پائلٹ سجاد گل کے خاندان نے تحقیقاتی رپورٹ مسترد کردی


کراچی طیارہ حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے پی آئی اے کے پائلٹ سجاد گل کی فیملی نے حکومتی تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکام نے اپنی نالائقی اور نااہلی چھپانے کیلئے حادثے کی تمام تر ذمہ داری پائلٹ پر ڈال دی ہے لہذا ہم حکومتی موقف کو سختی سے رد کرتے ہیں۔ شہید پائلٹ کے خاندانی ذرائع نے کہا ہے کہ ہم اس نا انصافی پر تاحال خاموش ہیں لیکن حکام ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھیں۔ اگر انہوں نے کراچی حادثے کی شفاف تحقیقات کا وعدہ پورا نہ کیا تو ہم راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔
سجاد گل کے فیملی ممبران نے کہا کہ وفاقی وزیر ہوا بازی کی طرف سے یہ بیان کہ سجاد گل کاک پٹ میں آخری لمحات میں اپنے خاندان کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کی باتیں کر رہے تھے بالکل بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید پائلٹ کے خاندان کا کوئی فرد خواہ وہ ان کی بیوی یا بچے ہوں، کرونا میں مبتلا نہیں تھا۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور نے قومی اسمبلی میں گذشتہ دنوں حادثے کی ابتدائی تحقیاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ پائلٹس کے درمیان کاک پٹ میں ہونے والی ساری گفتگو صرف کرونا وائرس کے حوالے سے تھی۔ پائلٹس کے فیملی ممبرز کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کی تمام ترتوجہ فلائٹ کی بجائے کرونا وائرس پر مرکوزتھی۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ گذشتہ دس سالوں میں ملکی تاریخ میں ہونے والے بڑے فضائی حادثوں کی انکوائری رپورٹس میں تین حادثوں میں پائلٹس کی غلطی کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ ایک حادثے کی وجہ فنی خرابی تھی۔
دوسری طرف کیپٹن سجاد گل کے فیملی ممبران نے وفاقی وزیر غلام سرور خان کے دعوؤں کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید پائلٹ کی فیملی میں کوئی بھی کرونا وائرس سے متاثر نہیں ہوا ہے اس لئے وفاقی وزیر کی جانب سے اس طرح کے بے بنیاد دعوے افسوسناک اور قابل مذمت ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت حادثے کا سارا ملبہ پائلٹ پر ڈال کر اس افسوسناک واقعہ کے ذمہ داران کے تعین سے راہ فرار اختیار کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی مسئلہ تو یہ ہے کہ لینڈنگ کے وقت جہاز کے لینڈنگ گیئر نہیں کھلے تھے جس وجہ سے جہاز کے دونوں انجنوں نے رن وے کو ٹچ کیا اور خرابی ہوئی۔ لہذا اس سوال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ جہاز کے لینڈنگ گیئرز کیوں نہیں کھلے تھے؟
حادثے کی رپورٹ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے پائلٹ سجاد گل کے بہنوئی ہارون عزیزنے بتایا کہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ پر ابھی تک ان کا کوئی موقف نہیں ہے، وہ فی الحال دیکھ رہے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ہمیں تو پہلے دن سے معلوم تھا کہ حادثے کا الزم پائلٹ پر ہی لگے گا۔ اس لئے رپورٹ میں ہمارے لیے کوئی نئی خبر نہیں ہے۔ سجاد گل کے خاندان میں کونسا فرد کرونا میں مبتلا تھا؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ سب بکواس کرتے ہیں، وفاقی وزیر جھوٹ بول رہے ہیں۔ سجاد گل کی فیملی میں کوئی بھی فرد کرونا کا مریض نہیں ہے۔ نہ ان کی بیوی، نہ بچے نہ ہی ان کے والد کو کرونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہمیں مناسب لگے گا ہم تب میڈیا پر آ کر بات کریں گے لیکن حکومت کو حادثے کی شفاف تحقیقات کا اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔‘
دوسری جانب سجاد گل کے قریبی دوست ان کے پروفیشنلزم کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں۔ سجاد کے ایک قریبی دوست ہما علی نے بتایا کہ سجاد گل ایک انتہائی کم گو، شریف انفس اور دھیمے مزاج کے آدمی تھے۔ ہر کام وقت پر کرتے تھے اور اپنے پیشے کے حوالے سے اتنے حساس تھے کہ دوست احباب جب ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کرتے تو وہ یہ کہہ کر معذرت کر لیتے کہ ان کی فلائٹ ہے اس لیے انہیں اپنی نیند پوری کرنی ہے۔‘ خیال رہے کہ پی آئی اے کی پرواز 8303 کو 22 مئی کو اس وقت حادثہ پیش آیا جب طیارہ لاہور سے کراچی آتے ہوئے لینڈنگ سے پہلے ہی رہائشی آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں جہاز میں سوار 99 مسافروں میں سے 97 لقمہ اجل بنے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button