پارلیمنٹ لاجز میں یوٹیلیٹی اسٹور تنقید کی زد میں

حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پارلیمنٹ لاجز میں اراکین قومی اسمبلی کےلیے یوٹیلیٹی اسٹور کھول دیا۔ جب کہ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ یوٹیلٹی اسٹور شروع سے یعنی پیپلز پارٹی کے دور سے ہی پارلیمنٹ لاجز میں موجود ہے۔
یوٹیلیٹی اسٹور کے معاملے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تحریک انصاف کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ صارفین کا موقف ہے کہ حکومت کو رعایتی نرخوں پر اشیائے خورد و نوش ارکان پارلیمنٹ کی بجائے ملک کے مہنگائی سے پسے ہوئے عوام کو فراہم کرنی چاہیے۔
سوشل میڈیا پر ہونے والی گفتگو میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ لاجز میں یوٹیلیٹی اسٹور کے قیام کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں۔
سینیٹر انور بیگ نے لکھا کہ ’جناب وزیراعظم سبسڈی ملک کے ننانوے فیصد عوام کی ضرورت ہے ارکان پارلیمنٹ کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کی ایم این اے نفیسہ شاہ نے ٹویٹ کیا کہ حکومت غریبوں کا حق چھین رہی ہے۔ پارلیمنٹ لاجز میں یوٹیلیٹی اسٹور کی کیا ضرورت ہے؟
حکومتی اقدام کو اچھا سمجھنے اور اس کا دفاع کرنے والوں کی بھی خاصی تعداد گفتگو کا حصہ رہی۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ٹویٹ کی کہ ’یوٹیلیٹی اسٹور شروع سے (پیپلز پارٹی کے دور سے) پارلیمنٹ لاجز میں موجود ہے، بند اس لیے نہیں کیا کہ وزارات صنعت کے مطابق اس سہولت سے لاجز میں متعین سرکاری ملازمین، ڈرائیورز، سیکرٹریٹ کے ملازمین اور دیگر کم آمدنی والے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘
اپنی ٹویٹ میں انہوں نے ناقدین کو مشورہ دیا اور یہ کہتے ہوئے اس کا فائدہ بھی بتایا کہ ’ہر وقت تنقید موڈ میں رہنا صحت کےلیے اچھا نہیں۔‘
یوٹیلٹی اسٹور شروع سے (پیپلز پارٹی کے دور سے) پارلیمنٹ لاجز میں موجود ہے، بند اس لئے نہیں کیا کہ وزارات صنعت کے مطابق اس سہولت سے لاجز میں متعین سرکاری ملازمین، ڈرائیورز، سیکرٹریٹ کے ملازمین اور دیگر کم آمدنی والے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں، ہر وقت تنقید موڈ میں رہنا صحت کےلیے اچھا نہیں
رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے پارلیمنٹ لاجز میں یوٹیلیٹی اسٹور کھولنے کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ بھی پاکستانی ہیں اور انسان ہیں۔ لاجز میں ان کے علاوہ بھی ہزاروں لوگ رہتے ہیں۔ تمام ارکان پارلیمنٹ بھی امیر نہیں ہیں۔ کچھ کو تو ڈیڑھ لاکھ روپے میں گزارہ کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اینکر، بیورو کریٹ، جج اور جرنیل پر یوٹیلیٹی اسٹور سے خریداری پر پابندی نہیں تو پھر ارکان پارلیمان کے ساتھ سوتیلا سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟ صرف اس وجہ سے کہ یہ سب سے آسان ہدف ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں یوٹیلیٹی اسٹور کے قیام کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ حکومت باقی علاقوں کو نظر انداز کر رہی ہے یا اسے نظر انداز کرنا چاہیے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما شیخ روحیل اصغر نے اس فیصلے کو حماقت کی انتہا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لاجز میں رہنے والے پہلے ہی مراعات یافتہ طبقہ ہیں۔ حکومت کے ایسے فیصلوں سے ہی پتہ چلتا ہے کہ ان کے پاس کوئی ویژن نہیں اور نہ ہی انہیں غریبوں کا کوئی احساس ہے۔
