ٹرمپ کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا برا وقت شروع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتدار سے فراغت کے بعد ان کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا بھی بڑا وقت شروع ہے اور انکا اقتدار بھی شدید خطرات میں گھر چکا ہے۔ گذشتہ برس صحافی جمال خشوگی کا قتل، یمن کی نہ ختم ہونے والی جنگ، خواتین کی قید، بیرون ملک مقدمات اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ولی عہد محمد بن سلمان مضبوط ہونے کی بجائے روز بروز کمزور ہو رہے ہیں۔
یہ سعودی عرب کی قیادت کے لیے خاصے کٹھن اور بے چینی سے بھرپور دن ہیں، خاص طور پر مملکت کے طاقتور رہنما ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے۔اس وقت ایک نئی امریکی انتظامیہ وائٹ ہاؤس میں آنے کی تیاری کر رہی ہے اور نومنتخب صدر جو بائیڈن نے واضح کیا ہے کہ وہ کچھ سعودی معاملات پر اپنے پیش رو سے زیادہ سخت مؤقف رکھیں گے۔ کہنے کو تو سعودی عرب میں شہزادہ محمد بن سلمان آج بھی مقبول ہیں لیکن بین الاقوامی طور پر وہ خود پر سے 2018 میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق شبہات دور نہیں کر سکے۔محمد بن سلمان اور سعودی حکومت پر انسانی حقوق کی متعدد خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے، جن میں 2017 میں کرپشن کے الزام میں سعودی شاہی خاندان کے اراکین کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے دوران حقوق کی پامالیاں بھی شامل ہے۔ ان دنوں شہزادہ محمد بن سلمان کو امریکی عدالت میں سابق سعودی انٹیلی جینس اہلکار سعد الجبری پر کینیڈا میں مبینہ قاتلانہ حملے کی کارروائی کا سامنا ہے جس پر محمد بن سلمان کے وکلا نے ان کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کے لیے تحریک جمع کرادی جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد کے خلاف اس دعوے کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ انہوں نے 2017 میں معزول کئے جانےو الے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کے قریبی ساتھی سعد الجبری کے قتل کے لیے ہِٹ اسکواڈ کو حکم دیا، جبکہ امریکی عدالت میں الزامات سے انہیں استثنیٰ حاصل ہے۔
خیال رہے کہ سعد الجبری نے دعویٰ کیا کہ انہیں بطور معاون اور اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار کے طور پر کچھ ایسی معلومات ملی جو محمد بن سلمان کے لیے خطرہ بن سکتی تھی، جس پر سعودی ولی عہد نے نام نہاد ‘ٹائیگر’ ہٹ اسکواڈ کے ذریعے ان پر قاتلانہ حملہ کرایا۔مقدمے میں کہا گیا کہ ان پر حملے کی یہ مبینہ کوشش ٹائیگر اسکواڈ کی طرف سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے استنبول میں سعودی قونصل خانے میں 2 اکتوبر 2018 کو قتل کیے جانے کے 13 روز بعد کی گئی۔ ایسے کیسز کی وجہ سے سعودی ولی عہد کو عالمی سطح پر سخت تنقد کا سامنا ہے۔ علاوہ ازیں سعودی عرب میں قید خواتین بھی سعودی قیادت بالخصوص ولی عہد سلطنت کے لیے بین الاقوامی تعلقات عامہ کی حیثیت میں ایک سانحے سے کم نہیں۔اب تک 13 پُرامن سعودی خواتین سماجی کارکنان کو جیلوں میں بند کیا جا چکا ہے اور کچھ کیسز میں تو ان پر تشدد بھی کیا گیا ہے حالانکہ ان کا ظاہری جرم صرف یہی تھا کہ وہ خواتین کے لیے ڈرائیونگ کا حق یا مردوں کی سرپرستی کے غیرمنصفانہ نظام کا خاتمہ چاہتی تھیں۔مقبول سماجی کارکن لجین الھذلول انہی میں سے ایک ہیں تاہم سعودی حکام یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لوجین الھذلول جاسوسی کی مرتکب ہو ئی ہیں۔ان کے خاندان کی جانب سے ملنے والی معلومات کے مطابق ان پر تشدد کیا گیا ہے، انھیں بجلی کے جھٹکے دیے گئے ہیں، حراست کے دوران ریپ کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔یمن جنگ کی طرح یہ وہ گڑھا ہے جو سعودی قیادت نے اپنے لیے خود کھودا ہے اور اب وہ جیسے تیسے اس سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ نو منتخب امریکی صدر جوبائیڈن انتظامیہ بھی اس مسئلے کو اجاگر کرے گی جسے سے شہزادہ محمد بن سلمان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
یمن کی جنگ بھی کئی سال محمد بن سلمان کے لئے درد سر بنی ہوئی ہے۔ تنازعہ یمن ان تمام ممالک کے لیے ایک سانحے سے کم نہیں ہیں جو اس جنگ کا حصہ ہیں تاہم سعودی عرب نے اس تنازع کی شروعات نہیں کی تھیں، اس کا آغاز حوثی باغیوں نے اس وقت کیا تھا جب وہ 2014 کے اواخر میں یمن کے دارالحکومت صنعا تک مارچ کرتے ہوئے پہنچ گئے تھے اور انھوں نے ایک قانونی یمنی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔مارچ 2015 میں موجودہ ولی عہد اور اس وقت کے وزیرِ دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے خفیہ انداز میں عرب ممالک کا ایک اتحاد قائم کیا اور بھرپور فضائی قوت کے ساتھ جنگ کا حصہ بن گئے۔ انھیں امید تھی کہ وہ چند ہی ماہ میں حوثی باغیوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیں گے۔آج تقریباً چھ برس اور ہزاروں افراد کی ہلاکتوں، نقل مکانی اور دونوں اطراف سے کیے جانے والے جنگی جرائم کے بعد بھی سعودی عرب کی سربراہی میں موجود یہ اتحاد صنعا اور گنجان آباد مغربی یمن سے حوثی باغیوں کو نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ایران کی مدد سے حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے بھی کیے اور سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بھی بنایا ہے۔
یہ تنازع یقیناً ایک مہنگا تعطل ہے اور اس حوالے سے وضع کیے جانے والے اکثر امن کے منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔یمن جنگ کے باعث جہاں ہلاکتیں ہو رہی ہیں وہیں سعودی عرب کے خزانے سے اس جنگ پر ایک خطیر رقم بھی خرچ ہو رہی ہے اور بین الاقوامی میڈیا میں اس حوالے سے شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب کی قیادت اس جنگ سے پروقار انداز میں نکلنا چاہتی ہے تاہم ان کا مؤقف ہے کہ وہ اس جنگ کا حصہ اس لیے بنے تھے تاکہ اپنی جنوبی سرحد پر ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کو روک سکیں اس لیے وہ ایرانی حمایت یافتہ مسلح ملیشیا کو اقتدار میں نہیں دیکھ سکتے۔تاہم اس حوالے سے اب سعودی عرب کے پاس وقت خاصا کم رہ گیا ہے یعنی ولی عہد محمد بن سلمان کو جدل از جلد یہ محاذ بند کرنا ہوگا۔
سنہ 2017 میں صدر ٹرمپ کے ریاض کے دورے کے کچھ ہی روز بعد سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے ساتھ مل کر اپنے خلیجی ہمسائے قطر کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ساڑھے تین سال طویل قطری بائیکاٹ دونوں اطراف کے ممالک کے لیے معاشی اور سیاسی اعتبار سے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ اس کے باعث عرب خلیجی ممالک کے اتحاد کو بھی کمزور کیا ہے جب عرب خلیجی ممالک کی قیادت میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے حوالے سے بڑھتی تشویش پائی جاتی ہے۔ صدر ٹرمپ کے داماد اور سفارتی نمائندے جیرڈ کشنر مشرقِ وسطیٰ میں اس بائیکاٹ کے خاتمے کے لیے کوشاں رہے ہیں اور بائیڈن انتظامیہ بھی اس کا حل چاہے گی۔ قطر العبید میں پینٹاگان کی سب سے بڑے غیر ملکی فوجی اڈے کی میزبانی کرتا ہے۔ سعودی عرب نے یمن کے حوثی باغیوں کی طرح قطری حکومت سے بھی یہی توقع کی تھی کہ وہ بالآخر گھٹنے ٹیک دیں گے جو غلط ثابت ہوئی۔ اس کی ایک وجہ ان کے پاس موجود دولت کی فراوانی ہے۔ قطر کے پاس سمندر میں گیس کے ذخائر ہیں اور اس نے صرف برطانیہ کی معیشت میں 40 ارب پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کی ہے اور وہ ترکی اور ایران کی مدد بھی کرتا ہے۔اس کے باعث حالیہ دنوں میں مشرقِ وسظیٰ میں ایک واضح دراڑ دکھائی دینے لگی ہے۔ایک طرف تو قدامت پسند سنی اکثریتی خلیجی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر ہیں جبکہ دوسری جانب قطر ترکی اور متعدد سیایسی اسلام پسند تحریکیں جن کی یہ دونوں حمایت کرتے ہیں جیسے اخوان المسلمین اور حماس۔ان غیر ملکی تحریکوں کو یہ چار ممالک تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انھیں اپنی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے جانے کے بعد سعودی عرب کو امریکہ کے ساتھ تعلقات اسر نو مرتب کرنا ہوں گے جو ولی عہد محمد بن سلمان کی زندگی کا بڑا امتحان ثابت ہوگا کیونکہ ٹرمپ کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکہ سعودی عرب کی حمایت ترک کردے تو شاہی خاندان دوہفتوں میں اقتدار سے بیدخل ہوجائے گا۔
