنڈ میں 95 فیصد سے زیادہ سیٹیں جیتی تھیں۔ اتر پردیش میں اس نے 80 میں سے 64 سیٹیں جیتی تھیں۔ لیکن اپوزیشن کا الائنس اس بار ان ریاستوں میں بی جے پی کا متحد ہو کر مقابلہ کر رہا ہے اور سخت مقابلے کی توقع ہے۔ مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں بھی اسے انڈیا الائنس اور دوسری جماعتیں پوری طاقت سے چیلنج کر ری ہیں۔ ایسے میں اب تک جو اشارے مل رہے ہیں ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی کے اس مضبوط قلعے میں اس کی سیٹیں گھٹنے والی ہیں۔ کتنی سیٹیں گھٹیں گی یہ بتانا مشکل ہے لیکن یہ طے ہے کہ جو سیٹیں گھٹیں گی وہ بی جے پی کسی دوسری ریاست سے پورا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ کم وبیش بھارتی میڈیا بی جے پی کا حامی ہے۔ اس کے باوجود اب اس طرح کی بحث دیکھنے کو مل رہی ہے کہ بی جے پی کی کتنی سیٹیں کم ہوں گی۔ لہازا الیکشن اب یکطرفہ نطر نہیں آ رہا ہے اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ کانگرس کی جانب سے وزارت عظمی کے امیدوار راہول گاندھی اپنے مخالف نریندر مودی کو بڑا اپ سیٹ دے دیں۔

Back to top button