پارلیمنٹ میں سپریم کورٹ کے ججز سے متعلق اہم آئینی ترمیم پیش آج کیے جانے کا امکان

قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس میں چیف جسٹس کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کےحوالے سے آئینی ترمیم پیش کیےجانے کی افواہیں گرم ہیں جہاں حکومت نےترمیم کی منظوری کےلیے درکار اکثریت حاصل کرنےکا دعویٰ کیا ہے۔

پارلیمنٹ کےدونوں ایوانوں کےاجلاس آج شام صرف ایک گھنٹے کےوقفے کےساتھ طلب کیےگئے ہیں،پارلیمنٹ کا ہفتے کےآخر میں اجلاس بلانا غیرمعمولی ہے کیوں کہ عام طور پر بجٹ سیشن یا کسی حساس مسئلے کےلیے اجلاس طلب کیاجاتا ہے۔

اگرچہ قومی اسمبلی کےاجلاس کےلیے باضابطہ طور پر جاری کیےگئے ایجنڈے میں ترمیم کا کوئی ذکر شامل نہیں ہے لیکن اس طرح کی چیزیں عام طور پر ایک ضمنی ایجنڈے کےحصے کے طور پر ایوان کے سامنےرکھی جاتی ہیں۔

آئینی ترمیم : حکومت دھونس اور جبر سے ہی نمبر پورے کرے گی ، سلمان اکرم راجا

حکمران اتحاد میں شامل مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نےاپنے اراکین کو وفاقی دارالحکومت میں ہی رہنے کی ہدایت کررکھی ہیں تاکہ قانون سازی کےلیے دونوں ایوانوں میں ان کی موجودگی کو یقینی بنایا جاسکے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال کرنےکی تجویز دی گئی ہےاور اس حوالےسے قومی اسمبلی میں آئینی ترامیم پیش کیےجانے کا امکان ہے۔

Back to top button