ٹرمپ کی پی آئی اے کا روزویلٹ ہوٹل خریدنے کی خواہش

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) انویسٹمنٹس لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی پی آئی اے کی ملکیت ہوٹل روزویلٹ خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کااجلاس ہوا جس میں پی آئی اےکی کارکردگی پرغور کیا گیا۔ پی آئی اے کی ذیلی کمپنی پی آئی انویسٹمنٹس لمیٹڈ کے ایم ڈی نے شرکاء کو بریفنگ دی اور کہا کہ نیویارک کے روز ویلٹ ہوٹل اور پیرس کےہوٹل کی کمپنی ہی مالک ہے، روزویلٹ ہوٹل نیویارک کی عمارت بہت پرانی ہے، اس کی مرمت کاکافی خرچہ ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس ہوٹل نےگذشتہ سال 15 لاکھ ڈالر کا نقصان کیا، گذشتہ 20 سال میں روزویلٹ نے 45 کروڑ ڈالر کا منافع کمایا،روز ویلٹ ہوٹل کی بحالی کیلئے بڑی رقم درکار ہے، پیرس کاہوٹل فائیو اسٹار ہے جبکہ روز ویلٹ تھری اسٹار ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ روز ویلٹ کواستعمال کے قابل بناکر زیادہ منافع کمایاجاسکتا ہے۔اس موقع پر وزیر نجکاری محمد میاں سومرو نے کہا کہ ہوٹل کی نجکاری پر فنانشل ایڈوائزر مشورہ دے گا، ہوٹل بیچنےکاارادہ نہیں، لیزیاکسی کوشریک کرنےکاارادہ ہے۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے سوال کیا کہ کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روزویلٹ ہوٹل خریدنا چاہتے ہیں؟ جس پر ایم ڈی پی آئی اے انویسٹمنٹ لمیٹڈ ڈاکٹر نجیب سمیع نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں روزویلٹ ہوٹل خریدنا چاہتے تھے اور وہ اب بھی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ روزویلٹ ہوٹل 99 سال تک منافع دیتا رہا ہے لیکن پچھلے سال ہوٹل کو 15 لاکھ ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا، روزویلٹ کو مکمل ہوٹل کے طور پر چلانا منافع بخش نہیں ہے، ہوٹل کی جگہ دفاتر اور ہوٹلز بنائے جائیں جبکہ روزویلٹ کو طویل مدت کے لیے لیز پر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے رکن ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ نجکاری کے معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے، جن کے اپنے رئیل اسٹیٹ بزنس ہیں انہیں نجکاری کمیٹی میں لےلیاہے، ہم نجکاری کے خلاف نہیں مگر بہتر حالات اور وقت کا انتظار کیا جائے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ساری امریکی مارکیٹ سوچ رہی ہے کہ جب گھرسےکام چل سکتا ہے تو دفتر کی کیاضرورت، دنیا میں جب بھی وبا آتی ہے بہت بڑی تبدیلی آتی ہے، امریکا میں بڑے دفاتر خالی ہونے والے ہیں، ابھی فیصلہ کرنے کی بجائے انتظار کریں، ابھی نہ پی آئی اے بکے گی نہ ہوٹل۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری حکومت کو پی آئی اے کی نجکاری کرنا چاہیے تھی، روز ویلٹ کی نجکاری بے شک شروع کریں مگر فیصلہ سوچ سمجھ کےکریں۔ اس موقع پر پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان کے پائلٹس کو اب صومالیہ بھی چیک کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ نیویارک میں پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری نہیں کی جائے گی، حکومت ہوٹل کو نئے سرے سے تعمیر کرکے جوائنٹ وینچر پر چلائے گی جس کے لیے ایڈوائزر تعینات کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رکن خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پی آئی اے کے پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے معاملے پر حقائق بیان کیے جائیں۔سیکریٹری ایوی ایشن نے کمیٹی کو بتایا کہ 2018 میں پی آئی اے کے ایک پائلٹ نے اطلاع دی کہ ان کا لائسنس جعلی ہے جس کے بعد پائلٹس کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل شروع کیا گیا، اس دوران سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ تمام پائلٹس کی ڈگریاں چیک کی جائیں جس کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کی گئی۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے 450 پائلٹس کی ڈگریوں کا فرانزک آڈٹ کیا، فرانزک رپورٹ جون 2020 میں وزیر اعظم کو پیش کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیٹی نے 262 پائلٹس کی ڈگری مشکوک قرار دی تھی جن میں پی آئی اے کے 141 پائلٹس، نجی کمپنیوں کے 20 اور دیگر 100 پائلٹس شامل ہیں۔وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کمیٹی کو بتایا کہ جعلی ڈگری پر 28 پائلٹس کو برطرف کردیا گیا ہے جب کہ 58 کے لائسنسز معطل کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 262 پائلٹس کی ڈگریوں کو مکمل چیک کیا جا رہا ہے، مختلف ممالک نے پائلٹس کی ڈگریوں کی تصدیق کرنے کا کہا ہے، جبکہ ہمیں ان لوگوں تک بھی پہنچنا ہے جنہوں نے کسی اور کی جگہ بیٹھ کر امتحان دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button