پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد روک دیا

حکومت اور سپریم کورٹ کھل کر آمنے سامنے آ گئے ہیں۔قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ مسترد کرنےکی قرارداد منظور کرلی ہے۔ بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی خالد مگسی کی پیش کردہ قرارداد میں تین رکنی بینچ کے بجائے فل کورٹ میں کیس کی سماعت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرار داد میں کہا گیا ہےکہ ایوان سیاسی معاملات میں بے جا عدالتی مداخلت پر اظہار تشویش کرتا ہے، حالیہ اقلیتی فیصلہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر رہا ہے، وفاقی اکائیوں میں تقسیم کی راہ ہموار کردی گئی ہے۔ قرار داد میں کہا گیا ہےکہ ایوان سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے ایک ہی وقت پر عام انتخابات کو مسائل کا حل سمجھتا ہے، ایوان تین رکنی بینچ کا اقلیتی فیصلہ مسترد کرتا ہے ، ایوان دستور کے آرٹیکل 63 اےکی غلط تشریح اور اسے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ذریعے ازسرنو تحریر کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہےکہ عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ اس پر نظر ثانی کرے۔
خیال رہے کہ ایک طرف تو وفاقی کابینہ کے بعد قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے وہیں دوسری طرف سپریم کورٹ کی جانب سے 14 اپریل کو پنجاب میں الیکشن کروانے کے حکم کی تعمیل پر وفاقی حکومت کی شدید اعتراض کے باوجود بدھ کے روز الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔الیکشن شیڈول جاری ہونے کے باوجود اب تک یہ واضح نہیں کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں انتخابات مقررہ وقت پر ہو پائیں گے یا نہیں۔ اس ابہام کی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے سامنے آنے والا یہ مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ اقلیتی فیصلہ ہے جس پر اطلاق حکومت پر لازم نہیں۔اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ’وزارت قانون نے رائے دی تھی کہ تین ممبر بینچ کا فیصلہ اقلیتی فیصلہ ہے اور چار معزز ججز کا فیصلہ اصل فیصلہ ہے جس کی رو سے سو موٹو نوٹس خارج تصور ہو گا۔‘
رانا ثنا اللہ کا کہناہےکہ ’کابینہ نے اس رائے کی منظوری اتحادیوں جماعتوں کے سربراہان سے لی ہے جہاں فیصلہ ہوا تھا کہ اس رائے پر پارلیمنٹ کی منظوری لی جائے۔‘’جب پارلیمان کی رائےآ گئی ہے تو اب اقلیتی فیصلےپر عمل نہیں کروایا جا سکتا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’کابینہ نے اپنے حتمی فیصلے کو پارلیمان کی رائے سے مشروط کیا تھا اور اب پارلیمنٹ سے قرارداد کی منظوری حکومت پر بائنڈنگ ہے۔‘ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’اگر تین ججز کا بینچ پوری پارلیمان کو گھر بھیجنا چاہتا ہے تو یہ بھی ہو جانا چاہیے۔‘تجزیہ کاروں کے مطابق وفاقی حکومت اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے اس اصرار کے باعث ناصرف الیکشن کے بروقت اور عدالتی احکامات کے تحت انعقاد پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے بلکہ حکومتی حکمت عملی کے باعث پارلیمان اور عدلیہ میں ایک نئی محاذ آرائی کا خدشہ جنم لے چکا ہے۔
تاہم اہم سوال یہ ہے کہ آیا حکومت کی جانب سے عدالتی حکم کے خلاف پارلیمانی قرارداد کا سہارا لینے کی حکمت عملی کو قانونی اور آئینی ماہرین کس نظر سے دیکھتے ہیں کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں متعدد بحرانوں کے باوجود اپنی نوعیت کا یہ الگ سا بحران ہے جس میں عدلیہ خود تقسیم کا شکار ہے۔
کیا حکومت پارلیمان کی مدد سے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد سے بچ سکتی ہے؟ اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر حکومت اس حکمت عملی کے تحت سپریم کورٹ کا حکم ماننے سے انکار کرتی ہے تو عدالت کے پاس کیا راستہ باقی بچے گا؟تاہم قانونی ماہرین بھی اس معاملے پر تقسیم کا شکار نظر آتے ہیں۔واضح رہے کہ حکومت کے مطابق الیکشن کا انعقاد ایک جانب تو آئینی معاملہ ہے تو دوسری جانب اس کے انعقاد میں مالی مسائل بھی رکاوٹ ہیں جبکہ ملک کی سکیورٹی صورتحال کو بھی بطور جواز پیش کیا جا رہا ہے۔اس معاملے پر جب سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’سپرم کورٹ کا حکم اس حد تک بائنڈنگ ہوتا ہے کہ اگر اس کو سپر سیڈ کرنا ہو تو صرف آئینی ترمیم سے کیا جا سکتا ہے۔‘
دوسری جانب سابق اٹارنی جنرل اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی عرفان قادر کا ماننا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے حکم کی حیثیت اس وقت ہوتی ہے جب وہ کسی قانون یا آئین کے تحت دیا جائے جبکہ یہ فیصلہ صرف تین ججوں کا ہے جن کو یہ آئینی اختیار ہی نہیں کہ وہ الیکشن کی تاریخ دیں۔‘جسٹس وجیہہ کے مطابق ’کسی عدالتی حکم کو، جو حتمی شکل اختیار کر چکا ہو، آرڈیننس یا ایکٹ سے بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔‘قومی اسمبلی کی قرارداد کی حیثیت پر بات کرتے ہوئے جسٹس وجیہہ کا کہنا تھا کہ ’آئین اور قانون میں اس طرح کی کوئی چیز نہیں، یہ ایک سیاسی عمل تو ہو سکتا ہے لیکن آئینی اور قانونی طور پر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔‘
جب جسٹس وجیہہ الدین سے حکومت کے اس موقف پر رائے لی گئی کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اقلیتی فیصلہ ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اقلیتی فیصلہ نہیں ہے۔‘’جب چیف جسٹس کی جانب سے بینچ کی دوبارہ تشکیل کے لیے تمام ججوں کے دستخط ہوئے تو اس کا مطلب ہے کہ پہلے کوئی حکم موجود نہیں تھا اور جب چیف جسٹس نے دوبارہ بینچ بنا دیا تو ایک نیا بینچ تھا جس کے بعد جو کچھ پہلے ہوا وہ ختم ہو گیا۔‘
جسٹس وجیہہ نے بحیثیت ایک سابق جج مؤقف پیش کیا تاہم جب عرفان قادر سے بات ہوئی تو ان کا مؤقف بلکل متضاد تھا۔عرفان قادر، جو اس مخصوص کیس میں الیکشن کمیشن کی نمائندگی بھی کر رہے تھے، کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے کی حیثیت تب ہوتی ہے جب وہ کسی قانون یا آئین کے تحت ہو۔‘’قانون اور آئین میں سپریم کورٹ کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ انھوں نے جو حکم دیا وہ ایسے ہی تھا جیسے پانامہ کیس میں نیب کو ریفرنس بنانے کا حکم دیا گیا۔‘عرفان قادر نے کہا کہ ’اس فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں۔‘ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر چوری کی سزا پینل کوڈ میں 13 سال ہے اور سپریم کورٹ کہتا ہے کہ 14 سال کی سزا دیں گے تو وہ سزا نہیں ہو سکتی کیوںکہ وہ مروجہ قانون کے تحت نہیں دی گئی۔‘
جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کرنا بہتر قانونی راستہ نہیں ہو گا تو ان کا دو ٹوک جواب تھا: ’نظر ثانی کی کوئی ضرورت نہیں، حکومت کو اس حکم کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔ سپریم کورٹ ایسا حکم دے ہی نہیں سکتی، یہ سپریم کورٹ کا نہیں، تین ججوں کا حکم ہے۔‘
اگر حکومت اپنے موقف پر قائم رہتی ہے اور پارلیمانی قرارداد کا سہارا لیتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد سے انکار کرتی ہے تو عدالت کے پاس کیا قانونی راستہ ہو گا؟جسٹس وجیہہ الدین کا ماننا ہے کہ ’عدالت نے ایسے معاملات میں ہمیشہ تحمل اور برداشت سے کام لیا ہے۔‘لیکن کیا یہ تحمل تمام تر سیاسی تنقید کے باوجود برقرار رہے گا؟جسٹس وجیہہ کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں جو لوگ باتیں کر رہے ہیں عدلیہ کے بارے میں، چیف جسٹس کے بارے میں، ان کو سنی ان سنی کر دیا جاتا ہے، اور یہی رویہ درست ہو گا۔‘
مگر سپریم کورٹ الیکشن کے انعقاد کو کیسے یقینی بنائے گی؟جسٹس وجیہہ کا کہنا تھا کہ ’اگر ضرورت ہوئی تو توہین عدالت کی کارروائی کی جا سکتی ہے جو صرف ان لوگوں تک محدود ہو گی جن کا الیکشن کے انعقاد میں کوئی براہ راست کردار ہے۔‘’جو متعلقہ بیوروکریسی کے سربراہان ہیں، جنھوں نے یہ سب کام کرنے ہوتے ہیں، ہو سکتا ہے عدالت ان تک محدود رہے۔‘
جب ان کے سامنے رانا ثنا اللہ کا یہ موقف رکھا گیا کہ سپریم کورٹ کو پوری پارلیمان کو گھر بھیجنا ہو گا تو ان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ ایسا نہیں کرے گی۔‘تو اگر حکومتی حکمت عملی قانونی اور آئینی دائرہ کار کے تحت نہیں تو اس کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟جسٹس وجیہہ الدین نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ سپریم کورٹ سے محاذ آرائی ہو تاکہ خود کو مظلوم ثابت کیا جا سکے اور اس کا سیاسی فائدہ اٹھایا جائے۔‘’میں نہیں سمجھتا کہ عدالت ان کو وہ موقع دے گی۔‘
