ٹرمپ کا دورہ بھارت کسی بڑے معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوگیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے دوران دونوں ممالک کے دوران کوئی اہم تجارتی معاہدہ نہ ہوسکا۔ٹرمپ کے 2 روزہ دورے کے دوران امید کی جارہی تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں ٹیرف (محصولات) میں کمی کے معاہدے پر اہم پیش رفت ہوگی تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے دوران دفاع، توانائی اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون پر دستخط کیے گئے تاہم ٹیرف میں کمی کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔
دو بڑے تجارتی شراکت داروں کے رہنماؤں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ دورہ ٹیرف کے باعث ہونے والے فاصلوں میں کمی لائے گا۔دورے کے آخر میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارے درمیان ایک بڑے تجارتی معاہدے پر پیش رفت ہوئی ہے اور امید ہے کہ اس حوالے سے ہم جلد کسی نتیجہ خیز مرحلے پر پہنچ جائیں گے۔اس موقع پربھارتی وزیراعظم نریندرمودی کا کہنا تھا کہ ہمارے درمیان اتفاق ہوا ہے کہ ایک بڑے تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے۔
خیال رہے کہ 2018 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 142 اعشاریہ 6 ارب ڈالر تھا تاہم امریکا نے جون 2019 میں دو طرفہ تجارت میں نئی دہلی کو حاصل ترجیحی حیثیت کو ختم کردیا تھا ترجیحی حیثیت ختم ہونے کے باعث بھارت کی المونیم اور اسٹیل پر ٹیرف بڑھادی گئی تھی جب کہ دیگر متعدد اشیاء پر ڈیوٹی فری رعایت ختم کردی گئی تھی۔جس کے جواب میں بھارت نے امریکا کی 28 اشیاء پر اضافی ٹیرف عائد کردیا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی ا ور تجارتی تعلقات میں دراڑیں دیکھنے میں آرہی تھیں۔مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے بتایا کہ بھارت امریکا سے 3 ارب ڈالر کے اپاچی ہیلی کاپٹرز سمیت دیگر دفاعی آلات خریدے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button