ٹیکنالوجی کے بغیر موسم کی درست پیشگوئی کیسے کی جاتی ہے؟

آج کے دور میں تو موسم کی پیش گوئی کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور سیٹیلائٹ کا استعمال کیا جاتا ہے، لیکن انسان صدیوں پہلے بھی بغیر کسی ٹیکنالوجی کے موسم کی درست پیشگوئی کرتا رہا ہے۔ یہ پیشگوئیاں کرنے کے لیے عجیب و غریب فارمولے استعمال کیے جاتے تھے۔ تب لوگ بادلوں کی ساخت اور ستاروں کی حرکت سے معلوم کر لیتے تھے کہ کس طرح کا موسم آنے والا ہے۔ اسی طرح اگر کوا ساون کے مہینے میں دو انڈے دیتا تھا تو دو اچھی بارشوں کی پیش گوئی کی جاتی تھی اور اگر کوے کا گھونسلہ انڈوں سے خالی ہوتا تو یہ سمجھا جاتا کہ قحط سالی ہوگی۔
سجاد اظہر ایک خصوصی رپورٹ میں کہتے ہیں کہ کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ انسان قدیم دور سے ہی اس قابل ہے کہ وہ آنے والے موسم کی پیش گوئی کر سکتا ہے، موسم کی پیشگوئی کا سب سے قدیم ذکر ہمیں بابل کی تہذیب میں 650 قبل مسیح میں ملتا ہے، یہ تہذیب آج کے عراق اور شام کے علاقوں میں آباد تھی، یہ لوگ بادلوں کی ساخت اور ستاروں کی حرکت سے معلوم کر لیتے تھے کہ انہیں کس طرح کے موسم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
350 قبل مسیح میں تو یونانی فلسفی ارسطو نے موسموں کی تبدیلی کی حرکیات پر باقاعدہ کتاب لکھ دی، تاہم سائنس انیسویں صدی میں آ کر اس قابل ہو سکی کہ وہ موسم کی پیش گوئی کر سکے۔ 300 قبل مسیح میں چینیوں نے سال کو 24 ادوار میں تقسیم کر رکھا تھا اور ہر 15 دنوں کی تقسیم موسم کے مطابق کی گئی تھی۔سندھ کی تہذیب کا شمار دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں ہوتا ہے یہاں بھی موسم کی پیشگوئی کرنے کی صلاحیت نہ صرف صدیوں سے موجود ہے بلکہ یہ روایت آج تک چلی آتی ہے، شمالی پنجاب اور پوٹھوہار میں لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر پنجابی مہینہ ہاڑ کی دوسری تاریخ کو کہیں دور سے آسمان پر چمک آئے تو اس کا مطلب ہے کہ بارش ہونے والی ہے، پوٹھوہار میں ایک پرندہ ہے جسے مقامی زبان میں ٹخ ٹخی یا ٹٹیری کہتے ہیں۔ یہ پرندہ جب اچانک آسمان پر نمودار ہوتا ہے اور ’ٹی ٹی ٹیں‘ کی آوازیں نکالنا شروع کرتا ہے تو سمجھا جاتا ہے کہ بارش قریب ہے۔
معروف شکاری انعام منظور کے مطابق ایک بار وہ شکار پر گئے تو آسمان بالکل صاف تھا۔ اتنے میں ان کے مقامی گائیڈ نے کہا کہ جلدی نکلیں طوفان آ رہا ہے، میں نے کہا، ’تمہیں کیسے پتہ چلا؟ اس نے کہا دور افق پر ایک لکیر نظر آئی ہے، ہم نکلے ہی تھے کہ پندرہ، منٹ میں طوفان نے آ لیا اور ہم بھیگ گئے۔ سکردو سے تعلق رکھنے والے صحافی قاسم نسیم کے مطابق مینا جب ہمارے گھروں کی منڈیروں پر آ کر بولے تو سمجھا جاتا ہے کہ برف باری شروع ہونے والی ہے، اسکے علاوہ چاند کے حجم اور رنگ سے بھی بارش کی پیش گوئی کی جاتی ہے۔ اگر چاند اور سورج ایک ہی وقت پر طلوع ہوں تو اس کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ بارش ہوگی۔ اسی طرح اگر چاند کے گرد چار ستارے ظاہر ہوں تو سمجھا جاتا ہے کہ شدید بارشیں ہوں گی لیکن ایک ستارے کا مطلب ہے کہ معمول کی بارش ہوگی۔
چاند کی طرح تھر کے لوگ ستاروں سے بھی موسم کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ ساون کے مہینے میں اگر سورج کے غروب ہوتے ہی ایک ستارہ آسمان پر چمکے تو شدید بارشیں ہوں گی۔ اسی طرح ایک مخصوص ستارہ ہر پچاس سال بعد آسمان پر ظاہر ہوتا ہے جب یہ نظر آئے تو تھر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ اب ایسی بارشیں ہوں گی جو ان کے لیے خوشحالی لے کر آئیں گی۔ تھر میں پرندوں سے بھی موسم کی پیش گوئی کی جاتی ہے۔ ایک پرندہ جسے مقامی زبان میں ’تارو‘ کہتے ہیں، اس کے حلق میں ایک سوراخ ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ زمین پر سے پانی نہیں پی سکتا۔ لہذا جب بارش ہوتی ہے تو پانی اس کر سر پر گر کر اسکی گردن سے اس کے اندر چلا جاتا ہے۔ پانی پی کر جب یہ گنگنانے لگتا ہے تو تھر کے لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ اب چند روز تیز بارش ہوتی رہے گی۔
اسی طرح مور تھر کا ایک اہم پرندہ ہے۔ جون کے مہینہ میں اگر اسکی آواز بدلے تو سمجھا جاتا ہے کہ بارش آ رہی ہے۔ اسی طرح تیتر اگر صبح سے شام تک گائے تو بھی سمجھا جاتا ہے کہ بارشیں آ رہی ہیں۔ کوا بھی ایک ایسا پرندہ ہے جس سے موسم کی پیش گوئی کی جاتی ہے۔ جب کسان کھیتوں میں ہل چلا رہے ہوتے ہیں تو وہ کوے کو کھانا ڈالتے ہیں۔ اگر کوا یہ کھانا کھا لے تواسے اچھا شگون سمجھا جاتا ہے لیکن اگر وہ کھانا لے کر اڑ جائے تو سمجھا جاتا ہے کہ قحط سالی آ رہی ہے۔
