ٹوئٹر کا سسٹم ہیک، دنیا کے بااثر شخصیات کے اکاؤنٹ سے بٹ کوائن بٹورنے کے لیے ٹوئٹ

ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ ہیکرز نے اس کے انٹرنل سسٹمز تک رسائی حاصل کرکے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر موجود دنیا کی با اثر شخصیات بشمول امریکی صدارتی امیدار جو بائیڈن، معروف ٹی وی اسٹار کم کارڈاشیئن، سابق امریکی صدر براک اوبامہ اور عرب پتی ایلون مسک کے اکاؤنٹ کو ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
ٹوئٹر کا کہنا تھا کہ جن ملازمین کو اندرونی سسٹم تک رسئی حاصل ہے انہیں ہیکرز نے نشانہ بنا یا جنہوں نے ‘اس رسائی کو معروف (بشمول تصدیق شدہ) اکاؤنٹس پر کنٹرول حاصل کیا اور ان کی جانب سے ٹوئٹ کیا’۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ ‘ہم معاملے کو دیکھ رہے ہیں کہ ہیکرز نے اور کیا سرگرمیاں انجام دی ہیں یا معلومات حاصل کی ہیں اور جیسے ہی ہمیں مزید کچھ معلوم ہوگا ہم عوام کو مطلع کریں گے’۔ بعد ازاں نے عارضی طور پر کئی گھنٹوں تک کم از کم چنند تصدیق شدہ اکاؤنٹس کو مکمل طور پر پیغامات کی اشاعت سے روکنے کا غیر معمولی اقدام اٹھایا۔
Tough day for us at Twitter. We all feel terrible this happened.
We’re diagnosing and will share everything we can when we have a more complete understanding of exactly what happened.
💙 to our teammates working hard to make this right.
— jack (@jack) July 16, 2020
کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت رسائی بحال کرے گی جب اسے یقین ہوگاا کہ وہ محفوظ طریقے سے ایسا کرسکتے ہیں۔ عوامی طور پر دستیاب بلاک چین ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مبینہ اسکیمرز نے ایک لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹوکرنسی حاصل کی ہے۔ چیف ایگزیکٹو جیک ڈورسی نے اس سے قبل کہا تھا کہ کمپنی اس مسئلے کی تشخیص کر رہی ہے اور ‘جو ہوا ہے اس بارے میں مکمل طور پر سمجھنے کے بعد سب کچھ شیئر کریں گے’۔ انہوں نے ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘ٹوئٹر پر ہمارے لیے مشکل ترین دن ہے اس واقعے پر ہم سب شرمندہ ہیں’۔
تجارت کے دوران سوشل میڈیا کمپنی کے حصص مارکیٹ میں 5 فیصد گر گئے۔ ابتدائی سکیورٹی خلاف ورزی کے چند گھنٹوں میں پلیٹ فارم کے سب سے بڑے صارفین اپنے اکاؤنٹس پر دوبارہ کنٹرول قائم کرنے کے لیے جدوجہد کرتے دکھائی دیے۔ مثال کے طور پر ارب پتی ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک کے معاملے ٹوئٹ کو ہٹا دیا گیا اور کچھ دیر بعد دوسری ٹوئٹ کردی گئی اور پھر تیسری ٹوئٹ کردی گئی۔
متاثرہ دیگر ہائی پروفائل اکاؤنٹس میں: ریپر کانیے ویسٹ، ایمازون کے بانی جیف بیزوس، سرمایہ کار وارن بوفے، مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس، اور اوبر اور ایپل کے کارپوریٹ اکاؤنٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کرپٹو کرنسی پر مبنی اداروں کے بھی متعدد اکاؤنٹس کو ہائی جیک کیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر متاثرہ اکاؤنٹس کے کروڑوں فالوورز تھے۔
متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ٹوئٹر کی سائبر سکیورٹی پر سوالات اٹھادیے ہیں۔ ایریا 1 سکیورٹی کے سابق سی ای او اورین فالکوٹز کا کہنا تھا کہ ‘یہ واضح ہے کہ کمپنی اپنی حفاظت کے لیے کافی کام نہیں کررہی ہے’۔
