ٹرین میں آگ سلنڈر پھٹنے سے لگی یا بجلی کے شارٹ سرکٹ سے

پاکستانی ریلوے کی تاریخ کے خون آشام ٹرین حادثے کے بعد یہ سوال زبان زد عام ہے کہ کیا تیزگام ایکسپریس کی بوگیوں میں آگ سلنڈر پھٹنے سے لگی یا ٹرین میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے 75 افراد کی جان چلی گئی.
حادثے کے فوراً بعد وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ذمہ داری تبلیغی جماعت کے اراکین پر ڈال دی اور کہا کہ وہ خلاف قانون گیس سلنڈر لے کر ٹرین میں کیوں سوار ہوئے۔ حالانکہ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ تیزگام ایکسپریس میں گیس سلنڈر یا چولہا پھٹنے سے آگ نہیں لگی بلکہ ٹرین کو حادثہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے پیش آیا ہے، آگ دراصل اے سی سلیپر میں لگی جہاں گیس سلنڈر نہیں لے جایا جا سکتا۔ عینی شاہدین نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ اے سی سلیپر میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے پنکھے کو آگ لگی وہ نیچے گرا اور فوری طور پر آگ دیگر بوگیوں میں بھی پھیل گئی۔ بعض عینی شاہدین نے یہ دلخراش انکشاف کیا کہ حادثے کے وقت ٹرین عملہ غائب تھا۔ آگ لگنے کے فوری بعد مسافروں نے ٹرین کو روکنے کی بہت کوشش کی مگر بوگیوں میں ٹرین روکنے والی زنجیر ہی نہیں تھی۔ کہا جارہا ہے کہ اگر بروقت ٹرین کو بریک لگا دی جاتی تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں، مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔ ریلوے انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور نااہلی کے باوجود شیخ رشید مسافروں پر الزام کیوں لگا رہے ہیں؟ تبلیغی جماعت والوں کے پاس گیس سلنڈر موجود تھے مگر انہوں نے ٹرین پر سوار ہوتے وقت سلنڈروں میں سے گیس نکال دی تھی۔ شیخ رشید سے یہ سوال بھی پوچھا جارہا ہے کہ ٹرین کا عملہ کچن میں کھانا کس طرح گرم کرتاہے۔ ریلوے ذرائع کے مطابق ٹرین کے کچن میں گیس سلنڈر پر ہی کھانا گرم کیا جاتا ہے ہو سکتا ہے کہ اس سلنڈر کے دھماکے کے نتیجے میں یہ بڑا سانحہ رونما ہوا ہو مگر شیخ رشید نے بغیر تحقیق کیے مسافروں پر ہی ملبہ ڈال دیا۔
ادھر روایتی طریقہ واردات اپناتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے تیز گام ایکسپریس کو پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی ہنگامی بنیادوں پر انکوائری کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں تیز گام ایکسپریس کو پیش آنے والے سانحے پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے سانحے کے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرنے کے ساتھ حکام کو تمام تر طبی سہولیات فراہم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔ چیئرمین ریلوے سکندر سلطان نے تیز گام ایکسپریس کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات کے لیے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ چیئرمین ریلوے سکندر سلطان راجہ نے بتایا کہ انسپکٹر جنرل آف ریلوے کی سربراہی میں تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور وہ اس بات کا تعین کریں گے کہ سلنڈر کس طرح ٹرین میں لے جانے کی اجازت دی گئی۔ ریلوے ذرائع کے مطابق کراچی سے چلنے والی تیزگام ایکسپریس میں مجموعی طور پر 865 مسافر سوار تھے جن میں سے ایک بڑی تعداد رائیونڈ لاہور میں ہونے والے سالانہ اجتماع میں شرکت کے لیے جا رہی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button