ٹرمپ اسرائیل کے ہاتھوں کس ویڈیو کی وجہ سے بلیک میل ہوئے؟

جیو نیوز سے وابستہ سینیئر اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کا بنیادی مقصد امریکی عوام کی توجہ ایپسٹین فائلوں سے ہٹانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کے پاس ٹرمپ کے خلاف ایپیسٹین سے متعلقہ ایسے ویڈیو شواہد موجود ہیں جن میں وہ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہی شواہد کی بنیاد پر انہیں بلیک میل کیا جا رہا ہے اور انہوں نے نیتن یاہو کے دباؤ میں آ کر ایران پر حملہ کیا تاکہ ممکنہ جنسی سکینڈل سے ذرائع ابلاغ کی توجہ ہٹائی جا سکے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں حامد میر کا کہنا ہے کہ جب اس حملے کے بعد ایران میں متوقع نظام کی تبدیلی نہیں ہو سکی تو ٹرمپ نے اس جنگ کو مذہبی رنگ دینا شروع کر دیا۔ انکے مطابق ٹرمپ کا یہ مذہبی کارڈ شاید امریکہ میں زیادہ مؤثر نہ ہو لیکن مسلم دنیا میں ان نظریات کو ضرور تقویت مل سکتی ہے جو سعودی عالم ڈاکٹر سفر الحوالی کے خیالات سے اتفاق رکھتے ہیں۔ حامد میر کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش بھی واضح طور پر سامنے آ رہی ہے۔ اگرچہ نیتن یاہو اور ٹرمپ نے ابتدا میں اس جنگ کا مقصد ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا قرار دیا تھا، تاہم بعد میں وائٹ ہاؤس کے اوول دفتر میں مسیحی پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ جنگ میں کامیابی کے لیے خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس دعا کی ایک تصویر بھی نشر ہوئی جس میں معروف پادری گریگ لاری سمیت کئی مذہبی رہنما ٹرمپ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی کی دعا کر رہے ہیں۔ حامد میر کے مطابق یہ وہی مذہبی حلقے ہیں جو کئی برسوں سے امریکی عوام کو ایک بڑی جنگ کے لیے تیار کر رہے ہیں جسے بائبل کی اصطلاح میں ہرمجدون کہا جاتا ہے۔ برطانوی اخبار The Guardian سمیت کئی مغربی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فوج میں مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کو اب تک دو سو سے زائد شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ ان میں الزام لگایا گیا ہے کہ کچھ فوجی کمانڈر اپنے ماتحت اہلکاروں کو بتا رہے ہیں کہ ٹرمپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب سے ایران پر حملے کا اشارہ ملا ہے کیونکہ ان کے مطابق ایک بڑی مذہبی جنگ کا وقت قریب ہے۔
حامد میر کے مطابق ان شکایات میں پندرہ امریکی فوجیوں کی ایک مشترکہ درخواست بھی شامل ہے جس میں گیارہ مسیحی، ایک مسلمان اور ایک یہودی فوجی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی بیانیے نے خود امریکی فوج کے اندر بھی اختلافات پیدا کر دیے ہیں۔
سینیئر صحافی کے مطابق ٹرمپ کے اس مذہبی بیانیے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے باوجود ایران میں فوری طور پر کوئی بڑی عوامی تحریک سامنے نہیں آئی جو نظام حکومت کو تبدیل کر سکے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اب جنگ کو مذہبی رنگ دے کر نئے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حامد میر نے کہا کہ امریکہ میں اس قسم کی مذہبی سوچ نئی نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی امریکی صدور اسرائیل کی حمایت کو مذہبی فریضہ قرار دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں امریکی صدور رچرڈ نکسن، جمی کارٹر، رونالڈ ریگن اور جارج ایچ ڈبلیو بش بھی اسی طرح کے مذہبی نظریات سے متاثر رہے۔
انہوں نے کہا کہ ان نظریات کے پس منظر میں امریکی مذہبی رہنما جیری کا بڑا کردار رہا ہے جنہوں نے امریکہ میں لبرٹی یونیورسٹی قائم کی اور اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی حمایت کی۔
حامد میر نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا کہ 1994 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے دوران انہیں فلسطینی رہنما یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیر خارجہ شمعون پیریز سے گفتگو کا موقع ملا تھا۔ اس دوران فلسطینی قیادت نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے دباؤ اور عالمی سیاست کے پیچیدہ حالات کا ذکر کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بعد کے برسوں میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات ناکام ہوئے جس کے نتیجے میں فلسطینی سیاست میں حماس کا کردار مضبوط ہو گیا۔
حامد میر نے بتایا کہ 2009 میں غزہ کی جنگ کے دوران انہوں نے خود میدان جنگ میں حالات کا مشاہدہ کیا۔ اس دوران ایک فلسطینی مسیحی پادری نے انہیں بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے لوگ دراصل صہیونی اور مسیحی انتہا پسندوں کے اس نظریے کے درمیان پھنس گئے ہیں جو ہرمجدون کی جنگ کی پیش گوئی کرتا ہے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کے مسیحیوں، یہودیوں اور مسلمانوں میں اس نظریے کے بارے میں یکساں رائے نہیں پائی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ لبنان میں حالیہ برسوں میں انہیں ایسے مسیحی بھی ملے جو حزب اللہ اور حماس کی حمایت کرتے ہیں۔
ایرانی میزائلز نے اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم کو کیسے چکمہ دیا؟
حامد میر کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کو ہرمجدون کی جنگ کا آغاز قرار دینا خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بیانیے سے سب سے زیادہ فائدہ دونوں طرف کے انتہا پسند گروہوں کو ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت برطانیہ اور یورپی ممالک اس جنگ سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اگر یہ تنازع مزید پھیل گیا تو عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حامد میر کے مطابق امریکہ کے اندر بھی بڑی تعداد میں لوگ اس جنگ کو مذہبی جنگ نہیں سمجھتے بلکہ ان کا خیال ہے کہ ٹرمپ دراصل اپنے خلاف سامنے آنے والی ایپسٹین فائلوں سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کے بقول اگر ایسا ہے تو اس جنگ کے سیاسی اور نظریاتی اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔
