ٹرمپ نے گرین کارڈ کا اجرا روک دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین گارڈ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کےلیے نئی مشکل کھڑی کردی۔ انہوں نے امریکا کی امیگریشن کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کردیا تاہم حکم نامے میں صرف مستقل رہائش کی درخواستوں کو روکا جائے گا عارضی طور پر کام کرنے والوں پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ کورونا وائرس سے متاثرہ امریکی معیشت میں نوکریوں کی مسابقت کو محدود کرنے کےلیے گرین کارڈ کے اجرا کو 60 روز کےلیے روک دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی امیگریشن پر پابندی 60 روز تک برقرار رہے گی اور اس کا اطلاق ان پر ہوگا جو مستقل رہائش کےلیے ’گرین کارڈ‘ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ اس پابندی کو ایک حکم نامے کے ذریعے نافذ کرنا چاہتے ہیں جس پر وہ ممکنہ طور پر آج (بدھ) کو دستخط کریں گے۔
ساتھ ہی امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس پابندی کا اطلاق ان پر نہیں ہوگا جو امریکا میں عارضی بنیادوں پر داخل ہورہے ہیں اور 60 روز گزرنے کے بعد صورت حال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امیگریشن روک دینے سے ملکی معیشت بحال ہونے پر بے روزگار امریکیوں کو پہلے موقع ملے گا۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وائرس کے باعث بے روزگار ہونےوالے امریکیوں کےلیے یہ غلط اور غیر منصفانہ ہوگا کہ ان کی جگہ بیرونِ ملک سے آنے والے پناہ گزینوں کو دے دی جائے، ہمیں پہلے امریکی ورکرز کا خیال کرنا چاہیئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکم نامے میں کچھ استثنیٰ بھی شامل ہوں گے اور وہ مزید 60 روز یا زائد عرصے کےلیے اس کی تجدید کرسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی معیشت کی بحالی کے بعد امریکا کی امیگریشن میں اضافے کا امکان ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ آجر کم تنخواہوں پر امیگرینٹس کو نوکری دینے کے بجائے نکالے گئے کارکنان کو دوبارہ ملازمتیں دیں۔
یہ بات مدِ نظر رہے کہ امریکا میں اکتوبر 2018 سے شروع ہونے والے مالی سال 2019 میں 4 لاکھ 62 ہزار امیگرینٹس کو ویزا جاری کیا گیا تھا، اس ویزے سے امیگرینٹس کو قانونی رہائش اختیار کرنے کی اجازت مل جاتی ہے جسے عرف عام میں گرین کارڈ کہتے ہیں۔
گرین کارڈ ملنے کے بعد وہ فرد امریکا میں رہائش اور کام کرسکتا ہے ساتھ ہی 5 سال بعد شہریت کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ منصوبے کے حوالے سے باخبر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ اس کا اطلاق ان غیر ملکیوں پر ہوگا جو نوکری کی بنیاد یا جو گرین کارڈ کے حامل رشتہ داروں (امریکی شہری نہ ہوں) کی بنیاد پر گرین کارڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم جو امریکی شہری اپنے قریبی عزیزوں کو بلوانا چاہتے ہیں وہ اب بھی ایسا کرسکتے ہیں، خیال رہے کہ مالی سال 2019 میں امریکا میں 10 لاکھ گرین کارڈ جاری کیے گئے جس میں نصف تعداد شریک حیات، بچوں اور والدین کی تھی۔ یہ بات مدِ نطر رہے کہ امریکی صدر طویل عرصے سے قانونی اور غیر قانونی امیگریشن پر پابندی کے خواہاں ہیں اور سالوں سے امریکیوں اور غیر ملکیوں کے مابین نوکری کی مسابقت کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ تاہم عالمی وبا کے باعث امیگریشن کا زیادہ تر نظام معطل ہے اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے تقریباً تمام ویزوں کا اجرا کئی ہفتوں سے رکا ہوا ہے اس کے ساتھ دنیا کے زیادہ تر حصوں سے امریکا کے سفر پر بھی پابندی عائد ہے۔
