ٹڈی دل کے بڑے حملے سے ملک میں گندم کے بحران کا خدشہ

پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے اور خوفناک ٹڈی دل حملے سے فصلوں کی تباہی کے پیش نظر محکمہ زراعت نے اس برس ملک میں گندم کا سنگین بحران پیدا ہونے کے خدشے کا اظہار کر دیا ہے جس سے رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل حملے کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر کے اب اس معاملے پر پوری توجہ دی جا رہی ہے اور چین سے ایک لاکھ بطخیں منگوانے کا منصوبہ بھی فائنل کر لیا گیا ہے جو ٹڈی طرح کے فوری خاتمے میں مدد دے گا۔
بتایا جا رہا ہے کہ ٹڈی دل کے حالیہ حملوں نے سب سے زیادہ تباہی صوبہ بلوچستان میں مچائی ہے۔ حکومت بلوچستان کے محکمۂ زراعت کے ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن، سید عارف شاہ نے بتایا کہ بلوچستان میں حالیہ حملہ ٹڈی دل کی پہلی نسل کا تھا جو کہ مارچ 2019 میں مکران ڈویژن میں کلانچ وادی سے شروع ہوا تھا۔ ٹڈی دل کی یہ نسل بلوچستان سے سندھ اور پھر وہاں سے بھارت میں داخل ہوئی تھی۔ سید عارف شاہ کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2019 میں ٹڈی دل کی دوسری نسل بھارت سے واپس آئی اور اس نے بلوچستان کے بڑے رقبے کو متاثر کیا جبکہ جنوری 2020 سے اس کی تیسری نسل حملہ آور ہو چکی ہے۔
ٹڈی دل کی تیسری نسل بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی سے صوبے میں داخل ہوئی جو کہ مختلف علاقوں کو متاثر کرتی ہوئی اب لورالائی اور موسیٰ خیل پہنچ چکی ہے اور بڑے پیمانے پر تباہی مچائی جا رہی ہے۔
گذشتہ سال مارچ سے لے کر اب تک بلوچستان کے تین اضلاع قلعہ عبد اللہ، شیرانی اور ژوب کے سوا پورا بلوچستان ٹڈی دل سے شدید متاثر ہوا ہے جہاں سے اس کے بڑے بڑے غول خیبر پختونخوا اور پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کی جانب رخ کر گئے ہیں جن کے بارے میں وہاں کے متعلقہ حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
بلوچستان میں گذشتہ سال سے اب تک ٹڈی دل کے حملوں سے بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ 30 اضلاع میں جن فصلوں کو نقصان پہنچا ہے ان میں گندم، جوار، کپاس، پھل، آئل سیڈ، مکئی، دالیں، سبزییاں اورپیاز کے علاوہ مویشیوں کا چارا بھی بھی شامل ہے۔ فصلوں کی پیداوار پر نظر رکھنے والے ادارے ’کراپس رپورٹنگ سروسز‘ کے تخمینوں کے مطابق مجموعی طور پر کاشتکاروں کو ٹڈی دل کے حملے سے اب تک 4 ارب 60 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل کے بڑے حملے سے اس برس بلوچستان میں گندم کا شدید بحران پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیاہے۔
چونکہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس لیے یہاں ٹڈی دل سے پہنچنے والے نقصان کو کم رکھنے کے لیے فضائی اسپرے ہونا چائیے تھا لیکن تاحال فضائی سپرے نہیں ہوا ہے اور کاشتکاروں کو یہی تسلیاں دی جارہی ہیں کہ بہت جلد چین سے ایک لاکھ بطخیں پاکستان لائی جا رہی ہیں جو ٹڈی دل کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیں گی۔
دوسری طرف سرکاری حکام کی جانب سے گزشتہ سال فضائی اسپرے نہ ہونے کی ایک وجہ امن عامہ کی صورتحال کو قرار دیا گیا تاہم فضائی اسپرے اب بھی شاید ان علاقوں میں ممکن نہ ہو جہاں صورت حال خراب نہیں کیونکہ حکام کے مطابق سپرے کرنے والے دو جہازوں میں سے ایک کے کچھ عرصہ قبل گر کر تباہ ہونے کے بعد صرف ایک جہاز باقی رہ گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جہاز کو بھی پہاڑوں میں چھپے شرپسندوں کی جانب سے گرائے جانے کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کے سیکریٹری جنرل عبد الرحمان بازئی نے ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات پر مکمل عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بات باعث حیرت ہے کہ اس جدید دور میں لوگ ٹڈی دل کو بھگانے کے لیے ڈھول اور ٹین کے ڈبے پیٹ رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ باقی دنیا میں لوگ ٹیکنالوجی کے حوالے سے آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں ابھی تک لوگ قرون وسطیٰ کے طور طریقے اختیار کرنے پرمجبور ہیں اور اب چینی بطخوں کے ذریعے ٹڈی دل کو مارنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے جو کہ کسی مذاق سے کم نہیں۔
حاجی عبد الرحمان بازئی کا کہنا تھا کہ 1958 میں جب ٹڈی دل کا بڑاحملہ ہوا تھا تو اس وقت جیپوں کے ذریعے موثر انداز سے سپرے کیا گیا تھا لیکن موجودہ حکومت کی جانب سے اب تک موثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ 60 کی دہائی میں سپرے کے لیے 20جہاز تھے لیکن اب صرف ایک دو رہ گئے ہیں۔ زمیندار ایکشن کمیٹی کے سیکریٹری جنرل نے مزید بتایا کہ اس وقت گندم کی فصل ٹڈی دل کے حملے کی زد میں ہے اور اگر اس کو نہ بچایا گیا تو پہلے سے جاری گندم کا بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button