ٹیسٹ ڈیبیو میں ’’مسٹری سپنر‘‘ قرار پانے والا ابرار کون ہے؟

انگلینڈ کیخلاف ملتان ٹیسٹ میں ڈیبیو کرنیوالے پاکستانی سپن بائولر ابرار احمد اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں سات وکٹیں لیکر مسٹری سپنر قرار پائے ہیں۔ ابرار کی گھومتی ہوئی گیندوں کو کوئی بھی انگلش بلے باز سمجھنے سے قاصر رہا، ابرار احمد نے ڈیبیو ٹیسٹ میچ میں سات وکٹیں لے کر تیسرے پاکستانی بائولر بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا ہے۔انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے پاکستان ٹیم کے سکواڈ کا اعلان ہوتے ہی ابرار سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے، انہوں نے انگلینڈ کے ٹاپ فائیو جارحانہ بلے بازوں کو اپنی مسٹری سپن خصوصاً کیرم بال سے چکمہ دے کر ثابت کیا ہے کہ وہ تجربہ کار تو نہیں لیکن چالاک ضرور ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ سیزن میں انھوں 43 میں سے 40 وکٹیں راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں 17 کی اوسط سے حاصل کی تھیں، اور اسی پرفارمنس کی بنیاد پر انہیں ملتان ٹیسٹ میں ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔
ملتان ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ابرار نے انگلینڈ کی جو پانچ وکٹیں لیں ان میں زیک کرالی، بین ڈکٹ، جو روٹ، اولی پوپ اور ہیری بروک شامل ہیں۔ ان پانچ میں سے چار بلے بازوں نے پنڈی ٹیسٹ میں سنچریاں سکور کی تھیں۔ ایسے موقع جب یاسر شاہ آؤٹ آف فارم تھے اور پاکستان نعمان علی سمیت دیگر سپنرز کو آزما چکا تھا، ابرار کی ٹیم میں شمولیت اور بہترین کارکردگی یقیناً پاکستانی ٹیم کے لیے ریلیف سے کم نہیں۔ 24 سالہ ابرار کے والد کا تعلق شنکیاری سے ہے جبکہ ان کی والدہ لاہور سے تعلق رکھتی ہیں۔والد کا ٹرانسپورٹ کا کام ہے اور یہ فیملی کافی عرصے سے کراچی میں مقیم ہے۔ ابرار کی پیدائش کراچی میں ہوئی، انھوں نے کرکٹ اپنے علاقے جہانگیر روڈ کے گلی محلے کی ٹینس بال سے شروع کی۔ ابرار کہتے ہیں ’میں بچپن میں بہت شرارتی تھا، لیکن اگر گھر میں سب سے چھوٹا ہونے کا فائدہ ہے تو نقصان بھی ہے۔ ایک بھائی کا کام کرو تو دوسرے نے بھی کام کرانا ہوتا تھا لیکن میں اپنے بچاؤ کے لیے امی کو آگے کر دیتا تھا۔ ابرار احمد بتاتے ہیں میرے بڑے بھائیوں کو کرکٹ کا شوق تھا، وہ نشتر پارک اور دوسرے میدانوں میں جا کر کھیلا کرتے تھے۔ میں بھی وہاں جا کر بیٹھ جاتا اور انھیں کھیلتے ہوئے دیکھا کرتا۔ پھر وہ وقت بھی آ گیا جب میں کھیل رہا تھا اور بھائی مجھے دیکھ رہے تھے۔
کراچی کے کئی نوجوان کرکٹرز کی طرح ابرار احمد کے ابتدائی کیریئر میں کوچ محمد مسرور کا عمل دخل نمایاں ہے جنہوں نے ان میں چھپا ہوا ٹیلنٹ دیکھ کر کھیلنے کا موقع فراہم کیا، مسرور کے کہنے پر ہی راشد لطیف نے ابرار کو اپنی کرکٹ اکیڈمی میں بھی شامل کیا تھا۔ ابرار کہتے ہیں کہ میں نے سنا تھا کہ جب آپ کسی اکیڈمی میں جا کر کھیلتے ہیں تو آپ کو فیس وغیرہ کے پیسے دینے پڑتے ہیں لیکن ڈسٹرکٹ کی سطح پر میری بائولنگ اتنی اچھی تھی کہ مجھ سمیت تین کرکٹرز کو راشد لطیف اکیڈمی کی طرف سے ہر ماہ سات ہزار روپے ملتے تھے۔ مسٹری بائولر کے مطابق اگرچہ میرے بڑے بھائی بھی کرکٹ کھیلتے تھے لیکن میرے والد چاہتے تھے کہ میں پڑھائی پر توجہ دوں۔ لیکن میں پھر بھی کرکٹر بننا چاہتا تھا، جب میرا نام ڈسٹرکٹ کی ٹیم میں آیا تو میں نے اپنے کزن شفیق سے کہا کہ آپ میرے والد سے بات کریں کہ وہ مجھے کھیلنے کی اجازت دے دیں، میرے کیریئر کا وہ سب سے اہم لمحہ تھا جب میرے کزن نے والد کو قائل کر لیا۔ اب ابرار کے والد سینہ تان کر اپنے بیٹے پر فخر کر سکتے ہیں۔
