ٹیسلا کار کمپنی کے مالک نے بالآخر ٹوئیٹر کیسے فتح کیا؟


ٹیسلا کار کمپنی کے مالک اور دنیا کی امیر ترین شخصیت ایلون مسک نے سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ ٹوئیٹر کا کنٹرول سنبھالنے کے فوری بعد اسکی بھارتی نژاد چیف ایگزیکٹو آفیسر پراگ اگروال کو فارغ کر دیا ہے اور صدر ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بحال کر دیا ہے۔ ایلون مسک نے ٹوئیٹر خریدنے کے بعد یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ وہ 70 فیصد سٹاف کی چھٹی کروا دیں گے۔ ٹوئٹر کا رواں برس اپریل میں 44 ارب ڈالر میں خریداری کا معاہدہ کیا گیا تھا، ایلون مسک نے 27 اور 28 اکتوبر کی درمیانی شب مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ کا کنٹرول سنبھالا جسکے فوری بعد انہوں نے آفس کی عمارت میں داخل ہونے کی ویڈیو شیئر کی۔ انہوں نے مختصر ٹوئٹ کی کہ’پرندہ آزاد ہوگیا‘ ان کا اشارہ دراصل ٹوئٹر کے پرندے والے لوگو کی جانب تھا۔

ایلون مسک نے ایک اور ٹوئٹ میں اشتہارات دینے والی کمپنیوں اور اداروں کے لیے بھی ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے ان کے ساتھ کام جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا، اسی پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ انکا ٹوئٹر کو خریدنے کا مقصد مزید دولت بنانا نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت اور بہترین معاشرے کی تشکیل ہے جس کیلئے انہیں بڑی اشتہاری کمپنیوں کی مدد درکار ہے۔

ایلون مسک نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی بتایا کہ ایسا بلکل نہیں ہو سکتا کہ ٹوئٹر جیسے پلیٹ فارم پر جس کے من میں جو آئے، وہ کرتا پھرے، ہمارا پلیٹ فارم تمام ممالک کے قوانین کی پاس داری کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں بتایا کہ وہ جلد ٹوئٹر کے ہیڈ کوارٹر میں بہترین افراد سے ملاقات بھی کریں گے۔ انہوں نے ٹوئٹر پروفائل پر اپنی بائیو تبدیل کرتے ہوئے ہوئے خود کو ’چیف ٹوئٹ‘ قرار دیا اور ساتھ میں اپنی لوکیشن میں ٹوئٹر ہیڈ کوارٹر شامل کیا۔ اگرچہ فوری طور پر ایلون مسک نے ٹوئٹر کے ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان نہیں کیا، تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ ملازمین کی تعداد میں نمایاں طور پر کمی کریں گے، جسکے بعد کمپنی کے 7500 ملازمین اپنے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں۔

یاد رہے کہ ایلون مسک نے ٹوئٹر کا انتطام ایک ایسے وقت میں سنبھالا جب ایک دن بعد انکے خلاف ٹوئٹر کی جانب سے دائر مقدمے کے ٹرائل کا آغاز ہونا تھا۔ ٹوئٹر نے جولائی 2022 میں ایلون مسک کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی تھی کہ انہیں پابند بنایا جائے کہ وہ پلیٹ فارم کو اعلان کردہ قیمت 44 ارب ڈالر میں خریدے۔ ایلون مسک نے اپریل 2022 میں ٹوئٹر کے فی شیئر کو 54 ڈالر سے زائد کی رقم میں خریدتے ہوئے اس کی بولی 44 ارب ڈالر لگائی تھی مگر بعد ازاں وہ ٹوئٹر پر جعلی اکاؤنٹس سمیت دیگر معاملات کو سبب بنا کر خریداری کے معاہدے سے مکر گئے تھے۔اسکے بعد ٹوئٹر نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ عدالت نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ٹرائل اکتوبر کے آخر میں شروع کیا جائے گا اور اس سے پہلے دونوں پارٹیوں کو ٹرائل سے قبل ہی صلح کی تجویز دی تھی، چنانچہ ٹرائل شروع ہونے سے قبل ہی ایلون مسک نے ٹوئٹر کا کنٹرول سنبھال لیا۔

Back to top button