پاراچنار کے طوری بازار میں دھماکا، 16افراد زخمی

صوبہ خیبر پختونخوا کی کرم ایجنسی کے علاقے پاراچنار میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
پارا چنار کے طوری بازار میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد زخمی ہو گئے ہیں جب کہ اطراف میں موجود املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ ڈی ایس نجب علی نے بتایا کہ آئی ای ڈی کے ذریعے دھماکا کیا گیا جسے سبزی کی ریڑھی میں نصب کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں اکثر سبزی اور پھل فروش ہی موجود ہوتے ہیں اور زخمیوں کو فوری طور پر مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قیصر عباس بنگش نے کہا کہ اب تک کم از کم 16 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔
علاقے میں اس وقت ایک دم ڈسپوزل اسکواڈ بھی موجود ہے جو آئی ای ڈی کو تلاش کررہی ہے تاکہ مزید کسی حادثے سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب علاقے کے رہائشی افراد نے واقعے کے خلاف مقامی پریس کلب کے باہر احتجاج شروع کردیا ہے۔ 50ہزار سے زائد آبادی کے علاقے پارا چنار میں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور وہاں فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکیاں بھی قائم ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاراچنار میں کوئی اس طرح کا واقعہ رونما ہوا ہو بلکہ اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ اس علاقے کو دہشت گرد نشانہ بنا چکے ہیں۔ 24جون 2017 کو پارا چنار کے گنجان آباد علاقے میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 67افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
اس سے چند ماہ قبل ہی امام بارگاہ کے قریب کار میں بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 23افراد جاں بحق اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ جنوری 2017 میں دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر پاراچنار کو نشانہ بنایا تھا اور سبزی مارکیٹ میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 25افراد جاں بحق اور 87زخمی ہو گئے تھے۔
Facebook Count
Twitter Share
0
