ٹرمپ کی ایک بار پھر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دورہ بھارت کے آخری دن ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کردی ہے.
نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کشمیر بہت سے لوگوں کے لیے طویل عرصے سے بہت بڑا مسئلہ چلا آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘میں مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لیے تیار ہوں۔’
امریکی صدر نے کہا کہ ‘کشمیر کئے عرصے سے لوگوں کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے، ہر مسئلے کے دو رخ ہوتے ہیں، ہم نے دہشت گردی کے مسئلے پر تفصیل سے بات چیت کی’۔پاکستان میں دہشت گردی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے اس بارے میں تفصیل سے بات کی، اس میں دو رائے نہیں کہ یہ ایک مسئلہ ہے، پاکستان اس پر کام کر رہا ہے’۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کر چکے ہیں۔رواں برس جنوری میں انہوں نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران بھی اسی بات کا اعادہ کیا تھا۔تاہم بھارت نے معاملے کو داخلی معاملہ قرار دیتے ہوئے ثالثی کی پیش کش کو ایک بار پھر مسترد کردیا تھا۔علاوہ ازیں حال ہی میں بھارت کے وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر میں کسی تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں ہوگا کیونکہ یہ مسئلہ بھارت اور پاکستان کے مابین ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘میں نے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی کیونکہ میرے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اگر میں ان کے درمیان ثالثی کر سکتا ہوں تو ضرور کروں گا’۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے دوران امریکا اور بھارت کے مابین کوئی تجارتی معاہدہ نہیں ہوسکا۔امریکی صدر کے دورہ بھارت کو غیر معمولی اہمیت دی گئی لیکن تجارتی معاہدے کے تناظر میں دونوں بھارت اور امریکا کے مابین قابل ذکر معاہدہ نہیں ہوا۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے دورے کے دوران بھارت کو 3 ارب ڈالر کے فوجی اور جنگی آلات فروخت کرنے کے معاہدے میں کامیاب ہوگئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت میں اپنے دورے کے دوران پریس کانفرنس میں کہا کہ ‘امریکا کے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں’۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘بھارت ایک بہادر ملک ہے اور میرے دونوں رہنماؤں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں’۔امریکی صدر نے کہا کہ ‘مودی پرسکون شخصیت کے مالک ہیں لیکن بہت بہادر اور دہشت گردی سے متعلق ان کا سخت موقف ہے، ہم اس مسئلے سے نمٹیں گے’۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے متنازع شہریت ترمیمی قانون پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔امریکی صدر نے کہا تھا کہ میں اس مسئلے پر تبصرہ نہیں کروں گا، میں یہ معاملہ بھارت پر چھوڑتا ہوں۔انہوں نے بتایا تھا کہ ‘میں نے ذاتی طور پر مودی کے ساتھ مذہبی آزادی کا معاملہ اٹھایا ہے’۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ‘مودی مذہبی آزادی کے خواہاں ہیں’۔
واضح رہے کہ امریکی صدر کے دورے کے دوران ہزاروں افراد نے متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہرے بھی کیے اور اس دوران جھڑپوں میں کم سے کم 7 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button