پارلیمنٹ میں گھسنے والوں کا بھی 9 مئی جیسا احتساب کیوں لازمی ہے ؟

سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث عناصر کا جتنا کڑا احتساب کیا جا رہا ہے، اتنا ہی سخت ایکشن 10 ستمبر 2024 کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام اباد پر حملہ کر کے منتخب اراکین اسمبلی کو گرفتار کرنے والوں کے خلاف بھی لینا چاہیئے۔ انکا کہنا ہے کہ اگر فوجی تنصیبات مقدم ہیں تو پارلیمنٹ ان سے بھی زیادہ مقدم ہے اور اس کا تقدس مجروح کرنے والوں کو بھی 9 مئی کے ملزمان کی طرح نشان عبرت بنا دینا چاہیے۔
اپنے تازہ تجزیے میں حامد میر نے 10ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر سے تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک ایم این اے کی زبانی اس روز کی کہانی بیان کی ہے۔ ایک نوجوان ایم این اے صاحب انہیں بتانے لگے کہ جب 9 ستمبر کی شام مجھے پتہ چلا کہ پولیس نے پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ پر ناکہ لگا لیا ہے اور ہمیں گرفتار کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے تو میں ٹہلتا ہوا گیٹ کی طرف چلا گیا۔ پتہ چلا کچھ دیر قبل شیر افضل مروت کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس دوران کسی نے پولیس والوں کو میرے بارے میں بتایا کہ یہ بھی تحریک انصاف کا ایم این اے ہے لیکن پولیس والوں نے مجھے نظر انداز کر دیا۔ ایم این اے صاحب بہت حیران ہوئے کہ انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے ایک پولیس اہلکار سے پوچھا کہ آپ مجھے کیوں نہیں پکڑتے؟ اہلکار نے بڑی شان بے نیازی سے کہا کہ تم تو شکل سے ہی ایم این اے نہیں لگتے کیونکہ ایم این اے جینز اور ٹی شرٹ پہن کر اجلاس میں نہیں آتے۔ یہ سن کر ایم این اے صاحب مسکرائے اور خراماں خراماں چلتے پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ سے باہر آ گئے۔ انہوں نے شاہراہ دستور عبور کی اور پیدل پارلیمنٹ لاجز کی طرف بڑھ گئے۔ اپنے اپارٹمنٹ میں پہنچ کر انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ تحریک انصاف کے گرفتار ارکان قومی اسمبلی کی رہائی کیلئے کوئی حکمت عملی بنائی جائے لیکن ان کا رابطہ نہ ہو سکا۔ ان کا خیال تھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ سے ارکان اسمبلی کی گرفتاریوں کے خلاف پشاور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دی جانی چاہئے ۔ابھی وہ اس خیال سے اپنا دل بہلا ہی رہے تھے کہ گھڑی کی سوئیوں نے انہیں 9 سے 10ستمبر میں پہنچا دیا۔ کچھ دیر کے بعد انہیں پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر سے ایک ساتھی ایم این اے نے فون پر اطلاع دی کہ وہ عمارت کے اندر ہی موجود ہیں اور کچھ نقاب پوش عمارت کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔ پارلیمنٹ لاجز میں موجود کئی ایم این اے اپنے اپارٹمنٹس کی بالکونیوں میں آ گئے اور موبائل فون کے کیمروں سے فلمیں بنانے کی کوشش کرنے لگے لیکن نقاب پوشوں کو پارلیمنٹ ہاؤس کے عملے کی طرف سے مکمل تعاون فراہم کیا جا رہاتھا۔اس تعاون کے نتیجے میں اچانک پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت اندھیرے میں ڈوب گئی پھر جوبھی ہوا اندھیرے میں ہوا اور کیمروں کی آنکھیں انسانی جسموں کی بجائے کچھ سیاہ سائے ہی دیکھ پائیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ ان سیاہ سایوں نے 10ستمبر کو ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ سیاہ سائے ارکان پارلیمنٹ کو گھسیٹ کر اپنی سیاہ گاڑیوں تک لائے اور صبح کی روشنی نمودار ہونے سے پہلے ہی اندھیروں میں گم ہوگئے۔ اس تاریخی کارروائی پر پارلیمنٹ کے ارکان کی اکثریت رنجیدہ ہے جو ایم این اے صاحبان میرے سامنے بیٹھے تھے وہ رنج والم کی حدود پھلانگ کر انتقام کے خواب دیکھ رہے تھے۔ ایک ایم این اے نے غضب ناک انداز میں کہا کہ یاد رکھنا ! کبھی ہمارا وقت بھی آئے گا ہم اس حکومت کے وزیروں کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے خوشامدیوں کے ساتھ بھی اپنا حساب برابر نہیں کریں گے بلکہ جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے اس سے کچھ زیادہ کریں گے۔ میں نے پوچھا کیا مطلب؟ کہنے لگے مانا کہ عمران خان کے دور میں مسلم لیگ (ن) والوں پر غلط مقدمے بنے اور انہیں جیلوں میں ڈالا گیا۔ مسلم لیگ (ن) والے بھی یہی کچھ کر لیتے تو حساب برابر ہو جاتا لیکن انہوں نے تو ہماری عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں بخشا بلکہ ہمیں پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر سے گھسیٹ گھسیٹ کر گرفتار کیا ہے۔ ہم انہیں سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ میں نے انہیں گزارش کی کہ آپ تو انتقام کے خواب دیکھ رہے ہیں اور بھول رہے ہیں کہ سپیکر ایاز صادق نے پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر سے گرفتاریوں کیخلاف کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔ لیکن تحریک انصاف کے ایم این اے صاحبان کا خیال تھا کہ یہ گرفتاریاں پولیس نے نہیں بلکہ نامعلوم افراد نے کی ہیں جن کے بارے میں سب کو معلوم ہے۔ انکا کہنا تھا کہ جو بھی ہو جائے، ان کیخلاف کارروائی نہیں ہو گی۔ انکا خیال تھا کہ اگر مسلم لیگ (ن) والوں نے برے انجام سے بچنا ہے تو پھر انہیں سب سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر 10 ستمبر کے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنی ہو گی جس کیلئے اسپیکر قومی اسمبلی کو اسلام آباد پولیس کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال قومی اسمبلی اور سینٹ نے توہین پارلیمنٹ کا ایک قانون منظور کیا تھا جس کے مطابق کسی رکن پارلیمنٹ کا استحقاق مجروح کرنے والے یا توہین کرنے والے شخص کو کم از کم 6 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس سزا کا فیصلہ پارلیمنٹ کی ایک خصوصی کمیٹی کرتی ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کو شامل کیا جائے گا۔ اس کمیٹی کو سول عدالت کے اختیارات حاصل ہوں گے اور وہ توہین پارلیمنٹ کے کسی بھی ملزم کو طلب کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اس کمیٹی کے سامنے جھوٹ بولنا بھی توہین پارلیمنٹ کے زمرے میں آئے گا۔ کمیٹی کے فیصلوں پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ذریعہ عملدرآمد ہو گا ۔اس کمیٹی کے فیصلوں کیخلاف اپیل بھی اسپیکر یا چیئرمین سینٹ سنے گا۔
ویگو ڈالے کے ناقد عمران خان ڈالے والوں سے ہی ڈیل کیوں چاہتے ہیں؟
حامد میر کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون موجود ہےتو پھر سپیکر قومی اسمبلی کو 10 ستمبر کے واقعے کی تحقیقات کیلئے پولیس کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں۔ انہیں چاہیئے کہ وہ توہین پارلیمنٹ کی کارروائی کیلئے کمیٹی بنائیں اور اپنے بنائے ہوئے قانون کو خود آزمائیں۔ ایک دوسرے کیخلاف انتقام کے خواب دیکھنےسے بہتر ہے کہ پاکستان کا معتبر ترین قانون ساز ادارہ اپنے بنائے ہوئے قانون پر عملدرآمد کرائے۔ مختصر یہ کہ 9 مئی 2023ء کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے زمہ داروں کو بھی سزا ملنی چاہئے اور 10ستمبر 2024ء کو پارلیمنٹ سے منتخب اراکین اسمبلی کو گرفتار کرنے والوں کو بھی سزا ملنی چاہئے ۔
