ٹڈی دل کھانے والی چینی بطخیں کرونا وائرس ساتھ لائیں گی

محکمہ صحت کے حکام نے حکومت پاکستان کو وارننگ دی ہے کہ ملک میں فصلوں کو ٹڈی دل سے بچانے کے لیے ایک لاکھ چینی بطخیں لانے کا منصوبہ شاید ٹڈی دل کا خاتمہ تو کردے لیکن اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ چینی بطخیں اپنے ساتھ کرونا وائرس بھی لے آئیں گی جوکہ انسانی آبادی کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے.
یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے فصلوں کو نقصان پہنچانے والی ٹڈیوں کے ملک گیر حملے سے نمٹنے کے لیے چین سے ایک لاکھ بطخیں پاکستان منگوانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ چین میں بھی ٹڈی دل پر قابو پانے کا یہی طریقہ کامیاب ہوا ہے۔
چین کے زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بطخ روزانہ دو سو سے زیادہ ٹڈیاں کھا سکتی ہے اور یہ ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات سے زیادہ موثر ثابت ہوتی ہیں۔ پاکستان نے رواں ماہ کے آغاز میں ٹڈی دل کے حملے کے حوالے سے ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ملک میں دو دہائیوں میں ہونے والا بدترین حملہ ہے۔ پاکستان کی جانب سے مشورہ اور مدد مانگنے پر چینی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ماہرین کی ایک ٹیم جلد پاکستان بھیجے گی جو ٹڈی دل کے خاتمے کا پروگرام بنائے گی۔ تاہم معلوم ہوا ہے کہ محکمہ صحت کے سینئر حکام نے حکومت پاکستان کو چین سے بطخوں کے ساتھ کرونا وائرس کی آمد کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ اس تجویز پر عملدرآمد سے پرہیز کیا جائے کیوںکہ یہ پاکستانی آبادی کو کرونا وائرس کے منہ میں دھکیلنے والی بات ہوگی۔
دوسری طرف محکمہ زراعت کے سینئر افسران نے چینی حکام کا موقف آگے بڑھاتے ہوئے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ چین سے کم از کم ایک لاکھ بطخیں فوری طورپر پاکستان منگوائی جائیں تاکہ انہیں ملک کے چاروں صوبوں میں ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ پاکستانی محکمہ زراعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بطخیں ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے ’حیاتیاتی ہتھیار‘ ہیں اور جہاں مرغیاں دن میں 70 ٹڈیاں کھا سکتی ہیں، وہیں بطخوں کی خوراک ان سے تین گنا زیادہ ہوتی ہے اور وہ دن میں 200 سے زیادہ ٹڈیاں کھا سکتی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ بطخیں گروپ کی شکل میں رہنا پسند کرتی ہیں اس لیے انھیں مرغیوں کی نسبت سنبھالنا بھی آسان ہے۔
پاکستان کے محکمہ زراعت سے منسلک سینیئر افسران نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ چین کے پاکستانی سرحد سے منسلک مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں بھی حکام نے بطخوں کی مدد سے ٹڈیوں کا کامیابی سے خاتمہ کیا ہے اور پاکستان منگوائی جانے والی بطخیں بھی صوبہ سنکیانگ سے ہی آئیں گی۔ منصوبے کے مطابق ان بطخوں کو سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے ٹڈی دل سے متاثرہ علاقوں میں بھیجا جائے گا۔
یاد رہے کہ چین کی حکومت نے زیہجیانگ نامی صوبے سے سنکیانگ نامی صوبے میں سنہ 2000 میں تب 30 ہزار ہطخیں بھیجی تھیں جب وہاں ٹڈی دل نے بڑا حملہ کر دیا تھا اور انہوں نے اس حملے پر بڑی کامیابی سے قابو پا لیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق حال ہی ساؤتھ ایشیا میں ٹڈیوں کے حملوں میں اضافے کی وجہ 2018-19 کے سیزن میں انھیں افزائش کے لیے موزوں ترین موسم کا ملنا ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت پاکستان کے تین صوبے ٹڈی دل کے حملوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور انہوں نے وہاں بڑے پیمانے پر فصلیں تباہ کر دی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button