ٹک ٹاک نے وارننگ کے بعد حکومت پاکستان کو جواب جمع کروا دیا

ٹک ٹاک انتظامیہ نے فائنل وارننگ کے بعد حکومت پاکستان کو جواب جمع کروا دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کچھ دن قبل بیگو لائیو پر پابندی لگنے کے ساتھ ساتھ ٹک ٹاک کو بھی پی ٹی اے نے آخری وارننگ جاری کر دی تھی جس کے بعد اب ٹک ٹاک انتظامیہ کی جانب سے اپنا جواب جمع کروا دیا گیا ہے۔ جواب دیتے ہوئے ٹک ٹاک انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ٹک ٹاک کی جانب سے کسی بھی غیر مناسب مواد کی بروقت شناخت کے لئے سروسز اور جدید حکمت عملی کا نفاذ کیا گیا ہے جبکہ معاشرتی اقدار کی خلاف ورزی کرنے پرسیکڑوں کی تعداد میں ویڈیوز ہٹائی گئیں اور آئی ڈیز کو بلاک کیا گیا ہے، قانون کی پاسداری کرنا کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ صارفین کو کنٹرولز، تجزیاتی سہولیات، اور رازداری کے اختیارات کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ بہت طریقے سے پلیٹ فارم کو استعمال کرسکیں، 98 فیصد سے زائد غیر مناسب ویڈیوز کو بروقت شناخت اور شکایت کے بعد ٹک ٹاک سے ہٹادیا جاتا ہے، گزشتہ برس پاکستان سے 37 لاکھ 28 ہزار 162 ویڈیوز کی شکایات ملیں جنہیں نشر کرنے سے نہ صرف روکا گیا بلکہ فوری ڈیلیٹ کیا گیا۔
یاد رہے کہ کچھ دن قبل ٹک ٹاک کو پاکستان میں آخری وارننگ جاری کر دی گئی تھی۔ اس حوالے سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ شکایات موصول ہوئی تھیں کہ بیگو اور ٹک ٹاک ایپ پر غیر اخلاقی مواد پھیلایا جا رہا ہے۔ان شکایات کا جائزہ لینے کے بعد پاکستانی قوانین کے تحت بیگو ایپ پر ملک میں پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ جبکہ موبائل ایپ ٹک ٹاک کو آخری وارننگ جاری کی گئی تھی۔
پی ٹی اے اعلامیہ میں مزید کہا گیا تھا کہ موبائل و سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے غیر اخلاقی مواد پھیلا کر معاشرے اور نوجوانوں پر منفی اثرات ڈالے جا رہے ہیں۔ بتایا گیا تھا کہ دونوں ایپلی کیشنز سے غیر اخلاقی مواد پر جواب طلب کیا گیا۔ دونوں کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قانون کے مطابق کام کریں اور پاکستان کی اخلاقی قدروں کا خیال رکھا جائے۔ تاہم دونوں کمپنیوں کی جانب سے تسلی بخش جواب موصول نہیں ہوا جس کے بعد بیگو ایپ پر پابندی عائد کر دی گئی اور ٹک ٹاک کیلئے آخری وارننگ جاری کی گئی تھی جس پر اب ٹک ٹاک انتظامیہ نے اپنا جواب جمع کروا دیا ہے۔
