ٹیوشن پڑھانے والی سونیاحسین سپر سٹار کیسے بنیں؟

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ سونیا حسین نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا بچپن بہت اچھا نہیں گزرا کیونکہ ان کی والدہ کو دو بیٹیاں پیدا کرنے کے جرم میں سسرال والوں اور شوہر کی جانب سے کافی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ ڈپریشن کا شکار رہیں۔ ایک انٹرویو میں سونیا حسین نے بتایا کہ بڑی بیٹی ہونے کی وجہ سے ان کا بچپن ماں کو پریشانی کی حالت میں دیکھتے ہوئے گزرا۔ سونیا نے معاشی مسائل کی وجہ سے صرف 14 سال کی عمر سے کمانا شروع کر دیا تھا۔ وہ 500 روپے ماہانہ فی بچہ ٹیوشن پڑھایا کرتی تھیں اور ان پیسوں سے اپنی فیس دینے کے علاوہ گھر کا ضروری سامان لیتی تھیں۔ آج انھیں دیکھ کر کون اندازہ کر سکتا ہے کہ سونیا حسین کا ماضی اتنا سخت گزرا ہوگا-
سونیا نے فزیالوجی کی تعلیم حاصل کی تھی اور وہ اسی شعبے میں آگے بڑھنا چاہتی تھیں۔ اس دوران انھوں نے کالج میں ہونے والے ایک آڈیشن میں شوقیہ حصہ لیا جس پر ڈائریکٹر کی جانب سے انھیں سیلیکٹ کر لیا گیا۔ تب ان کے والد نے ان سے اداکاری کے میدان میں قسمت آزمانے کا کہا جس کے بعد انھوں نے ایکٹنگ کی شروعات کی اور پھر ایک کے بعد ایک ڈرامے کرکے کامیاب ہوتی گئیں۔ پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور کامیابی اور شہرت کی منازل طے کرتی چلی گئیں۔ سونیا اپنے خاندان کے بہت قریب ہیں اور مسلسل اپنے خاندان کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ اس کے باوجود انھوں نے کبھی بہن بھائی کو بوجھ نہیں سمجھا بلکہ ان سے محبت ہی کی۔ہے۔ سونیا کہ دو چھوٹی بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ وہ خاندان سے دور رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔
سونیا نے بتایا کہ جب انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تو پہلے اشتہار کی شوٹنگ کے لیے ہی ان سے یہ قربانی مانگی گئی کہ وہ اپنے لمبے بال کٹوا دیں تاکہ ایک لاکھ روپیہ کما سکیں۔ سونیا نے اپنے کیرئیر کی شروعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں بطور ماڈل پہلے کمرشل کیلئے کتنی تنخواہ ملی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہیں پہلا کمرشل ملا تب ان کے بال بہت لمبے تھے لیکن ان سے کہا گیا کہ انہیں ایک اشتہار میں دو طرح کے روپ دکھانا ہوں گے۔ پہلے روپ میں وہ لمبے بالوں میں نظر آئیں گی جبکہ دوسرے روپ میں ان کے بال چھوٹے ہو جائیں گے۔ لیکن اس قربانی کے عوض انہیں ایک لاکھ روپے کی آفر کی گئی جو انہوں نے بوجھل دل کیساتھ ساتھ قبول کر لی۔ اداکارہ نے بتایا کہ جب وہ شوٹنگ کے بعد گھر پہنچیں تو ان کے گھر والے خاص طور پر ان کے والد چھوٹے بالوں میں انہیں دیکھ کر حیران ہوگئے کیونکہ وہ ان کے لمبے بال پسند کرتے تھے۔ تاہم اس زمانے میں ایک لاکھ روپے کافی اچھی رقم ہوتی تھی، چنانچہ مجھے بالوں کے کٹنے کا افسوس تو تھا لیکن رقم ملنے کی خوشی بھی تھی۔