ٹک ٹاک کا ارب پتی مالک کنگال ہونے کے خطرے سے دوچار


دنیا کے مختلف ممالک میں پابندی لگ جانے کے بعد معروف ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کا ارب پتی مالک کنگال ہونے کے خطرے سے دوچار ہوگیا ہے۔ یاد رہے کہ بھارت نے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ پاکستان میں اس پر پابندی لگانے کے حوالے سے غور و حوض جاری ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ بھی 15 ستمبر 2020 تک ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا حکمنامہ جاری کر چکے ہیں۔
امریکہ اور چین کی جاری اقتصادی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان چینی کمپنیوں کو ہورہا ہے، حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کو امریکی مفادات اور سکیورٹی کےلیے خطرہ قرار دے کر اسکے مالک کو وارننگ دی ہے کہ وہ یا تو اس ایپلی کیشن کو امریکہ کو بیچ دیں یا اس پر پابندی لگوانے کے لیے تیار ہو جائے۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ٹک ٹاک کے 37 سالہ ارب پتی چینی مالک جانگ یمنگ ان دنوں انتہائی دباؤ کا شکار ہیں۔ وہ دنیا کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ٹک ٹاک محفوظ ایپ ہے جبکہ وہ مغربی ملکوں کے مطالبات کے سامنے بظاہر نہ جھک کر چین میں اپنی ساکھ بچانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔
جانگ نے سب سے پہلے ‘بائیٹ ڈانس’ کمپنی متعارف کروائی تھی، جس کے تحت چین میں مقامی طور پر ‘ڈوئین’ ایپ لانچ کی گئی اور پھر اس کے بین الاقوامی ورژن کے طور پر ٹک ٹاک مارکیٹ میں آئی، جس کے ذریعے مختصر دورانیے کی ویڈیوز شیئر کی جاتی ہیں۔ یہ ویڈیوز بالوں کو رنگ کرنے کے طریقوں سے لے کر ڈانس اور روزمرہ کی زندگی سے متعلق لطیفوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ بائیٹ ڈانس کی دونوں ایپس کو الگ کرنے سے جانگ کی ذہانت کا اظہار ہوتا ہے کہ کس طرح انہوں نے چین کے انٹرنیٹ سے متعلق سخت قواعد کے اندر رہتے ہوئے آزاد عالمی مارکیٹ کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی۔
دو کشتیوں کی سواری میں خطرہ بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے جبکہ ٹک ٹاک واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں اپنے لیے راستہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اب جانگ کو صرف چھ ہفتے دیے گئے ہیں کہ وہ ٹاک ٹاک کا امریکہ میں خریدار تلاش کریں یا پھر اس پر اس مارکیٹ میں پابندی لگ جائے گی۔ جانگ کاروباری شخصیت بننے سے پہلے ایک کمپیوٹر پروگرامر تھے۔ انہوں نے بائیٹ ڈانس بنائی جس نے انہیں چینی ارب پتی افراد کے کلب تک پہنچا دیا اور وہ پہلے سے مستحکم کئی ٹیکنالوجی ٹائیکونز سے آگے نکل گئے۔
تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ کمپنی کا 2018 کا سات ارب 40 کروڑ ڈالر کا ریونیو گزشتہ برس دگنا ہوگیا اور وہ فیس بک اور گوگل کی سرپرست امریکی کمپنی الفابیٹ کی ایک مضبوط حریف بنتی جا رہی ہے۔ ٹک ٹاک کو جانگ کے مصنوعی ذہانت کے اولین استعمال کے منصوبے کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا۔ شروع میں اس نے خبروں کےلیے استعمال ہونے والی بڑی ایپ ‘جنری تاشاؤ’ کے ساتھ چین میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد اندرون اور بیرون ملک کچھ اور کامیابیاں ملیں لیکن ٹاک ٹاک متعارف کروائے جانے کے بعد کمپنی حقیقی معنوں میں اگلے مرحلے میں داخل ہوگئی۔
تین سال پہلے ٹاک ٹاک لانچ ہونے کے بعد اسے دنیا بھر میں دو ارب افراد نے ڈاؤن لوڈ کیا اور امریکہ اور بھارت اس کی دو بڑی بین الاقوامی مارکیٹیں بن گئیں۔ اس وقت بائیٹ ڈانس کے 30 ملکوں میں 60 ہزار سے زیادہ ملازمین ہیں۔ مارچ میں جانگ نے کہا تھا کہ وہ مزید 40 ہزار کارکن بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے بعد کمپنی کے ملازمین کی تعداد ای کامرس کی بڑی چینی کمپنی علی بابا کے ملازمین کے قریب قریب ہو جائے گی۔ جون میں لداخ میں بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان جھڑپ کے بعد بھارتی حکومت نے ٹاک ٹاک پر پابندی لگا دی جس سے ایک بڑی مارکیٹ کمپنی کے ہاتھ سے نکل گئی۔ ٹیلی کام کمپنی ہواوے کی طرح یہ کمپنی بھی نظروں میں آ گئی جس کی وجہ وہ خدشات تھےجن کے مطابق بائیٹ ڈانس کو صارفین کے کوائف چینی خفیہ ادارے کے ساتھ شیئر کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کا اصرار ہے کہ اس نے صارفین کا ڈیٹا کبھی چینی حکومت کو نہیں دیا اور نہ ہی وہ یہ معلومات کسی حکومت کو دے گی۔ اس کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ماہ مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ میں استعمال جاری رکھنے کےلیے ٹک ٹاک چھ ہفتے میں فروخت کر دی جائے یا پھر اس پر پابندی لگا دی جائے گی۔
اس حوالے سے یہ بھی خبریں گرم ہیں کہ مائیکرو سافٹ نے امریکہ میں ٹک ٹاک کو خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اس حوالے سے جانگ یمنگ کی کمپنی سے مذاکرات کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ٹاک ٹاک کے امریکہ کے حوالے سے معاملے کے اس کے عالمی سطح پر استعمال پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، تاہم اگر جانگ ٹک ٹاک کو بیچ کر بھاری رقم لینے پر تیار ہو بھی جائیں تو انہیں چین میں غصے کا سامنا کرنا ہوگا کیوںکہ بعض قوم پرست آوازیں آنا شروع ہوگئی ہیں کہ ٹاک ٹاک کو فروخت کیا گیا تو بائیٹ ڈانس کا بائیکاٹ کر دیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button