ٹوئیٹر نے بلیو ٹک سبسکرپشن سروس کا دوبارہ آغاز کر دیا

سماجی رابطے کے سب سے بڑے پلیٹ فارم ٹوئیٹر نے دوبارہ صارفین کیلئے بلیو ٹک سبسکرپشن سروس شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کے لیے ماہانہ چارجز وصول کیے جائیں گے۔ ٹوئٹر نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی سبسکرپشن سروس دوبارہ شروع کر رہی ہے جس میں اکاؤنٹس کی تصدیق کا نظام متعارف کرانا بھی شامل ہے۔
ٹوئیٹرنے 12 دسمبر سے بلیو ٹک سبسکرپشن دوبارہ شروع کر دی یے جس کے تحت ویب کے لیے ماہانہ آٹھ ڈالرز جبکہ آئی فون کے لیے ماہانہ 11 ڈالرز سبسکرائبر چارجز ہوں گے۔ ٹوئٹر پر ’بلیو چیک مارک‘ اس سے پہلے مفت دستیاب تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی مخصوص اکاؤنٹ مصدقہ ہے اور جعلی نہیں۔
اکتوبر میں ٹوئٹر کو خریدنے کے بعد ارب پتی ایلون مسک نے کمپنی کے ریونیو ذرائع کو اشتہارات کے علاوہ پھیلانے کا اعلان کیا تھا جسکے تحت پریمیئم فیچرز کے لیے اب صارفین کو ماہانہ ادائیگی کرنا ہوگی۔ رقم کے عوض بلیو بیج حاصل کرنے کا سلسلہ نومبر میں تب شروع کیا گیا تھا جب ایلون مسک کو ٹوئٹر کا کنٹرول سنبھالے ابھی 10 دن ہوئے تھے۔ لیکن کئی جعلی اکاؤنٹس کی جانب سے رقم دے کر اکاؤنٹ کی تصدیق کروانے اور بلیو بیج حاصل کرنے پر اٹھنے والے شور کے بعد ٹوئٹر نے اس ورژن کو فوری طور پر معطل کر دیا تھا۔ کمپنی کے مطابق نئی آفر کے تحت ایسے تمام اکاؤنٹس جو ادائیگی کر کے ’بلیو ٹک’ حاصل کرنے کے خواہش مند ہوں گے اُن کا تجزیہ کیا جائے گا اور تصدیق کے بعد ہی انہیں اوکے کیا جائے گا۔
اس کے بعد ایلون مسک نے اعلان کیا تھا کہ ٹوئیٹر اکاؤنٹس کے درمیان فرق واضح کرنے کے لیے ٹوئیٹر مختلف رنگوں کے بیجز لانچ کرے گا۔ ایلون مسک نے اس بارے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ’کمپنیوں کے لیے سنہرا، سرکاری اداروں اور سرکاری افراد کے لیے گرے، کسی بھی سلیبریٹی یا عام شخص کے لیے نیلا رنگ مختص ہوگا۔ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ تمام تصدیق شدہ انفرادی اکاؤنٹس کے لیے ایک ہی بلیو ٹک ہوگا تاہم کچھ اکاؤنٹس کے آخر میں ایک چھوٹا لوگو دِکھائی دے گا جس میں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ صارفین کے لیے بذریعہ ماہانہ فیس ’تصدیق شدہ‘ اکاؤنٹ کا درجہ حاصل کرنے پر ایلون مسک کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
