ٹرمپ حزب اللہ کی تعریف کرنے پر مجبور کیوں ہوگئے؟

امریکہ میں عدالتوں کے چکر لگانے میں مصروف سابق صدر ٹرمپ نے فلسطین کی مزاحمتی جماعت ’’حزب اللہ‘‘ کو سمارٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایسے حملوں کیلئے بالکل تیار نہیں تھا جبکہ امریکہ نے بیان دیا ہے کہ ہم اسرائیل کی پشت پر ہیں۔ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار فلوریڈا میں اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران کیا، اس بیان پر نہ صرف سوشل میڈیا صارفین اور سیاستدان ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ ان کی اپنی جماعت ری پبلیکن کے درجنوں رہنما بھی ان کیخلاف میدان میں آ گئے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب حماس کی طرف سے اسرائیل پر ایک غیر معمولی اور اچانک حملے کے بعد امریکی حکومت اسرائیل سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہہ رہی ہے وہ اسرائیل کی پشت پر کھڑی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے تنقید کی گئی ہے جبکہ وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی پریس سیکریٹری اینڈریو بیٹس نے ٹرمپ کے بیان کو ’خطرناک‘ قرار دیا ہے۔اس کے علاوہ بھی مختلف حلقوں کی جانب سے حزب اللہ کو سمارٹ یا ہوشیار قرار دینے پر ٹرمپ تنقید کی زد میں ہیں۔حماس کے آپریشن ’طوفان الاقصیٰ‘ میں لگ بھگ 13,00 اسرائیلی جب کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں 1,500 فلسطینیوں کی اموات ہوئیں اور چار لاکھ سے زائد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر کشیدگی برقرار ہے اور حماس کے حملے کے بعد رواں ہفتے لبنان کے جنوبی علاقے سے اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے گئے، جس کے جواب میں اسرائیل کی طرف سے بھی بھاری توپ خانے کا استعمال کیا گیا، جس سے جانی نقصان بھی ہوا۔اسرائیل نے دو سال قبل غزہ کی پٹی کے ساتھ اپنی سرحد پر ایک ارب ڈالر خرچ کر کے ’سمارٹ سکیورٹی‘ دیوار کی تعمیر کی لیکن حماس کے جنگجوؤں نے جس طرح اچانک اور غیر معمولی حملے میں اس دیوار کو عبور کیا، اس سے اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ دیکھیں ’حزب اللہ بہت سمارٹ ہے، وہ تمام بہت سمارٹ ہیں، اسرائیلیوں کو خود کو تیار رکھنا چاہئے، کیونکہ اسرائیلی وزیر دفاع ’احمق‘ ہیں۔ساؤتھ کیرولینا ریاست سے سینیٹر ٹم سکاٹ نے کہا کہ ’ہم کسی ایسے بیان کو قبول نہیں کر سکتے تھے جس سے اسرائیل کے دشمنوں کو یہ پیغام جائے کہ معاملے پر امریکی و اسرائیلی رہنماؤں میں اختلاف ہے۔
