ٹیکس سیکٹر میں قومی خزانے کو سالانہ کتنا نقصان ہو رہا ہے؟

کسی بھی ملک کیلئے ٹیکس وصولیاں معیشت کیلئے آکسیجن کا کردار ادا کرتی ہیں، جتنا زیادہ ٹیکس نیٹ ہوگا اتنی ہی معیشت مضبوط ہوگی لیکن پاکستان میں ٹیکس سیکٹر میں قومی خزانے کو سالانہ 7.5 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ٹیکس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے تاجر غیر قانونی طریقہ کار اپنا رہے ہیں، کچھ ایسا ہی ایکسپورٹ اور امپورٹ میں ٹیکس میں کمی کے لیے کاغذات میں ٹیمپرنگ کی جاتی ہے تاکہ ٹیکس کم سے کم دیا جا سکے۔پاکستان بزنس کونسل نے نگراں وفاقی وزیر خزانہ شمشاد اختر کو اس حوالے سے ایک خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکس سیکٹر میں انڈر اور اوور ان وائسنگ سے سالانہ 7.5 ارب ڈالر کی بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔پاکستان بزنس کونسل نے اس خط میں وفاقی حکومت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور اسٹیٹ بینک سے ان بے ضابطیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، خط میں مزید کہا گیا ہے کہ امپورٹ ایکسپورٹ میں انڈر اور اوور انوائسنگ رپورٹ وفاقی وزیر خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر کو ارسال کر دی گئی ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ٹیکسوں کی ادائیگی سے بچنے کے لیے انڈر اور اوور ان وائسنگ کا سلسلہ بڑے پیمانے پر جاری ہے، امپورٹ اور ایکسپورٹ سیکٹرز میں مال کی قیمت کم اور ذیادہ ڈکلیئر کرنے سے ملکی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔دوسری جانب خط میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے بین الاقوامی ادارہ (آئی ٹی سی) نے بھی پاکستان میں جاری انڈر اور اوور ان واسنگ پر شدید تشویش کا اظہارکیا ہے، پاکستان سے چین ایکسپورٹ میں سالانہ 21 فیصد کی شرح سے 59 کروڑ 40 لاکھ ٹیکس ادائیگیوں میں خرد برد ہوئی ہے۔خط کے مطابق امریکا سے پاکستان سالانہ 18.8 ارب ڈالر ایکسپورٹ میں بھی ایف او بی ویلیو اور سی آئی ایف ویلیو کا 10 فیصد فرق سامنے آیا ہے۔ یو کے، سپین، اٹلی، جرمنی اور نیدرلینڈ سے بھی امپورٹ اور ایکسپورٹ میں انڈر اور اوور وائسنگ کے شواہد موجود ہیں۔انوائیس سے مراد وہ رسید ہے جس کے مطابق تاجر اپنے مال کو قانونی حیثیت دلاتا ہے لیکن اسے اگر انڈر انوائیس کہا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ مثال کے طور پر 15 روپے کا سامان باہر سے پاکستان لایا جا رہا ہے اور اس کا ٹیکس بھی 15 روپے بنتا ہے اور تاجر نے اس ٹیکس کو کم ظاہر کرنے کے لیے انڈر ٹیبل معاملات چلا کر سامان کم دکھا کر اپنا ٹیکس کم کردیا ہے، یوں اصل ٹیکس حکومت وصول نا کرسکی، اگر بات کی جائے اوور انوائس کی تو اوور انوائیس سے مراد ہے کہ آپ اپنے سامان کی قیمت کم بتا کر اسے مارکیٹ میں مہنگا پیچ رہے ہیں یعنی آپ نے ٹیکس تو وہی دیا جو اسکی قیمت تھی لیکن جہاں آپ نے پیچنا ہے وہاں سے زیادہ قیمت وصول کی گئی جو کہ غیر قانونی کہلائے گی۔

Back to top button