ٹرمپ نے پاکستان کی تعریف کی تو بھارتیوں کو آگ لگ گئی

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے دورہ بھارت کے دوران عوامی تقریر میں پاکستان کے لیے اچھے الفاظ کے استعمال نے انڈیا میں کھلبلی مچا دی ہے اور اب یہ سوال کیا جارہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو بھارت جا کر پاکستان کے حق میں بات کرنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی تھی۔
تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خطاب میں پاکستان کو یہ پیغام دے گئے ہیں کہ اسلام آباد کی مدد کے بغیر واشنگٹن افغان طالبان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، لہذا پاکستان ان کے لئے بہت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں بھارتیوں کو خوش کرنے کے لیے پاکستان کے خلاف کوئی منفی بات کرنے کی بجائے یہ کہا کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہے جنہیں وہ اور بھی مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک اس وقت ایک ساتھ مل کر انتہائی مثبت انداز میں کام کر رہے ہیں۔
خارجہ امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ دو باتیں کہنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پہلی یہ کہ انڈیا اور امریکہ دونوں اسلامی انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے پاکستان کو یہ اشارہ کیا کہ ایسے وقت میں جب امریکہ افغانستان سے اپنی فوج واپس بلا رہا ہے، پاکستان ان کی ترجیح ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کو اس وقت درپیش سب سے بڑا چیلنج امریکی انتخابات سے قبل امریکی فوج کو افغانستان سے وطن واپس لانا ہے تاکہ وہ امریکی ووٹروں کو بتا سکیں کہ دیکھو ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ ٹرمپ نے انتخابات کے دوران کہا تھا کہ وہ امریکی افواج کو افغانستان اور عراق سے واپس بلا لیں گے۔ اس حوالے سے 29 فروری کو امریکہ اور طالبان کے مابین تاریخی معاہدے کا امکان ہے۔
خارجہ امور کے ماہرین سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ پاکستان کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی مدد کے بغیر، طالبان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، لہذا پاکستان ان کے لئے اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں پاکستان کے لئے کوئی منفی بات نہیں کہی۔ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ساتھ مل کرانتہائی مثبت انداز میں کام کر رہے ہیں۔ اگرچہ ہندوستان میں بے شمار لوگوں کو یہ بات پسند نہیں ہو لیکن ٹرمپ کے لئے افغانستان سب سے اہم ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان اس میں کسی قسم کی مشکل پیدا کرے۔ تاہم ، ٹرمپ پاکستان نہیں جا رہے ہیں۔ پہلے ایسا ہوا کرتا تھا کہ جب بھی امریکی صدر اس علاقے کا دورہ کرتے تھے تو وہ انڈیا اور پاکستان دونوں کے دورے کیا کرتے تھے لیکن براک اوباما کے بعد ایسا ہونا شروع ہوگیا کہ اگر امریکی صدر انڈیا آئے تو، وہ پاکستان نہیں گئے تھے۔
خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت میں لاکھوں لوگوں کے مجمع کے سامنے پاکستان کے لئے اچھے الفاظ کا استعمال کر کے دراصل پاکستان کو رام کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان کی سردمہری اور عدم تعاون سے اپنی انتخابی مہم اور امریکہ کے وسیع تر قومی مفادات سے متعلقہ اہداف کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
