ٹویٹر پر حامد میر اور جمائما خان کے درمیان نوک جھوک

لندن میں نواز لیگ کی جانب سے کپتان کی سابق اہلیہ جمائما کے گھر کے باہر جوابی مظاہروں کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جمائما گولڈ سمتھ اور معروف صحافی حامد میر کے مابین نوک جھوک شروع ہو گئی ہے۔ جمائما نے رہائش گاہ کے باہر لیگی کارکنوں کے احتجاج پر بذریعہ ٹویٹ افسوس کا اظہار کیا تو حامد میر نے لکھا کہ آپ اپنے بھائی زیک گولڈ سمتھ سے کہیں کہ وہ پاکستانی سیاست سے دور رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ اور تحریک انصاف دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف اس طرح کے مظاہرے نہیں کرنی چاہئیں۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے لندن میں نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر مسلسل احتجاجی مظاہروں کے بعد اب مسلم لیگ ن لندن نے عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما کی رہائش گاہ کے باہر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ 15۔اپریل۔کو بھی لیگی کارکن جمائما گولڈ سمتھ کی رہائش گاہ کے باہر پہنچے اور انکے بچوں کے خلاف خوب نعرہ بازی کی۔ جمائما نے اپنی ٹویٹ کے ذریعے اس جانب توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ مجھے 90ء کی دہائی کا لاہور یاد آ رہا ہے۔
جمائما گولڈ سمتھ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ میرے گھر کے باہر مظاہرے میں میرے بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے میں 90ء کی دہائی کے لاہور میں واپس آگئی ہوں۔ اس ٹویٹ کے ردعمل میں حامد میر نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ نہ تو پی ٹی آئی کے کارکنوں کو چاہیے کہ وہ نواز شریف کے گھر کے باہر احتجاج کیا کریں اور ساتھ ہی لیگی کارکنوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسا نہ کریں۔ شیشے کے گھروں میں رہنے والوں کو دوسروں پر پتھر نہیں پھینکنا چاہیں۔
اس پر جمائما گولڈ سمتھ نے حامد میر کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ فرق یہ ہے کہ میرا پاکستانی سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میرے بچوں کا۔ وہ صرف عام شہری ہیں جو سوشل میڈیا تک استعمال نہیں کرتے۔
اس ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں لیکن نواز شریف کے خاندان میں بھی خواتین ہیں۔ جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن انہیں روزانہ بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کم از کم آپ خواتین کو ہراساں کرنے کی مذمت کریں۔ دوسرا آپ کا بھائی پاکستانی سیاست میں مداخلت کر رہا ہے اسے دور رہنا چاہیے۔ دوسری جانب ناقدین جمائماکا یہ دعویٰ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ان کا پاکستانی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ اس حوالے سے جمائما کے پچھلے پندرہ برس میں کیے جانے والے ٹویٹس سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے ہیں جن میں انہوں نے نواز شریف کی حکومت ختم ہونے پر گو نواز گو کا نعرہ پوسٹ کیا تھا اور مولانافضل الرحمن کو بھی ڈیزل قرار دیا تھا۔ جمائما کے ناقدین سوشل میڈیا پر ان کی درجنوں ٹویٹس وائرل کر رہے ہیں جن میں وہ عمران کے حق میں اور اپوزیشن کے خلاف اظہار خیال کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
اگرچہ عمران خان کی سابق اہلیہ کو پاکستان اور کپتان سے رشتہ توڑے کئی برس گزر چکے ہیں لیکن یہ تعلق مکمل لا تعلقی میں بدلتا دکھائی نہیں دیتا۔ آج کل وہ پاکستان میں جاری سیاسی بحران سے پریشان ہیں کیونکہ اس کا براہ راست اثر ان کے گھر اور زندگی پر پڑ رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنی جماعت کے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ اتوار کو جمائما کے گھر کے باہر احتجاج میں شامل ہوں۔ عابد کا کہنا تھا کہ وہ عمران کے بچوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے والد چوہدری اور کمینہ ہیں۔ عابد شیر علی نے نہ صرف اپنی ٹویٹ میں احتجاج کی کال دی بلکہ اس پوسٹر پر جمائما کے گھر کا پورا پتا بھی لکھا۔
ان کی اسی ٹویٹ میں موجود احتجاجی پوسٹر کو شیئر کرتے ہوئے جمائما نے لکھا کہ ان کے گھر کے باہر مظاہرے کیے جا رہے ہیں، ان کے بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں سوشل میڈیا پر یہودی مخالف بیان بازی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسی ٹویٹ کے بعد حامد میر اور جمائما گولڈ سمتھ کے درمیان ایسے مظاہروں کے حوالے سے بحث چھڑ گئی تھی۔ درحقیقت جمائما کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے حامد میر نے پی ٹی آئی اور پی ایم ایل ن دونوں کو احتجاج روکنے کا مشورہ دیا۔
حامد میر نے ٹوئٹر پر لکھا ’پی ٹی آئی کو لندن میں نواز شریف کے گھر کے باہر احتجاج بند کرنا چاہیے اور پی ایم ایل (ن) کو جمائما گولڈ سمتھ کے گھر کے باہر ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ شیشے کے گھروں میں رہنے والے دوسروں کے گھروں پر پتھر نہیں پھینکتے۔‘ حامد میر نے کہا کہ جمائما کے بھائی بھی پاکستان کی سیاست میں مداخلت کرتے ہیں اور یہ کہ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
جواب میں جمائما نے لکھا کہ وہ اپنے سابق شوہر یا اپنے بھائی کے کسی سیاسی عمل یا بیان بازی کی ذمہ دار نہیں ہیں۔ تاہم ناقدین ان کا یہ مؤقف تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
ہمیشہ کی طرح اس معاملے پر سوشل میڈیا منقسم ہے۔ بہت سے لوگ جمائما گولڈ سمتھ کی حمایت میں ٹویٹ کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جمائما کے گھر کے باہر اس طرح کے مظاہروں کا کوئی جواز نہیں ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ برطانوی وزیر لارڈ طارق احمد کا کہنا تھا کہ ’احتجاج کا حق ایک ایسی چیز ہے جس کا ہم برطانیہ میں تحفظ کرتے ہیں، لیکن بچوں کو نشانہ بنانا اور یہودی مخالفت کا سہارا لینا گھٹیا اور ناقابل قبول ہے۔ ‘
مہر تارڑ نے لکھا کہ ’ایسے میں جب یہ نفرت سے بھرے لوگ آپ کے گھر کے باہر گنداتماشہ کرنے والے ہیں تو پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔‘ صحافی شفا یوسفزئی بھی اس مظاہرے کی کال پر شرمندگی کا اظہار کرنے والوں میں شامل تھیں۔ ان کا کہنا تھا ’یہ ہمارے لیے بہت باعث شرمندگی ہے، میں واقعی شرمندہ ہوں، بہت معذرت‘۔
دوسری جانب اکثر لوگوں نے نواز شریف کے اقتدار سے جانے پر جمائما کی طرف سے کی جانے والی ٹویٹس انہیں یاد دلا کر اس مظاہرے کی وجہ سمجھانے کی کوشش کی۔ عبداللہ گل کا کہنا تھا کہ ’ایسے اقدامات پی ایم ایل این اور پی ٹی آئی دونوں کی جانب سے ناقابل قبول ہیں۔‘
تاہم انھوں نے اس کا الزام پی ٹی آئی پر دھرتے ہوئے کہا کہ ’اس کلچر کا آغاز پاکستانی سیاست میں 2014 میں پی ٹی آئی نے ہی کیا تھا جو انھوں نے پر تشدد اور بدنام کرنے کی مہم اس وقت کی حکومت کے خلاف شروع کی۔ یہ سب فوری طور پر رکنا چاہیے۔‘
کچھ سوشل میڈیا صارفین اس سب صورتحال کا ذمہ دار عمران خان کو قرار دے کر جمائما کو عمران خان کے خلاف احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دیتے نظر آئے۔
ایک صارف انجنیئر قریشی کا کہنا تھا ’آپ نے کہا آپ اور آپ کے بچوں کا پاکستان کی سیاست میں کوئی کردار نہیں، اس کے باوجود آپ پارٹی کے حق میں اور عمران خان کی حکومت کے خاتمے پر افسوس کی ٹویٹ کرتی ہیں۔‘ انھوں نے ان کے بھائی پر بھی پاکستانی سیاست میں مداخلت کا الزام عائد کیا۔
یاد رہے کہ جمائما گولڈ سمتھ برطانیہ کے ایک ارب پتی تاجر کی بیٹی ہیں۔ انھوں نے 1995 میں عمران خان سے شادی کی۔ ان کے دو بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان ہیں۔ یہ شادی نو سال تک چلی اور سال 2004 میں دونوں میں طلاق ہو گئی۔
جمائما سے شادی کی وجہ سے عمران خان کو ‘یہودی ایجنٹ’ بھی کہا گیا اور ان کی شادی کو ‘سازش’ قرار دیا گیا۔ تاہم جمائما سے علیحدگی کے وقت عمران خان نے کہا تھا کہ ‘میرا گھر اور مستقبل پاکستان میں ہے جب کہ جمائما پاکستان میں رہنے کی بہت کوشش کر رہی ہیں لیکن میرے سیاسی کیریئر نے ان کے لیے یہاں رہنا مشکل بنا دیا ہے۔
