ٹی ٹی پی نے مذاکرات کی آڑ میں اپنا نیٹ ورک مضبوط کر لیا

تحریک طالبان کی قیادت نے پاکستانی عسکری حکام سے ہونے والے مذاکراتی عمل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک میں اپنا دہشت گردی کا نیٹ ورک منظم کیا جس کے نتیجے میں بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستانی عسکری حکام سے مذاکراتی عمل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک طالبان نے ہمیشہ اپنا نیٹ ورک مضبوط کیا ہے۔ یہ اعتراف نیشنل کاؤنٹرٹیرارزم اتھارٹی یعنی نیکٹا نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں کیا ہے۔ نیکٹا نے کمیٹی کو بتایا کہ طالبان سے ہونے والے امن مذاکرات سے انتہا پسند طالبان عناصر کی حوصلہ افزائی ہوئی جس کے نتیجے میں خیبر پختون خوا، خصوصاًسوات کے عوام نے خود کو غیر محفوظ تصور کرنا شروع کر دیا ہے اور اسی وجہ سے پہلی مرتبہ سوات میں طالبان کے خلاف اتنے وسیع پیمانے پر عوامی مظاہرے ہوئے ہیں۔
نیکٹا کی رپورٹ میں نشان دہی کی گئی ہے کہ گزشتہ برس افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا سے ٹی ٹی پی کو پاکستان میں واپسی اور اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملا۔ نیکٹا نے کہا کہ پاکستانی فوجی حکام اور تحریک طالبان کے مابین مذاکرات کے بعد مجموعی طور پر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا۔ یاد رہے کہ تحریک طالبان حکومت کے ساتھ سیز فائر ختم کرنے کے بعد دوبارہ سے حملوں کا آغاز کر چکی ہے۔ حال ہی میں پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے درجنوں واقعات کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کی ہے۔ نیکٹا نے صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مالاکنڈ ڈویژن تحریک طالبان کی دہشت گرد کارروائیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہے کیونکہ یہ مرکز ہے اور شہری علاقوں تک آسانی سے رسائی ممکن نہیں۔ سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سوات میں حال ہی میں معاشرے کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شدید احتجاج کیا تھا جو ایک اچھی پیش رفت ہے، مقامی افراد خاص طور پر سیاسی قیادت انتہا پسندوں کے خلاف متحرک ہوئی اور اس کی اداروں کے انتظام کے ذریعے تحفظ اور تعاون کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے سکیورٹی اداروں کو مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ سردیوں میں اشیایہ ضروریہ کی کمی اور عدم رسائی کے باعث انتہاپسند ممکنہ طور پر پہاڑی علاقوں سے نقل مکانی کرتے ہیں۔
سینیٹ کمیٹی کو مالاکنڈ ڈویژن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ تاحال پولیس حکام نے طالبان دہشتگردوں کے خلاف 200 کارروائیاں کی ہیں، جن میں سے 77 خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اکثر دہشت گرد ٹی ٹی پی سے منسلک ہیں۔ خیال رہے کہ ٹی ٹی پی نے گزشتہ ماہ کے آخر میں حکومت کے ساتھ جون میں طے پانے والا سیز فائر ختم کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ملک بھر میں حملوں کا حکم دیا تھا۔ ٹی ٹی پی نے کہا تھا کہ ’تحریک طالبان کی وزارت دفاع تمام طالبان گروپ لیڈرز، مسئولین تحصیل اور والیان کو حکم دیا جاتا ہے کہ ملک بھر میں جہاں بھی آپ کی رسائی ہوسکتی ہے حملے کریں‘۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’بنوں کے ضلع لکی مروت سمیت مختلف علاقوں میں عسکری اداروں کی طرف سے مسلسل آپریشنز ہو رہے ہیں اور اقدامی حملوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔پاکستان کے عوام کو مخاطب کرکے کالعدم ٹی ٹی پی نے کہا تھا کہ ’ہم نے بارہا آپ کو خبردار کیا اور مسلسل صبر سے کام لیا تاکہ مذاکراتی عمل کم از کم ہماری طرف سے سبوتاژ نہ ہو، مگر فوج اور خفیہ ادارے باز نہ آئے اور حملے جاری رکھے‘۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ ’اب ملک بھر میں ہمارے انتقامی حملے شروع ہوں گے‘۔ یاد رہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ پاکستانی حکومت کے مذاکرات سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے دور میں شروع ہوئے تھے لیکن پھر طالبان کی پاکستانی علاقوں میں واپسی اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافے کے بعد معطل ہوگئے تھے۔ رواں برس مئی میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے لیکن اختلاف رائے کی وجہ سے ناکامی ہوئی کیونکہ طالبان کا مطالبہ تھا کہ خیبر پختونخوا کے فاٹا میں ضم شدہ اضلاع کی حیثیت ختم کی جائے۔مذاکرات میں ناکامی کے نتیجے میں کالعدم ٹی ٹی پی نے حملے شروع کردیے جن میں ستمبر 2022 میں اضافہ ہوا۔ اکثر حملے خیبرپختونخوا کے اضلاع ڈیرہ اسمٰعیل خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں ہوئے۔
وفاقی وزارت داخلہ نے اکتوبر میں خبردار کیا تھا کہ ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک برس سے زائد عرصے تک رہنے والے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں کیونکہ ٹی ٹی پی کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں جس وجہ سے مذاکرات کے دوران ہی سکیورٹی فورسز پر حملے کر دیے جاتے ہیں۔لیکن ٹی ٹی پی نے حکومت پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بنیادی مطالبات پورے کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، جس میں خیبر پختونخوا کے ساتھ سابق فاٹا کا انضمام ختم کرنا اور ٹی ٹی پی کے گرفتار اراکین کو رہا کرنا شامل تھے۔ وزارت داخلہ نے ٹی ٹی پی کے ذیلی گروپس کی نشان دہی بھی کی تھی جو داعش سے الگ ہوگئے ہیں اور دہشتگردی کی سرگرمیوں کے لیے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ مل چکے ہیں۔
